قومِ غافل کی غفلت وہی ہے

تحریر:۔ ملک شفقت اللہ
اسباب سے نشانیاں واضح ہو چکی ہیں ، دنیا اس وقت آخری جنگ عظیم کے دہانے پر کھڑی ہے اور اس میں کوئی دورائے نہیں کہ مسلمان بھی دنیاوی لذتوں اور خباثتوں میں محو ہو کر اپنا مقصد بھول چکے ہیں ۔ جو بونا ہے وہ کاٹنا پڑے گا ، لیکن شاید اللہ تعالیٰ کو لفظ مسلمان اور اس کے آخری نبی ﷺ کی امت سے محبت ہے اس لئے ابھی تک ہمیں قدرتی عذاب سے بچائے رکھا ہے ، لیکن ہمارے پاس اتنی بھی طاقت نہیں رہی کہ اپنی طرف للکارتے دشمن کو قوت بازو سے روک سکیں ۔ بازو تو اب رہ ہی نہیں گیا ، واقعی آخری جنگ عظیم غزوہ ہند کہلائے گا اور معجزات ہی ہونگے وگرنہ ہم نے تو کوئی ایسی کثر نہیں چھوڑی کہ خود کو تباہ و برباد نہ کر لیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم پر چار فتنے آئیں گے ، پہلے فتنے میں خون ریزی کو حلال سمجھا جائے گا ، دوسرے فتنے میں خون اور مالوں کو حلال سمجھا جائے گا ، تیسرے فتنے میں خون ، مال اور شرمگاہوں کو حلال سمجھا جائے گا اور چوتھا فتنہ بہرا ، اندھا اور سب پر چھا جانے والا ہو گا ، وہ سمندروں کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا حتیٰ کہ لوگوں میں کسی ایک کیلئے بھی اس فتنے سے بچنے کا کوئی ٹھکانہ نا ہوگا ۔ یہ فتنہ ملک شام میں پھرے گا اور عراق کو ڈھانپ لے گا اور جزیرہ عرب کو اپنے ہاتھ اور پاؤں سے روندڈالے گا ۔ یہ ترتیب آقائے ﷺنامدار نے دورِ فتن کے دوران آنے والے فتنوں کے بارے میں بتائی ۔ اس دور فتن کے آخر میں ایک بہت بڑی جنگ ہے جس میں حق کی فتح اور اسلام کا غلبہ ہے ۔آپﷺ نے جو نشانیاں بیان کیں وہ اپنے اسباب سے واضح ہو چکی ہیں ہم آخری فتنے کی زد میں آچکے ہیں جو ابھی آغاز میں ہے ، شام اور عراق کو ڈھانپ چکا ہے ، اس وقت یہودیوں کی فوج غوطہ کے مسلمانوں اور سیریا کے مسلمانوں سمیت ساری دنیا میں مسلمانوں کیلئے زمین تنگ کر چکی ہے جبکہ مسلمانوں پر ہونے والے اس ظلم پر ہم آنکھوں سے اندھے اور کانوں سے بہرے ہیں ، عرب کو بھی روند چکا ہے یہ فتنہ




