تم نہیں چارہ گر۔۔۔۔۔۔۔

ڈی بریفنگ/شمشاد مانگٹ

مسلم لیگ (ن) نے بیک وقت دو تدبیروں پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ ایک تدبیر پر میاں نواز شریف اور مریم نواز اپنے ’’جتھے‘‘ کے ساتھ گامزن ہیں جبکہ میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان دوسری تدبیر پر عمل کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتے کی راہیں تلاش کررہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو یقین ہے کہ وہ اپنی ’’دو عملی‘‘ کے ذریعے کوئی نہ کوئی بچائو کا راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔
مسلم لیگ (ن) کی باہمی نورا کشتی کو میاں شہباز شریف اور میاں نواز شریف کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ یہ اسی نورا کشتی کا کمال ہے کہ میاں شہباز شریف خود کو اداروں کا بڑا حامی بنا کر پیش کررہے ہیں اور چوہدری نثار علی خان نے بھی گزشتہ روز اپنا ’’رازِ دل‘‘ بیان کرتے ہوئے میاں نواز شریف کو اداروں کے ساتھ نہ لڑنے کا مشورہ دیا ہے اور اسٹیبلشمنٹ سے بھی استدعا کی ہے کہ کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جائے جو دونوں فریقوں کیلئے قابل قبول ہو۔پاکستانی نظام حکومت کا سب سے بڑا جبر یہی رہا ہے کہ یہ وہ کام وہ کسی دوسری سیاسی جماعت نے کیا اسے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے کھلم کھلا ’’حرام‘‘ قرار دیا جبکہ وہی کام جب بھی مسلم لیگ (ن) نے کیا اس کو ہر ایک نے ’’حلال‘‘ سمجھ کر خاموشی اختیار کرلی۔
چوہدری نثار علی خان میاں نواز شریف کیلئے کسی ایسے راستے کی تلاش میں ہیں جو ان کی ’’عزت محفوظ‘‘ کر سکے لیکن جب پیپلزپارٹی نے اس وقت کے حاکم پرویز مشرف سے این آر او (مفاہمتی سمجھوتہ) کیا تھا تو پوری مسلم لیگ (ن) نے اس پر شور شرابہ کیا اور عدلیہ نے سپورٹ کرتے ہوئے اس این آر او کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔



مسلم لیگ (ن) کے اندر یہ پختہ سوچ موجود ہے کہ سیاسی انارکی کو بڑھتا دیکھ کر مقتدر حلقے ’’جیو اور جینے دو‘‘ کی پالیسی کو تسلیم کرلیں گے اور میاں نواز شریف کو اپنے ’’نامئہ اعمال‘‘ سمیت بریت کا سرٹیفکیٹ مل جائے گا اور اس سرٹیفکیٹ پر میاں نواز شریف سیاست نہ بھی کر سکے تو یہ محترمہ مریم نواز کے کام ضرور آجائے گا۔ اعلیٰ عدالتوں کی جانبداری کا عالم یہ ہے کہ میاں نواز شریف اور محترمہ مریم نواز نہ صرف جلسوں میں عدالتوں کا ’’ٹھٹھاہ‘‘ اڑا رہے ہیں بلکہ اب تو ’’ترازو‘‘ کا تماشہ بھی دکھانا شروع ہوگئے ہیں۔
سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ اس پر مکمل خاموش ہیں کیونکہ ان عدالتوں میں ایسے ججوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو ’’سلسلہء رائیونڈ‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی سب ’’ کرامات ‘‘بھی اسی ’’سلسلہ‘‘ سے منسلک ہیں۔گزشتہ روز موجودہ حکومت میں ریلوے کو 7 ارب روپے کے خسارے سے دو چار کرنے والے تقریباً ’’پراپرٹی ڈیلر‘‘ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے اپنی شعلہ بیانی میں کہا ہے کہ عدالتوں کو سیاست میں لانے کی عمران خان نے گھٹیا روائت کو جنم دیا ہے۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) عدالتوں کے ذریعے سیاست کی ’’بانی‘‘ شمار ہوتی ہے۔ جسٹس نسیم حسن شاہ مرحوم سے لے کر جسٹس (ر) افتخار چوہدری تک عدالتوں سے سیاسی کام لینے کی ایک طویل داستان مسلم لیگ (ن) کے ماتھے کا ’’جھومر‘‘ قرار دی جاسکتی ہے۔
سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کونسی سیاسی نوازش ہے جو شریف برادران پر نہیں کی؟ میاں شہباز شریف وزارت اعلیٰ کے عہدے سے نااہل ہوسکتے تھے لیکن افتخار محمد چوہدری نے پورے 5 سال تک انہیں حکم امتناعی کے ذریعے وزارت اعلیٰ کی ’’موجیں‘‘ کرنے کا پورا پورا موقع فراہم کیا۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ’’دور انصاف‘‘ میں ججز گیٹ سے انٹری کا پورا پورا حق رکھتے تھے ان کے علاوہ صرف سپریم کورٹ کے جج صاحبان ہی یہ گیٹ استعمال کیا کرتے تھے۔



وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان مسلسل ’’بیچ کا راستہ‘‘ تلاش کررہے ہیں اور اگر اس بار پھر مقتدر حلقوں نے دو سال کی کھوج کے بعد ملنے والے تمام ثبوتوں کے صندوق ’’سیاسی مارچری‘‘ میں رکھ کر کنڈی مارنے کی کوشش کی تو یہ عوام کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوگا۔ بے دریغ احتساب اور بلا امتیاز احتساب کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے اس کو روک کر اگر چوروں اور لٹیروں کو ’’محفوظ راستہ‘‘ دے دیا گیا تو پھر اس ملک کا نظام اگلے 70 سال بھی ٹھیک نہیں ہوسکے گا۔ ہمارے مسائل کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ چوروں اور لٹیروں کو قانونی چھتری دے کر بار بار لوٹ مار کے مواقع دیئے گئے اور نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پوری قوم صاف پانی سے بھی محروم ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیئے تھا کہ نیب کی سفارش پر وزارت داخلہ نے شریف فیملی کا نام ای سی ایل میں کیوں نہیں ڈالا؟ اور عام ملزموں کے نام فوری ڈال دیئے گئے۔ اعلیٰ عدالتوں نے اگر عام اور ’’اہم‘‘ ملزمان کو ایک ہی صف میں نہ کھڑا کیا تو پھر حبیب جالب کے چاہنے والے یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے:
’’دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لیکر چلے
وہ سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستو رکو‘ صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا ‘ میں نہیں جانتا
تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا‘‘
#/s#
٭٭٭٭٭




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*