آدمی کو آدمی کے ہاتھ مروایا گیا

مصلحت کا جب کہیں بازار سجوایا گیا
ہم انا کیشوں سے اس جانب نہ پھر جایا گیا

 اور پھر وہ محل آثار قدیمہ ہو گئے
جب محبت کو پس دیوار چنوایا گیا

خواب دکھلائے گئے اور خاک اڑوائی گئی
زندگی کے نام پر کیا رقص کروایا گیا

نام پھر اشراف نے اس کا طوائف رکھ دیا
وہ جسے نوچا گیا تھا جس کو نچوایا گیا

پھر خداءوں نے بھی خاموشی سے وحشت اوڑھ لی
آدمی کو آدمی کے ہاتھ مروایا گیا

شعیب بخاری




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*