مامون کا انصاف

تحریر عبدالواث ساجد

خلیفہ ہارون الرشید کا شمار دنیا کے عظیم ترین بادشاہوں میں ہوتا ہے اس کے دو بیٹے امین اور مامون بھی تاریخ میں اسی شہر ت کے مالک ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے عظیم المرتبہ باپ کو عطاء کی تھی۔
ہارون الرشید نے امین اور ماموں کی تربیت ، اعلیٰ پیمانے پر کی تھی۔ اس تربیت کا اثر تھا کہ انہوں نے اپنے اعلیٰ اخلاق اور شاندار عمل کی بدولت دنیا میں ناموری پائی ۔
خلیفہ ہارون الرشید کے انتقال کے بعد امین اور مامون میں تخت و تاج کے لیے کشمکش شروع ہوگئی۔ اس میں کچھ درباری امین کے حامی تھے اور کچھ مامون کے۔ ہارون کا وزیر فضل اس کشمکش میں امین کے ساتھ تھا، شروع شروع میں کامیابی نے امین کے قدم چومے۔ لیکن بالآخر مامون کے اقبال کا ستارہ چمکا تو فضل مامون کے خوف سے کہیں جا چھپا، مامون چاہتا تھا کہ جس طرح بھی ممکن ہو فضل کو تلاش کروائے۔ آخر اس نے یہ کام اپنے پرانے خدمت گار شاہک کے سپر د کیا۔ آقا کا حکم پا کر شاہک، فضل کی کھوج میں لگ گیا۔ اس نے اور بہت سی تدبیروں کے علاوہ ایک تدبیر یہ کی کہ فضل کو پکڑلانے والے کے لیے ایک ہزار دینار کا انعام مقرر کیا۔ لیکن فضل کہیں ایسی جگہ چھپا تھا کہ کوئی اس کا کھوج نہ لگا سکا۔



اس بات کو چار سال گزر گئے۔ فضل جا بجا چھپتا پھرتا رہا۔اسے ایک جگہ چھپے ہوئے بہت دن گزر گئے تھے۔ وہ گوشہ نشینی اور تنہائی کی زندگی سے اکتا کر باہر نکل آیا۔ اس نے سار بانوں کا بھیس بدلا اور ایک جھول کندھے پر ڈال کر ایک طرف کو چل پڑا کہ کسی نئی جگہ جا کر چھپ جائے۔ فضل سڑک پر سے گزررہا تھا کہ مامون کی فوج کے دو سپاہی اس طرف آنکلے۔ ان میں سے ایک پیدل تھا اور دوسرا گھوڑے پر سوار ۔ پیدل سپاہی نے فضل کو پہچان لیا اور سوار سے کہا کہ وہ دیکھو فضل جارہا ہے۔ سوار یہ سن کر بہت خوش ہوا اور فضل کا پیچھا کرنا شروع کردیا۔ وہ آہستہ آہستہ فضل کے قریب پہنچ گیا۔ اس وقت فضل نے اپنے کندھے پر پڑی ہوئی جھول اٹھا کر دوسرے کندھے پر ڈال لی۔ جھول کے ہلنے سے گھوڑا بدک گیا اور سوار کو زمین پر گرا کر بھا گ گیا۔
سوار کے سنبھلتے سنبھلتے فضل تیزی سے ایک طرف کو نکل گیا۔ سامنے ہی ایک مکان کا دروازہ کھلا نظر آیا۔ جھانک کر دیکھا تو بڑھیا بیٹھی تھی فضل نے اس سے کہا۔ ’’اماں! میں بڑی مصیبت میں ہوں مجھے چند روز کے لیے اپنے گھر میں چھپالو تو تمہارا بڑا احسان ہوگا۔‘‘ بڑھیا کو فضل پر رحم آگیا۔ اس نے فضل کو اندر بلالیا اور کہا۔ ’’اوپر والی کوٹھڑی خالی ہے ۔ جا کر وہاں چھپ جائو۔‘‘ فضل کو ٹھری میں جا کر گھساہی تھاکہ وہی سوار جسے اس کا گھوڑا گرا کر چلا گیاتھا۔ بڑھیا کے مکان میں داخل ہوا اور بڑھیا سے بولا۔ ’’کیا بتائوں آج تو سونے کی چڑیا ہاتھ سے نکل گئی۔ میں نے فضل کو پکڑ ہی لیا تھا لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ میرا گھوڑا بدکا اور مجھے گرا کر بھاگ گیا اور میرے سنبھلتے سنبھلتے فضل کہیں بھاگ گیا۔ چاروں طرف دیکھا کہیں نظر نہیں آیا۔ سمجھ نہیں آتا کہ زمین کھاگئی یا آسمان ۔ ‘‘
فضل نے سوار کی بات سنی توبہت گھبرایا۔ اس ڈر سے کہ سوار کو اس کی موجود گی کا علم نہ ہوجائے۔ اپنی سانس رو کنے کی کوشش کی ، اس کوشش میں چھینک آگئی، سوار نے چھینک کی آواز سنی تو بڑھیا سے پوچھا کہ اندر کون ہے۔ بڑھیا نے جواب دیا۔ ’’میرا بھتیجا ہے ، برسوں کے بعد واپس آیا ہے ، راستے میں ڈاکو مل گئے، انہوں نے بیچارے کا سارا سامان چھین لیا۔‘‘
سوار نے کہا۔ ’’اسے میرے سامنے لے آئوتاکہ حالات جان کر میں اس کی کچھ مدد کر سکوں۔‘‘
بڑھیا نے کہا۔ ’’ابھی بلاتی ہوں ، لیکن غریب نہ جانے کب سے بھوکا ہے، تم اتنی تکلیف کرو کہ میری یہ انگوٹھی کسی کے پاس گر و ی رکھ کر، اس کے کھانے کے لیے، بازار سے کچھ خرید لائو۔‘‘
سوار نے انگوٹھی لی اور بازار کی طرف چل دیا۔ ادھر بڑھیا تیزی سے فضل کے پاس پہنچی اور بولی۔ ’’کیا تم وہی فضل ہو جس کی گرفتاری کے لیے ایک ہزاردینار کا انعام مقرر ہوا ہے ؟‘‘ فضل نے کہا۔ ’’ہاں…میں وہی بدنصیب ہوں۔‘‘ فضل کی بات سن کر بڑھیا نے اس سے کہا۔ ’’دیکھو ! تم نے ہماری باتیں سن لیں، میں نے سوار کو دھوکے سے بازار بھیجا ہے، اگر خیریت چاہتے ہوتو اس کے آنے سے پہلے کہیں بھاگ جائو۔‘‘



