ایک ٹیچر، ایک کتاب، ایک کاپی، ایک قلم 

قسط 3
تحریر = عنایت اللہ رگام
بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی تباہ و بربادی کی جو صورت حال ہے سب کے سامنے ہے اسکولوں میں اساتذہ نہ ہونے سے سینکڑوں اسکولیں بند ہے دوسری طرف 80 سے 90 فیصد دیہی اسکولوں میں ایک ایک ٹیچر ہے سال کے 365 دنوں میں سالانہ تعطیلات موسم سرما، قومی تعطیلات، اتوار، عیدیں، اتفاقیہ رخصت اور دوسرے تعطیلات کی وجہ سے سال میں کم از کم 212 دن سرکاری اسکولیں بند 153 دن  کھلے رہتے ہیں 153دن میں ایک ٹیچر، چھ کلاس 31 مضامین، 769 اسباق، 3669 صفحات، روزانہ کچی جماعت کو ایک گھنٹے میں حروف تہجی، الفائیٹ، گنتی، روزانہ آدھے گھنٹے تفریح، تفریح کے بعد روزانہ ایک گھنٹے تختی لکھائی، املا، چیک، پہاڑا، روزانہ 20 منٹ اسمبلی ،دنیا میں کوئی بھی دانا نہیں نادان، عقلمند نہیں بے عقل، خواندہ نہیں ناخواندہ بتائیں ایک ٹیچر یہ تمام کام ان کے بس کی بات ہے بغیر سوچے سمجھے کہے گا ہرگز نہیں،
اب فوری طور پر کیا کرنا چاہیئے اس کا حل کیا ہے ہاں اس کا حل ہے حکومت کو کروڑوں روپے کی بچت ہو گی تعلیمی نظام میں بہتری آئیگی ایک ٹیچر باشوق سے بچوں کو پڑھائے گا ایک بچہ شوق سے پڑھے گا نصاب نہ پڑھانے والے پر بوجھ ہوگا نہ پڑھنے والے پر، درسی کتب زیادہ ہونے سے طلبا اپنے سبق یاد نہیں کر سکتے ہیں سبق یاد نہ ہونے، اساتذہ اور والدین کے ڈانٹ پڑنے کی وجہ اپنے ہم جماعتوں کے سامنے شرمندگی کی وجہ سے بچے اکثر اسکول کو خیر باد کہہ دیتے ہیں درسی کتب بوجھ ہونے سے ڈرافٹ آوٹ میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ڈرافٹ آؤٹ کی روک تھام، زیادہ درسی کتب کے بوجھ کم کرنے کیلئے محکمہ تعلیم میں رائج پالیسوں کو بدلنا از سر نو  پالیساں بنانا ہو گا اس کا حل یہ ہے ہمارے درسی کتب ہمارے ماحول کے مطابق ہونا چاہیئے کچی سے پانچویں جماعت تک مربوط نصاب ہو جو درسی کتب اسکولوں میں پڑھائے جا رہے ہیں اس میں کیا ہے ایک نوجوان سے پوچھا ہاں بیٹا کیا کرتے ہو جی میٹرک کا امتحان دے رہا ہوں دوسرا سوال تھا عقل سے نقل سے، جی دونوں، پھر تیسرا سوال تھا ایک فقرہ بتاؤ جو سبق آموز ہو کہا اس وقت میں میرے زھن میں کچھ نہیں آ رہی ہے یہ سوال کسی بھی  طالب علم سے کیا جائے  اس کا جواب یہی ہو گا میرے ذھن میں اس وقت کچھ انہیں آ رہا ہے درسی کتب میں نہ معلوماتی، نہ سبق آموز اسباق ہے نظم ہو یا نعت،،



