اے محبت! تجھے خدا حافظ

ہائے! یہ کس طرح کا جزبہ تھا
رات دن جس نے مجھ کو تڑپایا
کبھی جی بھر کے مجھ کو خوشیاں دیں
اور کبھی درد بے شمار دئیے
کبھی اوڑھا دئیے سہانے رنگ
اور کبھی لمحے بیقرار دئیے
ان گنت خواہشوں کے خواب بُنے
بے بہا دھڑکنوں کو چلنے دیا
خوب ساری ہوا میں سانس لیا
خوب جھگڑے،ہزار باتیں کیں
ایک اِک پل مری محبت تھا
میری اُلفت تھا میری چاہت تھا
ایک بس اُس پہ اعتبار کیا
اُسکو چاہا اُسے ہی پیار کیا
اب ہوائوں نے رُخ جو بدلا ہے
جی میں آتا ہے الوداع کہہ دوں
ہاں بہت جی لیا تجھے میں نے
اے محبت! تجھے خدا حافظ
اے محبت! تجھے خدا حافظ

“منزہ سحر”




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*