یوم پاکستان ہمیں کیا پیغام دینا ہے؟

الیاس حامد
23مارچ 1940ء کو مسلمانان برصغیر نے اپنے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کا عزم صمیم کیا جسے وہ ایک عرصے سے شرمندئہ تعبیر کرنے کے لئے کوشاں تھے۔ اس وقت مسلمانوں کے جذبے، ایمان اور عزم کے سامنے ہمالیہ کی چوٹیاں بھی کوتاہ نظر آتی تھیں۔ مسلمانوں نے اپنے قائدین کی رہنمائی میں ہر رکاوٹ اور مشکل کو راستے سے ہٹا دیا جو منزل تک پہنچنے میں حائل تھی۔ یوں منزل اور مراد سامنے اس طرح دکھائی دینے لگی جیسے آفتاب روشن ہوتا ہے۔ مسلمانوں نے انگریزوں اور ہندوئوں کے جبروستم کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے بدر کی یاد تازہ کر دی۔ جب اہل ایمان اہل کفر کے سامنے قلیل، بے سروسامان، نحیف اور ناتواں تھے۔ اہل ایمان کے دلوں میں وہ ایمانی جذبہ اور قوت ارادی تھی جس کے سامنے کفار مکہ کا لشکر جرار تتر بتر ہو گیا۔ مسلمانوں نے اپنے رب کی نصرت اور تائید کے ساتھ غرور اور تکبر کے بت کو پاش پاش کر دیا۔ بے سروسامانی کے باوجود ایسے لشکر کو شکست فاش دی جو عدد، وسائل اور ٹیکنالوجی میں بہت بھاری تھا۔ یوں اہل ایمان مشرکین کے خلاف جیسے بدر میں کامیاب ہوئے، ایسے ہی برصغیر کے مسلمان صلیبیوں اور ہندوئوں کے مقابل سرخرو ہوئے۔ 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان منظور کر لی گئی جو خطہ ارضی کو حاصل کرنے کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی تھی اور جس سنگ میل نے منزل کی طرف رہنمائی کرنا تھی اور اس کے سات سال بعد اس منزل کو بھی پا لیا جس کا خواب مصور پاکستان علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔
23مارچ جسے یوم پاکستان کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ہمارے لئے ہر سال ایک پیغام لے کر آتا ہے۔ یہ دن ہمارے عوام اور حکمران دونوں کے لئے بہت اہم ہے۔ اس دن کا جو پیغام اہل پاکستان کے نام ہے کاش اسے ہم باور کر کے اپنے دل و دماغ میں بٹھا لیں پھر اس کی روشنی میں اپنا سفر جاری رکھنے کا عزم کریں تو یقینا ہم اپنے اجداد اور اسلاف کی ان قربانیوں کو ضائع ہونے سے بچا لیں گے جو انہوں نے یہ وطن حاصل کرنے کے لئے دی تھیں۔ اگر ہم حسب معمول اپنی زندگی کی مصروفیت او ربھیڑ میں گم ہو گئے جیسا کہ پون صدی سے کرتے آئے ہیں اور ہمارے بزرگ ہم سے پوچھ لیں کہ ہم نے جس مقصد کے لئے اتنی قربانیاں دی تھیں تم نے اس کی لاج رکھی؟ اور کیا اس مقصد کو آگے لے کر چلے؟ تو سوچئے ہمارے پاس کیا جواب ہو گا۔ ہمارے آباء نے اس وطن کو ’’لاالہ الا اللہ‘‘ کی خاطر حاصل



