*تجدیدِ عہد کا دن*

*از قلم*
*عبدالواحد گدی پٹھان*

23 مارچ 1940 کا وہ یادگار دن جب مسلمانِ برصغیر نے لاہور کے مِنٹو پارک میں جمع ہوکر اپنے مستقبل کا اعلان کیا، اگر دیکھا جائے تو اس دن کی اہمیت نا صرف اس حوالے سے ہے کہ اس دن برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کیا بلکہ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ 23 مارچ کو منٹو پارک میں جمع ہونے والے لوگ الگ الگ علاقوں سے تعلق رکھتے تھے وہ رنگ و نسل اور زبان کے حوالے سے ایک دوسرے سے جدا تھے لیکن آج انکے یہاں جمع ہونے کی وجہ وہ عظیم رشتہ تھا جو تمام عالم اسلام کو ایک لڑی میں پروتا ہے،انہیں ایک دوسرے کے دکھ درد کا سانجھی بناتا ہے. وہ رشتہ وہ نظریہ لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ہے.

23 مارچ 1940 کو بھی یہ سب لوگ کلمے کی بنیاد پر اسلام کے رشتے سے اللہ اور اسکے رسول کی محبت میں جمع تھے، ان سب کے مطمع نظر بس ایک ہی بات تھی کہ اسلام کے رشتے سے اسلام کی نسبت سے ہم بھائی بھائی ہیں، ہم ایک قوم ہیں اور ہمیں اپنی قوم کیلئے ایک آزاد و خودمختار وطن درکار ہے، جہاں ہم اللہ اور اسکے رسول کے بتائے گئے قوانین پر عمل پیرا ہوسکیں جہاں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ اسلامی معاشرے کی پھر سے بنیاد رکھ سکیں، جہاں عدل ہو، مساوات ہو، محبت ہو، ایک ایسی ریاست ہو جو عالم اسلام کی ترجمان ہو، جو دنیا میں محکوم اقوام کی آواز بنے. یوں کہنا بھی بجا نا ہوگا کہ وہ سب غلامی کی زنجیریں توڑتے ہوئے مدینہ ثانی کی بنیاد رکھنے چلے تھے.




یہ دن اس حوالے سے بھی اہمیت کا حامل تھا کہ اس دن ہمارے بزرگوں نے فرسودہ نظریات اور ایک قومی نظریئے کو ہمیشہ کیلئے دفن کرڈالا، اور انگریز و برہمن سامراج پر یہ واضح کردیا کہ ہم  ایک الگ قوم ہیں جو کہ اپنی تاریخ اپنی تہذیب اور اپنا نظام حیات رکھتی ہے،ہم وحدہ لاشریک کو ماننے والے بھلا کیونکر سوا تین کروڑ خداؤں کے پجاریوں کے آگے سر جھکا سکتے ہیں، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے نظریات کا دفاع کیا، ہمارے اسلاف نے بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑائے، ہم نے دنیا میں عدل و مساوات قائم کی ہم نے روم و فارس کے جابرانہ نظام کو اپنے گھوڑوں کی سموں تلے روندا، ہم بھلا کیسے برہمن کی غلامی قبول کرسکتے ہیں، ہم یورپ کو تاریکیوں سے نکالنے والے بھلا کیونکر چانکیہ کے ٹھیکیداروں کے زیر تسلط زندگی گزاریں.
یہی سوچ یہی فکر تھی جو آج ان سب کو یہاں کھینچ لائی تھی کہ جس دھرتی پر ہم نے ساڑھے سات سو سال حکومت کی اسی سرزمین پر ہم کیسے بتوں کے پجاریوں کی غلامی میں رہ سکتے ہیں. ہم محمد بن قاسم و شہاب الدین غوری کے وارث کیسے پرتھوی راج و رانا سانگا کے چیلوں کے زیرِ سایہ رہ سکتے ہیں. اور اسی بنیاد پر ان سب نے متحد ہوکر  یہ نعرے بلند کئے کہ
*بٹ کے رہے گا ہندوستان لے کر رہیں گے پاکستان*
*پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ*
یہی نظریہ یہی فکر قیام پاکستان کی بنیاد بنا،اور قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم ہوئیں.




آج بقائے پاکستان کی خاطر بھی ضروری ہے کہ پھر سے اسلاف کے طریقے کو زندہ کیا جائے اور اتحاد کیساتھ نظریہ پاکستان کا دفاع کیا جائے۔
موجودہ حالات میں دشمنانِ پاکستان کیجانب سے نظریہ پاکستان پر حملے جاری ہیں تاکہ ابھرتے پاکستان کے سفر کو روکا جاسکے، ہم شاید اسکی اہمیت کا اندازہ نہیں رکھتے لیکن پاکستان کے دشمن بہتر طریقے سے جانتے ہیں کہ پاکستان کی ترقی کے سفر اور اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اسکی عوام کو بھانت بھانت کے نظریات علاقائیت، لسانیت و فرقہ واریت کا شکار کردیا جائے تاکہ وہ اپنے اتحاد کی علامت نظریہ پاکستان کو بھلا کر بھیڑوں کے منتشر ریوڑ کی مانند ہوجائیں۔
آئیے آج ہم پھر سے تجدید عہد کرتے ہیں کے نظریہ پاکستان کی بنیاد پر قوم کو یکجان کرکے اپنے اسلاف کی روایات کو زندہ کرینگے، اور اس مملکتِ خداداد کو عظیم سے عظیم تر بنائیں گے.




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*