محبت

(ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم )
ارے سوال اس کی محبت کا ہرگز نہیں تھا
بات اس کے تقاضوں کی تھی تو چھوڑ دیا

اس نے بات بات پہ مجھے رسوا کیا
پہلے پہل میں نے اسے اپنا کہنا چھوڑ دیا

میں بھی صاحب کردار ہی تھا محبت سے پہلے
اس ایک بات سے کہانی نے نیا موڑ لیا

پھر بدنام ہونے لگا عشق گلیوں میں
مصلحت کا تقاضا تھا تعلق توڑ لیا

رقیبوں میں وجہ شہرت میری یہ تھی
معصوم تھا ترس کھا کر ناطہ جوڑ لیا

بس ارے اب اور عشق نہیں سہہ جاتا
اس نے اپنا راستہ میں نے راستہ اور لیا

  www.knowledge4learn.com




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*