بقاء کا راستہ نظریے کا راستہ

تحریر : محمد عبداللہ اکبر

نظریہ کسی بھی قوم کا ایک بنیادی لازم ملزوم جز اور  حصہ ہوتا ہے
ہر قوم کسی نا کسی نظریے کی بنیاد پے کھڑی ہے
اور ہر قوم اس دنیا میں کسی نا کسی نظرے کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان کا قیام مسلمانوں اور ہندوﺅں کے درمیان صرف اور صرف نظریاتی تفاوت کی بنیاد پر ہوا۔ نظریہ پاکستان کی اساس دراصل نظریہ اسلام ہی ہے۔



اسی طرح پاکستان کا بھی ایک نظریہ اور وژن ہے
اور وہ نظریہ “لا إله إلا الله محمد رسول اللہ” ہے
اور سعودی عرب کے بعد پاکستان وہ ملک ہے جو اس نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا۔ قائداعظم نے بارہا اس حقیقت کا اظہار کیا کہ مسلمانوں اور ہندوﺅں میں نظریاتی فرق ہی دونوں اقوام کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا ہے۔ انہوں نے اس تفاوت کو نہایت سادہ اور مختصر الفاظ میں واضح کرتے ہوئے فرمایا ”اسلام اور ہندومت دو جداگانہ مذاہب ہی نہیں بلکہ دو مختلف سماجی اور معاشرتی نظام بھی ہیں“
یہ ایک ایسا نظریہ ہے جس کو قیامت تک بقاء ہے
تاریخ شاھد ہے جو بھی اس نظریے کے مقابلے میں میدان میں آیا ہے وہ پاش پاش ہوتا رہا ہے
پاکستان کو حاصل کرنے کے لیے اور اس نظریے کی بنیاد پر لاکھوں مسلمانوں نے ہندوستان سے ہجرت کی اور پاکستان آ کر آباد ہوۓ وجہ بس یہ ہی تھی کے پاکستان اس نظریے کا حامل ملک ہے جس نظریے کو ہر مسلمان اپنی دل و جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہے
ہمارا دشمن اس سرزمین پاک کا دشمن اپنے مکروہ عزائم کے ساتھ پاکستان کے خلاف میدان میں اترا
اور وہ جس تیزی کے ساتھ سامنے آیا اسی تیزی کے ساتھ وہ زمیں برد بھی ہوتا چلا گیا
دشمن نے اس سرزمین پاک کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا کیا نہیں کیا؟؟؟؟
اس نے اس سرزمین پاک میں اندرونی خانہ جنگی ،فرقہ واریت کا ناسور ، خودکش حملے ، شیعہ سنی جیسے فسادات ، اور سب بڑا فتنہ کے اس ملک میں جہاد کا نام لے کے تکفیر کو ہوا دینے کی کوشش کی
لیکن وہ ہر بار آیا اور ہر بار ہی ناکام و نا مراد ٹھرا
کیوں ؟؟؟



کیوں کے اس ملک میں رہنے والے لوگ ایک مضبوط اور مکمل نظریے کے حامل لوگ ہیں
جب بھی ایسا کوئی مسئلہ بنتا ہے تو اس وقت قوم یکجان اور یکقلب ہو کر دشمن کے خلاف ایک آہنی دیوار بن کے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔
کچھ دن پہلے میں سفر میں تھا اور میرے ساتھ ایک ریٹائر فوجی افسر بیٹھ گئے کیوں کے ان کی سیٹ کی بگنگ میرے ساتھ والی سیٹ کی تھی باتوں باتوں میں حالات کے بارے میں باتیں شروع ہو گئیں
کہنے لگے بیٹا ہمارے دور کی جنگوں اور آج کی جنگوں میں بہت فرق ہے
ہمارے وقت میں تو یہ ہوا کرتا تھا اگر کسی نے سرحد پر لڑائی کی تو ہم اپنا اسلحہ اٹھا کے اس طرف پاکستان کا دفاع کرنے نکل جایا کرتے تھے ہم نے دشمن کو اس میدان میں بہت مار ماری
اور جو آج کا دور ہے اور آج کی جنگیں ہیں وہ پہلی جنگوں سے زیادہ خطرناک ہیں
کیوں کے آج حملے سرحدوں پر نہیں نوجوان نسل کے نظریات پر ہو رہی ہیں بیٹا یہ بہت خطرناک جنگ ہے کیوں کے ملک ہمیشہ نظریات پے کھڑے ہوتے ہیں اور اگر کوئی قوم نظریہ بھلا دے یا ان جنگوں کا شکار ہو کر ان کے ہتھے چڑھ جائیں تو یہ نسلوں تک کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں
اور آج کے دور میں ان سرحدوں کا دفاع بہت ضروری ہے
ہندوستان غیر محسوس انداز میں پاکستان کی نئی نسلوں کے اذہان کو بدل رہا ہے تاکہ قیام پاکستان کے بنیادی مقصد سے روگردانی کی راہ ہموار کی جا سکے
اور کچھ لوگ انہی کے ہتھے چڑھ کے نظریہ پاکستان پر تقید کر رہے ہیں اور اس نظریے کو ماضی کا حصہ گردانتے ہیں
شائد وہ یہ بات جانتے نہیں کے قومیں ہمیشہ نظریات کی بنیاد پر وجود میں آتی ہیں اور نظریات پے ہی زندہ رہتی ہیں
نظریات جو نہیں تو قوم بھی نہیں
اس حوالے سے علامہ اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا ایک شعر یاد آ گیا کے
قوم مذھب ہے مذھب جو نہیں تم بھی نہیں
جذبہ باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں



لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر اتنی قربانیوں کے بعد حاصل کیے گئے پاکستان کو اب یہ لوگ ایک سیکولر ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح کا 8 مارچ 1944ءکا خطاب ہی کافی ہے۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے خطاب میں قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا:
”پاکستان اسی دن وجود میں آ گیا تھا جب ہندوستان میں پہلے ہندو نے اسلام قبول کیا تھا۔
بھارتی جارحیت کے نتیجے میں رونما ہونے والے سانحہ سقوط ڈھاکہ کے بعد سونیا گاندھی کے وہ الفاظ سب کو یاد رکھنے چاہیے کہ ہم نے دو قومی نظریے کو بحر ہند میں غرق کر دیا ہے۔ یہ صرف بیان نہیں تھا بلکہ دو قومی نظریے کو ختم کرنے کی سازش کی ایک کڑی تھی
بھارت ہر محاذ پر نوجوان نسل کے ذھنوں سے اس نظرئیے ک مسخ کرنے کے چکروں میں سرگرم ہے۔ ثقافتی، معاشی، سماجی، معاشرتی، علمی، ادبی غرض کوئی ایسا محاذ نہیں بچا، جس پر وہ نظریہ پاکستان کو مٹانے کی کوشش میں مگن نہ ہو۔ پاکستانی معاشرہ بھارتی فلموں کے زیر اثر ہے اور یہ سارا معاملہ ہمارے سامنے ہے کوئی بھی میدان ایسا نہیں جہاں پر بھارت پاکستان کو نقصان نہ پہنچا رہا ہو۔ ان حالات میں پوری قوم کو دو قومی نظریے کی اہمیت و افادیت بتا نا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر ”لا الہ الا اللہ“ کے نعرہ توحید کو لے کر ملک کے کونے کونے میں قیام پاکستان کے اصل مقصد کا پرچار کر رہے ہیں۔لیکن یہ دو چار لوگوں یا جماعتوں کے کرنے کا کام نہیں ۔ یہ سب کی ذمہ داری ہے۔ نئی نسلیں جو قیام پاکستان کی جدوجہد سے لا علم ہیںان کے سامنے پاکستان کا مقصد و اہمیت بیان کرنا ضروری ہے۔ نصاب تعلیم، تعلیمی اداروں، میڈیا ہر جگہ اس بات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کیوں بنایا گیا۔ کیا وجہ ہے کہ آج تک چار صوبوں کا ایک چھوٹا سا ملک دنیا کو ہضم نہیں ہو رہا۔ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔ اسی پر عمل پیرا رہنے سے قائم رہے گا۔ ہم پاکستان کی عمارت کو مضبوط رکھنے کے لیے جتنی اس کی بنیاد کی آبیاری کریں گے اتنی ہی یہ عمارت مضبوط ہو گی، ان شاءاللہ۔
آئیے ہم عزم کریں ہم اپنے نظریے کو اس نوجوان نسل کے ذھنوں سے کبھی مسخ نہیں ہونے دیں گیں
ہم ہر اس سازش کے سامنے ایک عفری چٹان ثابت ہوں گے جو اس نظریے کو مٹانے کے لیے اٹھے گی
اور ان سازشوں پر ہم ایسی کاری ضرب لگائیں گیں کے ایسی سازشیں اسی لمحے زمیں برد ہو جائیں گیں۔ ان شاء اللہ




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*