تحفہ

آزاد نثری نظم

اسکی محبت کے بدلے میں بہت سے تحفے میں نے بھیجے تھے
وفا
خلوص
ایثار
انسیت
قربت
جزبوں کی سرشاری
پاکیزگی محبت کی
بدلے میں اس نے
ہجر مجھکو بھیجا ہے
یہ کیسا تحفہ ہے؟
سب کچھ تو دے چکی ہوں
اب کچھ تو لوٹانا ہے
رسم تو نبھانا ہے
ہجر کے بدلے میں کیا تجھ کو لوٹائیں ہم
ہاں
ایک خاموشی ہی باقی ہے
اسکو تم سنبھال رکھنا کھو نہیں دینا
یہ بہت کام آئےگی
دنیا کے میلے میں
تم سا کوئ جوتم کو مل جائے
محبت کے بدلے میں ہجر تم کودے جائے
اور دل تمھارا درد سے بھر جائے
کوئی تدبیر غم کا مداوا نا کر پائے
بے چینیاں گھیر لیں
کسی پل چین نا مل پائے
پھر اس خاموشی کو تم اوڑھ لینا
درد کے سمندر میں قہقہے بکھیر دینا
سمجھ کے درد کو میرے
آنسو مت بہانا تم
خاموشی سے ساتھ میرا نبھانا تم
چھپ کے ساری دنیا سے
اس درد مشترکہ میں ہم دونوں جی لیں گے
تنہائیوں کے کرب کو دونوں مل کر سہ لیں گے

سیدہ زرنین مسعود



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*