گمنام مگر نامور ہیرو

کیپٹن احسان ملک
ایک ایسا ہیرو پاک فوج کا جس کا تا ریخ میں کہیں بھی زکر نہیں ہے مگر اپنی بہادری اور جواں مردی سے دشمن کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے کہ دشمن بھی تعریف کئے بنا نہ رہ سکے ۱۹۷۱کی جنگ میں جب بھارتی فوج نے بنگلہ دیش میں پاکستانی فوج کو شکست دی تو مانک شاہ اس وقت چیف آف آرمی سٹاف تھے ۔انھوں نے پاک فوج کے نڈر اور بہادر بیٹے کے بارے میں اس وقت بتایا جب ان کو ٹی وی انٹرویو کے لئے ۲۸ جولائی ۱۹۹۹کو بلایا گیا جب کرن تھاپران سے سوال کیا کے آپ کو کتنا کریڈٹ جاتا ہے یہ جنگ جیتنے کا کیونکہ پاکستانی فوج نے وہ بہادری نہیں دیکھائی جن کی توقع تھی ان سے فیلڈمارشل مانک شاہ کیپٹن احسان ملک کی تعریف کئے بنا نہیں رہ سکے اور کہا یہ بات غلط ہے کہ ہم آسانی سے یہ جنگ جیت گئے ہیںپاکستانی فوج بڑی بہادری سے لڑی اگرچہ اس کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں تھاکیونکہ وہ اپنے مرکز سے ہزاروں میل سے دور جنگ لڑرہے تھے۔جب کہ ہم اپنے مرکز سے آٹھ نو میل دور تھے



ایک پاکستانی فوجی کے مقابلے میں میرے پاس پندرہ فوجی تھے پاکستانی کسی صورت یہ جنگ نہیںجیت سکتے تھے تھاپر نے فیلڈمارشل سے سوال کیا کیا یہ سچ ہے کہ ایک پاکستانی بہادر فوجی نے احسان ملک نے کومان پل کے مخاز پر اتنی بہادری دیکھائی کہ جنگ جیتنے کے باوجود آپ نے اسے ایک خط لکھا ہے اور اسے خراج تحسین پیش کیا ہے اُس کی بہادری اور اُس کے ناقابلِ یقین لڑنے پر مانک شاہ نے کہا کہ یہ بات بلکل سچ ہے کہ ہماری فوج ڈھاکا کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی اور یہ جوان ہماری فوج کے آگے دیوار بن کے کھڑا ہو گیا اور ہماری فوج کو مشکلات میں مبتلا کر دیا ہمارے ایک زوردار حملے کو اپنی حکمت عملی سے پسپا کردیادوسرے جوابی بھرپور حملے کے باوجود ہماری فوج کو ایک انچ آگے نہیںبڑھنے دیاجان توڑ تیاری کے بعد تیسرے حملے میںہمیںکامیابی حاصل ہوئی۔نانک شاہ نے کہا میں بڑا حیران وپریشان تھا کہ آخر اتنی بڑی بھارتی فوج کے حملے کے سامنے کون تھا جو شکست ماننے کو تیار نہ تھا تب ینہں بتایا گیا کہ ایک کیپٹن احسان ملک تھا جس نے اکیلے انہیں روکے رکھا ارو بھارتی فیلڈمارشل نے ان کی بہادری پر انہیں خط لکھا ایسے ایسے نامور دلیر جانباز ہیرو گزرے ہیں کہ دشمن بھی تعریف کئے بنا نہیں رہ سکے ہیں
کیپٹن احسان ملک اُن میں سے ایک ہیں جن کے کارنامے کو کوئی نہیں جانتا تھا مگر اُن کی بے مثال جرائت نے انہیںدشمن کی زبان سے سب سے روشناس کروایا وہ شہید ہوئے کہ غازی یہ کوئی نہیں جانتا اُن کی بہادری ان کی پہچان بن گئی ۔
آس آمید۔۔۔ آسیہ پروین سپیشل پرسن گوجرانوالہ




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*