” برف کےشہر پر جلتا سورج”

اس برف کے شہر میں
تاروں کا سفر
منجمند ہو گیا
باادب چاند برف کی ٹھنڈک سے جما دکھائ دیتا ہے
چاند کو نیند نہیں آتی
خواہشوں کے گھروندوں پر
جلتا سورج طلوع ہوگا
برف کے پراسرار شہر میں
دھوپ ڈھلتی جا رہی ہے
اک کسک سی بکھرتی جا رہی ہے
اس برف کےشہر کی
میں برف سی لڑکی
کہ یہاں خواب بھی برف کے
خیال بھی برف کے
میری تمناؤں کے
سبھی پھول بھی برف کے
ان پھولوں کی خوشبو
ہواؤں میں جمی ہوئ ہے
روز وشب بھی
جم کے رہ گئے ہیں
میرے پروردگارا
جلتے سورج کی
چھٹی آنکھ کھول دے
کہ برف کی
تہوں سے
اک نیا شہر پھوٹے
جس میں کبھی بھی
برف کا موسم نہ آئے
برف کےچاند …ستارے
برف کےپھول
برف کےخواب و خیال
اور برف سے منجمند لڑکی
اپنی اصل صورت
میں واپس آجائے…..
                 زہراء بتول




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*