یاد ماضی

آزاد نثری نظم
آؤ آگ کی باتیں کریں
ملکر پیار کی باتیں کریں
وہ جو کسی دور میں ہوتا تھا
آج اس دور کی باتیں کریں
کبھی شبنمی صبحیں
کبھی سرمئی شامیں
بھیگ کر جزبات میں
برسات کی باتیں کریں
گرمیوں کی دوپہریں
کبھی سرد راتیں
بھول کر عمررفتہ کو
چاندنی رات کی باتیں کریں
تھا قصور تیرا یاپھر میرا
زندگی دونوں کی ہوئی بسر تنہا
زندگی کی لو ہوگئی مدہم
بجھنے کو ہے اب یہ دیا
بھول کے سب شکوے
آکہ مل بیٹھیں کہیں
عمر رفتہ سے نکل کر
عمر گزشتہ کی باتیں کریں
کٹ جائیں گے دن جو باقی ہیں
باہم جو پیوستہ کی باتیں کریں
سیدہ زرنین مسعود



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*