ریاضی میں ایسی مشقیں ہیں نہ پڑھانے والے کو معلوم ہے جو میں پڑھا رہا ہوں بچوں کو ان سے کیا فائدہ ملے گی نہ بچوں کو معلوم ہے جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں ان سے کیا فائدہ ملنے والی ہے ریاضی میں وقت برباد کرنے والے مشقی سوالات ہیں رومن عددی علامات، اردو عددی علامات، ذواضاف عقل، عاداعظم، بذریعہ تقسیم، چھوٹی، درمیانی، بڑی بریکٹ، مختصر ترین وغیرہ وغیرہ یہ سب وقت ضیاع کرنے، دنیا بھر میں اسکولوں میں بچوں علم سکھایا جاتا ہے بچے علم حاصل کرتے ہیں ہمارے ہاں میں گدھا، کتے سکھایا جاتا ہے تصویر کو بچے کو دیکھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں بچو اس کو آپ اپنے مادری زبان میں کیا کہتے ہو بچے بتاتے ہیں  بیش، حر، دوسرے پیریڈ انگریزی، بچو آپ جانتے ہو یہ کس جانور کا تصویر ہے جی نہیں بچو اس کو Donkey ہیں تیسرے پیریڈ اردو کا ہوتا ہے پھر یہی سوال کرتے ہیں پھر خود جواب دیتے ہیں اس کو گدھا کہتے ہیں ہمیں علم دینے کے بجائے گدھا، کتے سکھاتے ہیں یہ ہمارا نظام تعلیم، سعودی عرب ہمیں دو لٹر پٹرول دیتے ہیں یہاں عربی لازمی ہے امریکہ ہمیں سود پر ڈالر دیتے ہیں بین الاقوامی زبان کے نام انگریزی لازمی ہے اردو قومی زبان ہے سی پیک کے نام پر سڑکیں بن رہے ہیں جلد یا دیر ہمارے اسکولوں میں درسی کتب میں چینی زبان لازمی شامل کیا جائے گا چلو اس بحث کو چھوڑ دیتے ہیں اصل موضوع کی طرح آتے ہیں مربوط درسی نصاب،
کچی سے پانچویں تک ہر جماعت کے مربوط نصاب ہو، ہر جماعت کا ایک مربوط درسی کتاب (Book) ہو مثلاً کچی سے تیسری جماعت تک کتاب کا پہلا حصہ مادری زبان، دوسرے حصے میں اردو، تیسرے حصے میں انگریزی، چوتھے حصے میں حساب ہو جو اسباق مادری زبان میں ہیں وہی اردو اور انگریزی میں ہو چوتھی سے پانچویں تک اردو، معاسرتی علوم، سائنس، اسلامیات، کے چیدہ چیدہ اسباق کو چن کر ایک مربوط درسی کتاب ہو جتنے اسباق اردو میں ہے ان کا ایک مربوط درسی انگریزی، ایک مادری زبان کا کتاب ہو ریاضی کا علحیدہ ایک کتاب ہو اردو، انگریزی، مادری زبانوں کے سوالات ایک جیسے ہو اعلی سے پنجم تک درسی کتب میں  سوالات، معروضی سوالات، الفاظ معنی، واحد، جمع، مزکر، مونث، ہم آواز،الفاظ متضاد جملوں میں استعمال ہو بچوں کے نالج میں اضافہ ہو گا بچے تینوں زبانوں، اردو، انگریزی سیکھ سکیں گے بچے شوق سے پڑھیں گے استاد شوق سے پڑھائیں گے
چھٹی سے دھم تک تین سے چار کتاب ہو مطالعہ پاکستان، سائنس، اردو، انگریزی اسلامیات کے اسباق کو چن کر ایک کتاب بنایا جائے پہلا حصہ اردو، دوسرے حصے میں اسلامیات، تیسرے حصے میں مطالعہ پاکستان، چوتھے حصے میں سائنس ہو انگریزی اور ریاضی کا علحیدہ کتاب ہو عربی کو ختم کیا جائے، ڈرائنگ اختیاری ہو امتحانات میں اس کا کوئی پرچہ نہ ہو،
نہم، دھم میں فزکس، کیمسٹری، بیالوجی ایک کتاب ہو پہلا حصہ فزکس دوسرا حصہ کیمسٹری، تیسرا حصہ بیالوجی کا ہو
آرٹ گروپ میں اسلامیات اختیاری، سائنس، آرٹ کو ختم کیا جائے،




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*