کیا۔ پاکستان کی تحریک اس نعرے کے گرد ہی گھومتی تھی کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الاا للہ‘‘ انہوں نے اپنے پیاروں کو اس لئے قربان کیا کہ اس وطن پاکستان کو لاالہ الااللہ کی جاگیر بنا سکیں۔ خاک اور خون کی ندیاں عبور کر کے یہ وطن بنایا کہ ہم اس میں اسلام کی عملی تصویر دیکھ سکیں۔ ریاست مدینہ کی طرز پر یہاں قال اللہ اور قال الرسول کا بول بالا ہو گا۔ اہل پاکستان اپنا اوڑھنا بچھونا شریعت اسلام کو بنائیں گے۔ یہاں اگر قانون سازی ہو گی تو وہ شریعت اسلامیہ کے تابع ہو گی۔ آئین کو اسی کے تحت بنایا جائے گا۔ یہ بات تو قابل اطمینان ہے کہ ہمارا آئین اور قانون شریعت کے تابع ہے مگر اس آئین کی عملی پاسداری ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان کا نام تو ہم نے اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھ لیا ہے مگر اس میں اسلامی قوانین کی عملداری نظر نہیں آتی۔ ہمارے حکمران جب بھی اقتدار میں آتے ہیں اپنی پارٹی، منشور اور ذاتی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر آئین میں ترمیم کرتے ہیں۔ اس کے لئے ان کی تیزی اور کارکردگی دیدنی ہوتی ہے مگر افسوس صد افسوس کہ لاالہ الااللہ کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لئے ان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان میں سود سے پاک معیشت کو جاری کرنے کا جو حکم سپریم کورٹ نے دیا تھا اس کو پس پشت ڈال کر سودی نظام معیشت کو جاری رکھا ہوا ہے یہ عمل براہ راست اللہ تعالیٰ سے جنگ کے مترادف ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ جس کی اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ ہو وہ بھلا کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔ وطن عزیز میں جو تھوڑا بہت دینی رجحان ہے اسے باقاعدہ طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔ بے دینی اور سیکولرازم کو عام کیا جا رہا ہے۔ ملک میں شرم و حیا کے کلچر کو اس طرح ختم کیا جا رہا ہے کہ لوگ اسے دقیانوسی نظریات پر محمول کرنے لگیں۔ اسلام کی بیٹی اگر اپنے سر پر دوپٹہ رکھتی ہے تو اس عمل کو معاشرہ معیوب سمجھتا ہے۔ میڈیا وار سے لوگوں کی اس طرح ذہن سازی کی جا رہی ہے جیسے پردہ اور عفت و عصمت دور حاضر کے تقاضوں کے منافی ہے۔ مذہب اور دین سے وابستگی کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان عناصر کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جو وطن عزیز میں حیا اور پردے کے کلچر کو مختلف انداز میں ختم کرنے کے درپے ہیں۔ اس سلسلے میں مغربی ایجنڈوں کو ملک میں امپورٹ کیا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی طرف سے ایسی ڈیمانڈز کی جاتی ہیں جو ہماری مذہبی اور دینی ثقافت کے منافی ہیں۔ ہمارے حکمران امداد کے نام پر بھیک مانگتے ہیں اور اغیار کے ایجنڈوں کو ملک میں نافذ کرتے ہیں۔ یہ ایجنڈے اس نعرے کے مخالف ہیں جو 23مارچ 1940ء کو لگایا گیا تھا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ‘‘ یوں پاکستان کو لاالہ الااللہ کی جاگیر بنانے کے بجائے مغربی جاگیر بنانے کے لئے ہمارے حکمران مستعدی سے مصروف عمل ہیں۔ اس طرح وہ ہمارے آبائواجداد کی ان قربانیوں کو کس بے دردی سے ضائع کرنے کے درپے ہیں جو انہوں نے اس وطن کی خاطر دیں اور ہمیں ایک اسلامی ریاست بنا کر دی۔
انفرادی طور پر بھی ہر ایک پاکستان کے باسی کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے وجود پر لاالہ الااللہ کو نافذ کرے۔ حکمران اگر ذاتی مفاد کی خاطر اس مقصد سے دور ہیں تو ہم بحیثیت فرد تو اس کو پورا کر سکتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ انفرادی حیثیت سے اسلام کے اصول و قوانین پر عمل کرنے پر پابندی نہیں ہے۔ ہر شخص اپنے آپ تک مکلف ہے اور اپنی جان ہی کا جواب دہ ہے۔ ہم اگر آج سے عزم صمیم کر لیں کہ ہم اپنے بزرگوں کے اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے اپنی ذات سے آغاز کرتے ہیں، لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کے عملی تقاضوں کو اپنے طور پر پورا کریں گے، اپنی بساط کے مطابق اس پیغام کی دعوت دیں گے جو پیغام ہمیں یوم پاکستان سے حاصل ہوتا ہے تو حکمران کفار کو راضی کرنے کے لئے جتنی چاہیں پالیسیاں بنا لیں کامیاب نہیں ہوں گے۔ کل اگر اللہ نے پوچھ لیا کہ تمہارے آباواجداد نے پاکستان کو لاالہ الااللہ کی جاگیر بنانے کے لئے اپنی جان و مال اور عفت و عصمت سب قربان کر دیا، تم نے کیا کیا ہے؟ تو ہم کم از کم اتنا تو کہہ سکیں کہ اپنی ذات کی حد تک ہم اپنی کوشش کر آئے ہیں۔ اللہ ہمیں اس پیغام پر چلنے کی توفیق دے، پاکستان کو لاالہ الااللہ والا خوشحال اور مستحکم پاکستان بنائے اور ہم سے اس مقصد کے لئے زیادہ سے زیادہ کام لے۔ (آمین




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*