جب شاہ فیصل کو اس کے اپنے نے قتل کیا تھا حالانکہ اس نے مسلم ممالک کا اتحاد بنانے کیلئے انتھک محنت کی تھی ، معمر قذافی اور صدام حسین کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا گیا کیونکہ انہوں نے مسلم ممالک کو ایک کرنے کا سوچا تھا ، آج یہودی قوتیں ہم پر حاوی ہو چکی ہیں ، دجال کا ظہور قریب ہے اور ہماری کوئی بھی تیاری نا ہے ۔ ایک دفعہ سعودی عرب کے شاہ فیصل نے جب سوچا کہ وہ یورپی یونین سے بائیکاٹ کر کے تیل کا کاروبار اپنی کرنسی میں کریں گے اور خود عالمی مارکیٹ میں بیچیں گے تو اسرائیلی لابی نے ان کے ہی خاندان سے ایک شخص کو حکومت کا لالچ دے کر بغاوت پر اتارا اور شاہ فیصل کا قتل کروا دیا ، اسی طرح جب سے دولت اسلامیہ عراق و شام بنی تو ان کے خلاف ریاستی ہتھکنڈہ استعمال کر کے شام کی حکومت کا تختہ پہلے الٹایا گیا پھر وہاں اپنا خریدا ہوا مال بٹھایا گیا اور اب اس کیلئے وہاں اتنی جانوں کا خون بہایا جا رہا ہے جبکہ عراق میں تعصب کو ہوا دے کر وہاں کے معصوم لوگوں کا قتل کیا جا رہا ہے اور بنے پھرتے ہیں امن کے پجاری ۔ معمر قذافی مارا گیا ، شاہ فیصل کا قتل ، شامی صدر کا قتل ، عراقی صدر کی پھانسی کے بعد اب عرب ممالک میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ امریکہ اسرائیل کو آنکھیں دکھا سکے اور میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی ملک میں اتنی ہمت نہیں اور اس کی بڑی وجہ ہے Petro Dollar ۔ پیٹرو ڈالر کی اصطلاح پیٹرول کا کاربار عالمی سطح پر ڈالرز میں ہونے کیلئے استعمال کی جارہی ہے ، اس وقت چائینہ ، روس ، جاپان ،ترکی جیسے تمام ترقی یافتہ ممالک پیٹرو ڈالر کے ہاتھوں مجبور ہیں اور وہ اس سے انحراف بھی نہیں کر سکتے ۔ انحراف کرنے کا ایک نتیجہ تو اس وقت تمام مسلم ممالک بھگت رہے ہیں کہ جب بھی ڈالر کی ملکیت سے انحراف کیا گیا وہیں جنگ کی آگ میں جھونک دیا گیا یہی وجہ ہے کہ اس وقت سعودی عرب جیسے مضبوط تیل کے کاروباری لوگ بھی ڈالر سے بغاوت کرنے سے ڈرتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں میں سے ایک غدار موجود ہے جو کبھی بھی انہیں مار سکتا ہے ، سعودی عرب میں گزشتہ دنوں میں ڈھیر سارے شہزادوں کو کرپشن کے الزام میں نظر بند کرنا بھی اسی کی ایک کڑی تھی



کہ شاہ کو اپنی جان کے لالے تھے ، اقوام متحدہ کے تمام ممالک اس وقت ڈالر کے زیر سایہ جینے کو مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں ، سعودی عرب اور یو اے ای سمیت تمام ریاستیں جنکا کا انحصار تیل کے کاروبار پر ہے ایک دن کا جھٹکا بھی نہیں برداشت کر سکتیں جبکہ چین جس میں خود ٹریلین ڈالر پڑے ہیں اور اگر آج وہ ڈالر کا انکار کریں تو سڑک پر آ جائیں ، اور جب تک ڈالر چلے گا امریکہ اور اسرائیل کی عالمی بالادستی بھی قائم رہے گی ، یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے مسلم دنیا خوموش ہے اور صرف بیان بازیوں تک ہی مذمت کر سکتے ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو امریکہ کے پاس کرنسی شائع کرنے کے 18 فیصد سے بھی کم اثاثے ہیں جبکہ اس کا ڈالر ساری دنیا میں گردش کرتا ہے ۔ اگر تمام اسلامی مماک سب سے پہلے یہ قدم اٹھائیں کہ امریکہ کو کہیں کہ ہم سے ڈالر لے لو اور ہمیں اس کی جگہ سونا ، چاندی وغیرہ کچھ بھی دے دو ، اور آئندہ تجارت و کاروبار زرکثیف کی صورت ہوگا نا کہ ڈالرز میں تو میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ چوبیس گھنٹوں میں امریکہ اور اسرائیل کی مصنوعی بادشاہت زمین بوس ہو جائے گی ۔ اس وقت عالمِ اسلام میں اتحاد کی ضرورت ہے ، رب کی ذات کے سوا کوئی بھی بڑا نہیں ، تمام جنگیں اور قتل و غارت اپنی کمزوری کی وجہ سے ہے ، خود کو ٹھیک کر لیں تو دشمن کو آنکھیں دکھانا اور چت کرنا آسان ترین کام ہے ۔ مولانا حالیؒ نے خوب فرمایا:
پر اس قومِ غافل کی غفلت وہی ہے
تنزل پہ اپنے قناعت وہی ہے
ملے خاک میں رعونت وہی ہے
ہوئی صبح اور خوابِ راحت وہی ہے




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*