IAM NOT MALLALA

تحریر: عبدالہادی قریشی ، عرفان آباد ترامڑی اسلام آباد


ملالہ یوسفزئی کا نا اُترنے والا بخار ہر حکومتی فرد کے سر پر بُری طرح سوار ہوچکا ہے ملالہ یوسفزئی نے پاکستان کے لیئے میری تحقیق کے مطابق کچھ نہیں کیا اس لڑکی کو سوات میں صرف ایک گولی لگی غیر ملکی حکومتوں نے اور میڈیا نے اس کو بے انتہا چڑھا کر نوبل انعام جو کہ دنیا کا سب سے بڑا انعام ہے وہ تک دلوا دیا ملالہ یوسفزئی نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ میرا آئیڈیل جس شخصیت نے مجھے متاثرکیا وہ بارک اُوبامہ ہے سابق امریکی صدر سے یہ لڑکی متاثر ہوئی اور اُسے اپنا آئیڈیل بنا لیا معاملہ صرف یہی تک نہیں رہا اس لڑکی نے دراڑھی کا بھی مذاق اُڑایا اور اس لڑکی کے بیانات و تقاریر سے یہ ثابت کرنا مشکل نہیں کہ یہ اسلام و ملک دشمن یہودیوں کا ایک جاسوس مہرہ ہے ملالہ



یوسفزئی کو ہمارا فارغ العقل الیکٹرانک میڈیا بھی بڑھا چڑھا کر دیکھا رہا
ہے ملالہ کے قصیدے پر کرپٹ سیاسی بندہ پڑھنے میں مصروف ہے میرے نظریات کے مطابق
ملالہ یوسفزئی ایک عام سی پاکستانی لڑکی ہے جب وہ باہر ملک سے 6سال بعد پاکستان آئی
اُسے پروٹوکول کیوں دیا گیا ؟ ایک عام لڑکی چاہے وہ جتنا مرضی پڑھ لکھ لے وہ وزیر اعظم یا صدر سے مل بھی نہیں سکتی سچ بات یہی ہے کہ اقتدار کا نشہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ لمبے لمبے نعرے وعدے کرنے والے سیاسی لیڈر
بچاری عوام کو دھتکار دیتے ہیں حکومت پاکستان کی طرف سے ملالہ ڈے منانے کا اور ملالہ کے نام سے ایک
یورنیوسٹی بنانے کا کہا گیا تھا لیکن پورے پاکستان کے پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے IAM NOT MALLALA
کادن منانے کافیصلہ کیا ہے پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے یہ فیصلہ ملالہ کو حد سے زیادہ پروٹوکول دیئے جانے پر کیا ہے
ملالہ یوسفزئی سے اچھا ہوتا ڈاکٹر عافیہ صدیقی جو ہماری قومی بہن اور قوم کا فخر ہیں اُن کو ملک میں واپس لایا جاتا




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*