تم اتنے مطمئن کیسے ہو صاحب

تم اتنے مطمئن کیسے ہو صاحب
میرا جسم ہی نہیں روح بھی جل رہی ہے
لگا تھا میلہ جواپنوں کا
وہاں سے کچھ آگ ہم نے سمیٹی تھی
نئی منزلوں کی جستجو میں
زمانے کی خاک ہم نے سمیٹی ہے
مگر وہ سب تو لعل و جواہر نکلے
زمانے نے پتھر جو ہم پر اچھالے تھے
کبھی کسی سے دل جو تم نے بہلایا تھا
آج وہاں پر کھڑی تمھاری بیٹی ہے
خود کو قابل احترام جو سمجھو
تو عزت دو جو نصف بہتر بنا کر بھیجی ہے
جنم دینے سے کوئی ماں نہیں بنتی
اصل میں مکمل ماں ہر ایک بیٹی ہے

سیدہ زرنین مسعود




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*