23مارچ۔۔۔۔۔۔ 440الفاظ کی طاقت

تحریر: عبدالصبور شاکرؔ
پھلور، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ
 
سقوطِ غرناطہ کے بعد مسلمانوں کی تاریخ چوگان کی گیند کا منظر پیش کرتی ہے۔ جس کی کمان اُن ہاتھوں میں رہی ہے جنھیں اپنے گول بڑھانے کی فکر تھی، نہ کہ گیند کو چوٹ سے بچانے کی۔نتیجتاً اس زمانے میں امتِ مسلمہ سب سے زیادہ پِٹی۔زخم ابھی تک تازہ ہیں اور درد کی ٹیسیں بدن کو نڈھال کر رہی ہیں۔ یہ صدمہ کچھ کم نہ تھا کہ ترک ناداں نے خلافت کی قبا چاک کر ڈالی۔ رہی سہی طاقت ایسی ٹوٹی کہ سنبھلنے کا کوئی موقع نہ رہا۔شطرنج کی بساط پہ پھیلے مہرے آقاؤں کے اشاروں پہ ناچتے رہے اور کھانے والی اپنی پلیٹ کی جانب سب کو دعوت دیتی رہی۔ ہر ایک نے اپنا اپنا حصہ وصول کیا اور جسدِ واحد ساٹھ کے قریب ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔
 تاریخ الفاظ کا نام نہیں ہے۔ بل کہ یہ ان اشخاص، عوامل اور کرداروں کا نام ہے جو مخصوص حالات کے تحت ظاہر ہوتے ہیں۔البتہ یہ حالات الفاظ کے ہی مرہونِ منّت ہوتے ہیں۔ پھر یہ الفاظ جتنے مضبوط، اُجلے، نکھرے اور بامقصد ہوں گے، تاریخ اتنی ہی صاف ، روشن اور قابلِ فخر ہوگی۔ الفاظ کی پراگندگی، چُناؤ اور دوغلا پن تاریخ کو بھی گدلا، منافق اور قابلِ نفرت بنا دیتا ہے۔ 23 مارچ 1940ء مسلمانانِ برصغیر کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔جسے دو سو سالہ حالات نے مرتب کرنے میں مدد دی۔سقوط غرناطہ کے بعد یہ امید کی ایک ایسی کرن تھا جس سے ساری دنیا کے مسلمانوں نے استفادہ کیا۔ اس کے پسِ منظر میں ہندو قوم کے الفاظ سب سے زیادہ ممد و معاون بنے۔ جنھیں ہر اُبھرتا سورج یاددلا دیتا کہ مسلمان باہر سے آئی ہوئی قوم



ہے ۔ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے۔ ان کا ہر دوسرا لیڈر مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی باتیں کرتا۔شدھی ، سنگھٹن ، وندے ماترم اور مساجد گرانے کی باتیں ہوتیں اور مسلمانانِ برصغیر بیدار ہونے لگتے۔ دبانے کی جتنی کوششیں ہوتیں، اُبھرنے کے اتنے ہی مواقع پیدا ہو جاتے۔ 

تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت مسلمانانِ برصغیر نے مِل بیٹھ کر روز کی کِل کِل کا حل سوچا۔ قراردادِ لاہور کے چار سو چالیس الفاظ مرتب کیے۔ جو بجائے الفاظ کے 440کا کرنٹ ثابت ہوئے۔ جنہوں نے ہندوؤں کے سارے ارادے بھسم کر ڈالے۔ لیکن مسلمانوں کے لیے رحمت ثابت ہوئے۔ اہل برصغیر نے انھیں عملی جامہ پہنانے کے لیے تن من دھن کی بازی لگا دی۔ ثابت کر دیا کہ ارادے پختہ، حوصلے بلند اور عزائم جواں ہوں تو بڑی سے بڑی منزل پائی جا سکتی ہے۔ ان چار سو چالیس الفاظ نے امت مسلمہ کو نیا حوصلہ دیا۔ ناممکن کو ممکن میں بدل ڈالا۔ علاؤ الدین خلجی نے اٹھارہ سپاہیوں سے مل کر پورا بنگال فتح کر لیا تھا جب کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے سات سال کے عرصہ میں اپنے وقت کی ناقابل تسخیر طاقت اور شاطر ذہنیت کو شکست فاش دے دی۔ 
ہندو قوم مسلمانوں کے علاحدہ وطن بن جانے پر نالاں ہے۔انھیں استحضار نہیں کہ ایسا ہوا کیوں؟ اس کے اسباب کیا تھے؟ مسلمانوں کو یہ فیصلہ کیوں کرنا پڑا؟ آخر وہ کون سی وجوہات تھیں کہ اربوں روپے کی املاک، پچاس ہزار عفت مآبوں کی قربانی، ہزاروں معصوموں کا خون بہنا قبول کر لیا گیا؟ دو قومی نظریہ کیوں وجود میں آیا؟ دنیا کے سینکڑوں ممالک میں اربوں مسلمان رہائش پذیر ہیں لیکن کہیں بھی دو قومی نظریے کی بنیاد پر علیحدگی کی تحریک چلانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔اس کی وجہ صرف اور صرف ہندوؤں کی تنگ ذہنی اور مذہبی تعصب ہے۔ وہ مسلمان تو کیا اپنے ہی ہم مذہبوں کا جھوٹا پانی پینا



