افغانستان قندوز مدرسے پر بمباری محصوم بچوں کی  شہادت 

تحریر = عنایت اللہ رگام
قندوز میں ختم حفظ قرآن، صحیح بخاری کے تقریب دستار بندی پر امریکی بمباری سے محصوم بچوں کے اندوہناک، دل دہلا دینے والے سانحے ،ان بچوں کی شہادت ان کے والدین، بہن، بھائیوں سے پوچھا جائے ان پر کیا بیت رہی ہے یہ تو افغانی بچے ہیں دنیا خاموش، دکھاؤ کی مذمت کر رہے ہیں یہ واقع کسی اور ملک میں رونما ہوتا، بین الاقوامی برادری، بین الاقوامی میڈیا ایک صف میں کھڑے ہو کر آسمان کو سر پر اٹھا لیتے ضرور کچھ نہ کچھ کرتے یہ تو معصوم افغان ہیں امریکی دہشتگردی کا شکار ہو رہے ہیں عوامی اجتماع پر پہلا واقعہ نہیں چند دن پہلے جنازے پر بمباری سے بیسویں افراد لقمہ اجل بن گئے عالمی دنیا خواب خرگوش میں سوتا رہا، امریکی کی جانب سے دوسرا دہشتگردی کے واقعہ میں 100 سے زیادہ معصوم بچے ان کے اساتذہ کرام، والدین جام شہادت نوش فرما گئے سینکڑوں زخمی زیست و موت کی بیچ میں زندگی گزار رہے ہیں امریکہ کیوں پاگل پن کا مظاہرہ کر رہا ہے چند مٹھی بھر دنیا مافیہ سے بے پرواہ دنیا کے سپر پاور کو للکار رہے ہیں ان کے ساتھ بر سرے پیکار ان کے غرور تکبر کو خاک میں ملا دیئے ہیں جب بھی نیٹو فوجی اپنے بیروکوں سے باہر نکلتے ہیں ان پر تابڑ توڑ حملے کر دیتے ہیں ان ہی چند مٹھی بھر لوگوں نے افغانستان کے زیادہ تر علاقے پر قابض ہیں جہاں بمباری ہوئی ہے امریکہ ان کے اتحادی افواج کے زیر کنٹرول علاقے میں نہیں، امریکہ ان کے اتحادی جس جنگی دلدل میں پھسے ہوئے ہیں افغانستان کی سرزمین وہ سرزمين ہے طاقتور قبضے کے نیت سے آئے ہیں نیست و نابود ہوئے ہیں دنیا کے عظیم فاتح سکندر اعظم افغانستان میں امن وامان قائم کرنے میں ناکام رہا ہے امریکہ اس کے اتحادی جنگی دلدل سے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں لیکن کامیابی کہاں مزید پھنستے چلے جا رہے ہیں باؤلے کتے کی مانند جو چیز سامنے آجاتا ہے ان کو دشمن سمجھ کر صفہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کر رہا ہے جو اس حد تک آجائیں ایسا سمجھیں وہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے کہاوت ہے سانپ کا ڈھسا رسی سے ڈرتا ہے مجاہدین نے ان کو اتنے کمزور کر چکے ہیں جنازے میں شریک بے گناہ افراد، محصوم طالب علموں کے مذہبی اجتماع میں شریک معصوم طلبا دہشت گرد، مدارس دہشت گردی کے کیمپ نظر آ رہے ہیں عالمی برادری ان کے حکومتیں امریکہ کے سپر پاور ہونے سے انکاری نہیں جن ممالک کے تعلقات امریکہ سے خوشگوار ہیں ان کے حکمران خوشی میں بغلیں بجاتے ہیں اپنے عوام میں فخریہ انداز میں کہتے ہیں ہمارے تعلقات دنیا کے طاقتور ترین ملک سے اچھے ہیں دنیا بھر کے حکمرانوں کے خواہشات ہیں ہماری تعلقات



دوستانہ ہو، امریکا وہ ملک ہے اپنی مفادات کی خاطر کچھ ممالک کے ساتھ بہترین سفارتی تعلقات استوار کرتا ہے جہاں ان کے مفادات نہ ہو بلاجواز اپنے تعلقات ختم کرنے، ان کو رگڑنے کی کوشش کرتا ہے امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے نہ وہ دوست کو چھوڑتا ہے نہ دشمن کو معاف، سب کو رگڑتا رہتا ہے 1979 میں سوویت یونین کی فوج افغانستان میں داخل ہوا امریکہ کو افغانستان میں مداخلت، سوویت یونین سے بدلہ لینے کا موقع ملا، جب امریکہ نے ویتنام میں اپنی فوج بھیج کر مداخلت کرنا شروع کی سوویت یونین نے ویت نامیوں کی سپورٹ کی، ویت نامی قوم کے سربراہی فیڈرل کاسترو کر رہا تھا ویت نامیوں نے ایسی سبق سکھائی دنیا کی کسی قوم نے ایسی طاقتور ملک کو نہیں سکھایا ہے امریکہ سوویت یونین سے حساب برابر کرنے کا انتظار تھا افغانستان میں حساب برابر کرنے کا موقع ملا، اپنا حساب برابر کی خوب برابرکی، سوویت ٹکڑوں میں بٹ گیا، یہ موقع ڈاکٹر نجیب اللہ کی وجہ سے آئی افغانستان کے اندرونی حالات خراب تھے نجیب اللہ نے سوویت یونین کو اپنے مدد کیلئے بلایا، امریکہ کو مداخلت کا موقع مل گیا، امریکہ نے دنیا کو خاص کر اسلامی ممالک کو باور کرانے کی کوشش کی سوویت یونین افغانستان میں نجیب کی مدد کو نہیں ان کی نظریں گرم پانیوں بحر عرب ساحل گوادر پر لگی ہوئی ہے اسلامی ممالک میں لاکھوں مجاہدین تیار کیئے گئے اپنا بدلہ لینے کے بعد مجاہدین کو اپنے حال پر چھوڑ دیا اقتدار کے حصول کیلئے مجاہدین آپس میں دست و گریباں ہوئے پروفیسر برہان الدین ربانی صدر، انجنیئر گلبدین حکمتیار وزیراعظم، احمد شاہ مسعود وزیر دفاع رہے یہ آپس میں لڑ رہے تھے بیت اللہ کے اندر معاہدہ کیئے، پھر بھی لڑتے رہے  وزیراعظم ایک دفعہ کابل نہیں گیا، اچانک طالبان نمودار ہوئے آنا فاناً قندھار سے اٹھے کابل تک پہنچ گئے، افغانستان کا واحد علاقہ وادی پنچ شیر رہ گیا تھا اس کے قریب پہنچے تھے نائن الیون کا واقعہ ہوا امریکہ نے الزام القاعدہ اس کے سربراہ اسامہ بن لادن پر لگایا ان کے حوالگی کا مطالبہ کردیا، امیرالمؤمنین عمر مجاہد کے انکار پہلے امریکہ نے بمباری کی پھر چھڑائی کی، ان کو معلوم نہ تھا افغانستان پر قبضہ کرنا آسان، قبضہ کو برقرار رکھنا آسان نہیں آج دلدل میں پھنس چکا ہے بچے، بوڑھے، خواتین ان کو دہشت گرد نظر آ رہے ہیں بے گناہوں کے خون، بد دعائیں امریکہ کو ایسے جانے نہیں دیں فاتحانہ انداز میں نکلے جشن منائے، اب شکست ان کی مقدر میں لکھی ہوئی ہے




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*