فضل نے بڑھیا کی بات سنی تو کوٹھڑی سے نکل کر باہر آگیا۔ اب حیران تھا کہ کدھر جائے اور کہاں چھپے۔ آخر ایک طرف کو چل پڑا۔ چلتے چلتے ایک عالی شان مکان کے پاس پہنچا۔ تیز ی سے چلتے چلتے تھک گیا تھا۔ اس لیے سوچا تھوڑی دیر اسی مکان کے سائے میںآرام کر لے۔ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز سنائی دی۔ فضل ڈرا کہ معلوم نہیں یہ سوار کون ہیں، کہیں مجھے پہچان کر گرفتار نہ کر لیں۔ یہ سوچ کر جلدی سے مکان کے آدمی ڈیوڑھی میںداخل ہوا۔ ادھر سوار اسی مکان کے دروازے کے سامنے آکر رک گئے ۔ فضل نے سمجھ لیا کہ اب جان کی خیر نہیں، بے چارا سانس روک کرکھڑا ہوگیا۔ اتنے میں ایک ڈیوڑھی کے اندر داخل ہوا۔ فضل پہچان گیا۔ ارے یہ تو شاہک ہے۔ شاہک نے بھی پہلی نظر میں فضل کو پہچان لیا۔ اس نے کہا۔ ’’تم کہاں سے آٹپکے؟‘‘ فضل نے جواب دیا۔ ’’تقدیر کا مارا بد نصیب ہوں جوکہ یہاں آگرا۔‘‘
شاہک نے فضل کا ہاتھ پکڑا اور اسے اندر لے گیا، اندرلے جا کر اسے خاص کمرے میں بٹھایا۔ پھر اس کے لیے کھانا منگوایا اور کہا۔ ’’بسم اللہ کیجئے۔ فضل نے پوچھا: ’’یہ زندوں کا کھانا ہے یا مردوں کا؟ جواب ملا۔ ’’زندوں کا۔‘‘
فضل نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا اور آرام کیا۔ شاہک نے اسے تین دن مہمان رکھا اور تین دن کے بعد اس سے کہا’’ فضل ! اب تم اپنی جان بچا کر بھاگ جائو، میں پہلے کی طرح تمہیں تلاش کرتا رہوں گا۔‘‘
فضل شاہک کو دعائیں دیتا ہوا اس کے گھر سے نکل آیا۔ لیکن سوال وہی تھا کہ اب کہاں جائے؟ یکایک اسے یاد آیا یہاں سے قریب ہی ایک سوداگر کا مکان ہے، جس پر فضل نے وزارت کے زمانے میں بہت احسان کیے تھے۔ اس خیال کے دل میں آتے ہی جان میں جان آئی اور اس سوداگر کا مکان تلاش کرنے لگا ۔
تھوڑی سی تلاش کے بعد مکان مل گیا۔ فضل نے دروازے پرجا کر دستک دی۔ دستک سن کر سوداگر باہر آگیا۔ باہر فضل کو کھڑا دیکھا تو بہت خوشی ظاہر کی۔ عزت کے ساتھ گھر میں اسے آرام سے بٹھایا اور کھانے پینے سے تواضع کی۔ پھر فضل سے کہا۔ ’’آرام کیجئے۔ میں ایک ضروری کام سے باہر جا رہا ہوں ۔ تھوڑی دیر بعد میں واپس آجائوں گا۔‘‘
یہ کہہ کر سوداگر باہر نکل گیا اور سیدھا مامون کی خدمت میںپہنچا اور اسے اس بات کی اطلا ع دی کہ فضل اس کے گھر بیٹھا ہے ۔ بادشاہ نے شاہک سے کہا کہ جائو اور فضل کو سوداگر کے گھر سے لے آئو۔ شاہک نے حکم کی تعمیل کی اور سوداگر کے گھرپہنچ کر فضل کو قیدی بنایا۔ تھوڑی دیر میں اسے بادشاہ کے سامنے لا کر پیش کر دیا۔ فضل نے تخت کی طرف نظرا ٹھائی تو خوف سے کانپ گیا اور دل میں سوچا کہ اب میرا آخر ی وقت آپہنچا۔ موت کا خیال دل میں لیے آگے بڑھا اور بادشاہ کے سامنے جا کر کانپتی آواز میں اسے سلام کیا۔