پسند نہیں کرتے۔ انھیں مسلمانوں کو بدیشی کہنے میں لذت محسوس ہوتی ہے۔ رام رام جپتے پیٹھ میں چھری گھونپنا، وہ اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ انھیں توحید کی صدائیں تکلیف دیتی ہیں۔ مساجد کے میناروں سے گونجتے اذانوں کے زمزمے ان کے کانوں میں سیسہ پگھلا دیتے ہیں۔ انھیں رب کی دھرتی پر نظامِ ربوبیت تکلیف دیتا ہے۔ وہ شیطان کے پجاری ہیں، آگ اور بت کے سامنے سربسجود۔ انھیں کیسے گوارا ہو سکتا ہے کہ نظام الہی کے ثمرات ہر کچے پکے گھر تک پہنچیں۔

اکابرینِ امت نے ایک فیصلہ کیا ’’ہمیں ایک ایسی تجربہ گاہ چاہیے جہاں ہم اسلامی اصولوں کو آزما سکیں۔‘‘ہندوؤں کے ساتھ رہنے میں ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔ حضرت قائد اعظم نے فرمایا: ’’ہمارا نصب العین یہ تھا کہ ہم ایک ایسی مملکت تخلیق کریں جہاں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہ سکیں، جو ہماری تہذیب و تمدن کی روشنی میں پھلے پھولے۔ جہاں اسلامی تصور کو پوری طرح پنپنے کا موقع ملے۔‘‘ انھوں نے فرمایا: ’’مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد صرف کلمہ توحید ہے۔ نہ وطن ہے نہ نسل ہے۔ ہندوستان کا پہلا فرد جب مسلمان ہوا تھا تو وہ پہلی قوم کا فرد نہیں رہا تھا۔ وہ ایک الگ قوم کا فرد بن گیا تھا۔‘‘ ان بزرگوں کی ان تھک محنت سے بالآخر وہ منزل حاصل کر لی گئی جس کے خواب سالہا سال دیکھے جاتے رہے۔ وطنِ عزیز پاکستان کی صورت میں جب یہ تجربہ گاہ بنا لی گئی تو خطرہ محسوس ہو ا کہیں اِسے غلط استعمال نہ کر لیا جائے۔ آنے والی نسلیں یہ نہ سمجھ لیں کہ ہمارے اکابر کا فیصلہ اسلام کا نفاذ نہیں بل کہ اپنی وزارتیں بانٹنے کے لیے تھا۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے حضرت قائدنے فرمایا: ’’میں چاہتا ہوں کہ آپ بنگالی، پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان وغیرہ کی اصطلاحات میں بات نہ کریں۔ میں مانتا ہوں کہ یہ اپنی اپنی جگہ وحدتیں ہیں، لیکن میں پوچھتا ہوں کہ آپ وہ سبق بھول گئے جو تیرہ سو سال پہلے آپ کو سکھایا گیا تھا؟‘‘ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنے اکابر کے دیکھے خواب کی تکمیل کر رہے ہیں یا اغیار کے ایجنڈے کی؟ کیا ہم نے وطنِ عزیز کو اسلام کی تجربہ گاہ بنا لیا ہے؟ کہیں ہم صراطِ مستقیم سے بھٹک تو نہیں گئے؟ کیا ہمارا سفر درست سمت میں جاری ہے؟ یا ہم نے منزل کھو دی ہے؟ سوچیے گا ضرور!!!




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*