دھرناسیاست !یا پھر کچھ اور نقطہ نظر

تحریر: عبدالہادی قریشی، عرفان آباد ترامڑی اسلام آباد
جمہوریت کا حُسن و دلکشی اسی میں ہے کہ ہرفرد سیاسی رہنماؤں پر تعریف و تنقید کا حق رکھتا ہے کیونکہ جو شخص اپنے پسند کے لیڈر کو جنرل الیکشن میں ووٹ دیتا ہے وہ اُس کی تعریفیں خود بھی کرتا اور دوسروں سے بھی سُننا پسند کرتا ہے مگر تنقیدی پہلوبھی اسی سیاست میں بہت اہمیت رکھتا ہے وہ اس طرح سے کہ ضروری نہیں کہ جو شخص اپنے لیڈر کی آراء و نظریات سے اتفاق رکھتا ہو اُس لیڈر کو دوسرے سے
اچھا سمجھیں اور اُن کے خیالات سے متفق ہو جائیں ایسا ضروری نہیں لیڈرز پر تعریف اور تنقید اگر نہ ہو تو جمہوری حکومت ملک میں نہیں ہوسکتی لیکن آمریت ہوگی جمہویت میں لیڈر عوامی نمائندہ ہوتا ہے
کیونکہ اُسے جو اقتدار ملتا ہے جو عوام کے قیمتی ووٹوں سے ملتا ہے
پاکستان کے حالات پُرامن اور پرسکون ہوتے ہیں کہ کچھ شرپسند عناصر پاکستان کے امن و سکون و تباہ و برباد کرنے کی بھرپور کوششیں کرنا شروع کر دیتے ہیں کوئی نئے پاکستان کا نعرہ بلند کرکے عوام کی بہنوں ، بیٹیوں کو اپنے جلسے میں رقص کروا کر نئے پاکستان کا علمبردار بنتا ہے تو کوئی روٹی ، کپڑا اور مکان کا جھوٹا نعرہ لگوا کر عوام الناس سے قیمتی ووٹوں کو حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہوا دیکھائی دیتا ہے میرے نظریات کے مطابق جب سے پاکستان بنا سے اور اب تک پاکستان میں ایسا کوئی لیڈر نہیں آیا جو کہ صرف عوام الناس کے فائدے و مفاد کی بات کرے اور اقتدار مل جانے کے بعد بھی
عوام الناس ہی کے حقوق کی بات کرے ابھی حال کی خبریں ہیں کہ حالات پاکستان کے اب کوئی
مذہبی جماعت خراب کرنے کے در پہ ہے پاکستان کے حالات امن و سکون والے ہیں کچھ شرپسند




طاقتیں یہ نہیں چاہتی کہ حالات پاکستان کے اچھے رہیں اور کوئی مارا نہ جائے کسی بے گناہ کا خون نہ
بہے میرے نظریات کے مطابق جنرل الیکشن 2018جون یا جولائی میں انعقاد پذیر ہوگے الیکشن
کمیشن کی جانب سے تو ایک خاص دینی جماعت جو کہ ملک کے لوگوں کو شہید کروا کر لوگوں کو جیلوں
میں بھیجوا کر رسول اللہ ﷺ کے عاشق بننا چاہتے ہیں یہ جماعت میرے نظریات کے مطابق 2017میں آئی تھی فیض آباد راولپنڈی مگر اب دوبارہ رسول اللہ ﷺ کا مقدس و پاک نام لیکر
میدان عمل میں اُتر آئے ہیں میرے نظریات کے مطابق یہ دینی جماعت 2018جنرل الیکشن میں
فتح یاب ہونے کے لیئے تیاریاں کر رہی ہے اور دھرنے دیئے جارہے ہیں رسول اللہ ﷺ کی
ایسی کوئی تعلیمات نہیں کہ سڑکوں اور چوکوں پہ بیٹھ کر عوام الناس کو اذیت دی جائے
ملک پاکستان میں جس کا جب دل چاہتا ہے دھرنا سیاست شروع کر دیتا ہے کوئی نئے پاکستان کا نام
لیکر سڑکوں پر آجاتا ہے کوئی انقلاب کا داعی بن کر چند ہزار لوگوں کو شہید کروانے کے لیئے نکل آتا ہے کوئی رسول ﷺ کا نام لیکر سڑکوں پر آجاتا ہے میرے خیالات کے مطابق اگر کسی نے نیا پاکستان بنانا ہے کوئی پاکستان میں انقلاب لانے کا خواہشمند ہے تو جنرل الیکشن میں ووٹیں حاصل
کرے عوام الناس کے مسائل کو حل کرے اور عوام الناس سے جنرل الیکشن میں ووٹیں حاصل کرکے اقتدار میں آئے تب وہ پارٹی الیکشن جیتنے کو نیا پاکستان کہے ، انقلاب یا رسول اللہ ﷺ کا دین تخت پر آیا جو مرضی کہتی پھرے عوام الناس کو ہر سیاسی فرد بے وقوف بنانے میں دن رات مصروف ہے
عوام الناس بغیر سوچے سمجھے اِن لوگوں کے پیچھے چل پڑتی ہے




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*