مامون نے فضل کے سلام کا جواب دیا اور بار گاہ الٰہی میں سجدۂ شکر بجالایا۔ سجدہ کرکے مامون فضل سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا۔’’فضل جس دن سے تم روپوش ہوئے اس دن سے آج تک تم پر جو کچھ گزری اس کی رودائو ہمیں سنائو۔‘‘
فضل نے اپنی سر گزشت کہنی شروع کی۔ چار سال سے زیادہ مدت میں جہاں جہاں گیا اور جو جو تکلفیں اٹھائیں ان کا سارا حال بادشاہ کو سنادیا۔ جب اپنی سرگزشت کے آخر ی حصے پر پہنچا تو پہلے بڑھیا کے گھر کی کیفیت بتائی کہ کس طرح اس نے بادشاہ کے سپاہی کو کسی بہانے سے بازار بھیجا اور فضل کو اپنے گھر سے نکل جانے کا موقع دیا۔ اس کے بعد اپنی اور شاہک کی ملاقات کا حال سنایا اور بتایا کہ کس طرح شاہک اس کے ساتھ مہربانی سے پیش آیا اور تین دن تک اسے مہمان رکھ کر گھر سے رخصت کیا۔ سب سے آخر میں سوداگر کے گھر پہنچنے کی تفصیل بیان کی اور اس نے سوداگر پر جو احسان کیے تھے ان کا بھی ذکر کیا۔
مامون فضل کی سر گزشت سن چکا تو اس نے خزانچی کو حکم دیا کہ جس بڑھیا نے فضل کو پناہ دی تھی ایک ہزار دینار اس کے پاس بھجوادو اور اس سے کہو کہ جو انگوٹھی اس نے گروی رکھوائی اسے چھڑالے۔ اس کے بعد مامون نے شاہک کی طرف دیکھا۔ شاہک ڈر رہا تھا کہ بادشاہ اسے اس بات کی سزا دے گا کہ اس نے فضل کو گرفتار کیوں نہ کیا لیکن اس کے برخلاف بادشاہ نے کچھ اور کہا۔ وہ شاہک سے مخاطب ہو کر بولا۔ ’’نبی اکرمe کا ارشاد ہے کہ اگر دشمن بھی تمہاری پناہ میں آجائے تو اس کے ساتھ صلہ رحمی سے پیش آئو۔ جس کا علمی ثبو ت حضور e نے فتح مکہ کے وقت دیااور شاہک تم نے جوکچھ کیا اگر وہ نہ کرتے تو میری نظر سے گر جاتے۔ ‘‘ بڑھیا اور شاہک کے بعد سوداگر کی باری آئی تو۔ سوداگر کے متعلق مامون نے حکم دیا ۔
’’اسے فوراً شہر سے نکال دیا جاے۔ جو لوگ بد عہد ی اور احسان فراموشی کرتے ہیں ان کا ہمارے ملک میں کچھ کام نہیں۔‘‘
یہ تمام کاروائی فضل کی موجودگی میں ہوئی۔ جب تک بادشاہ بڑھیا، شاہک اور سوداگر کے متعلق احکام سناتا رہا ، فضل دم بخود کھڑا رہا۔ یہ کاروائی ختم ہوئی تو فضل سے مامون مخاطب ہوا اور کہا۔ ’’جب میں نے تمہیں دیکھا تو سجدہ ٔ شکر ادا کیا اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ یااللہ! تیرا کوئی بندہ مجھ سے زیادہ گناہ گار نہ ہوگا اور میرا کوئی ملازم فضل سے زیادہ خطا وار نہیں۔ میں فضل کو معاف کرتا ہوں، یا اللہ تو فضل کے طفیل مجھے معاف کردے۔‘‘



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*