خطے کاامن۔

(تحریر۔محسن علی ساجد)
گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تعطل کا شکار تھے اور اس وجہ سے نہ صرف سرحد آر پار دونوں ممالک کے عوام متاثرتھے بلکہ سرحد پار سے کئی دفعہ دہشتگردوں نے دراندازی کی لیکن پاکستان کی مسلح افواج کی بارڈر پر باڑ نصب کرنے سے اب دہشتگردوں کی دراندازی کا نہ صرف سلسلہ رک جائے گا بلکہ غیر قانونی طور پر آمدورفت بھی بند ہوجائے گی ،گزشتہ دنوںوزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر افغانستان کا دورہ کیا،وزیر اعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال،وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف ودیگر بھی تھے وزیر اعظم نے افغان قیادت چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ،افغان صدر اشرف غنی ودیگر سے بھی ملاقاتیں کیں،ملاقاتوں میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ڈائیلاگ کا یہ سلسلہ مزید جاری رہے گا ۔ملاقاتوں میں اتفاق کیا گیا کہ افغا ن مسئلے کا حل جنگ نہیں ، مستحکم افغانستان اور امن پاکستان کیلئے ضروری ہے، اس کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔دونوں قیادتوں نے اس بات پربھی اتفاق کیا کہ اب ہمیں اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے کہ ہم خطے ، خطے کی عوام اور خوشحالی سے مخلص ہیں۔ملاقاتوں میں پاک افغان تجارت،مہاجرین کے مسئلہ حل کرنے کا بھی اعادہ کیا گیا۔دونوں قیادتوں نے یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ روڈ، ریلوے،پاور پراجیکٹس پر بھی مل کر کام کریں گے،گیس کے منصوبے پر بھی مل کر کام کیا جائے گا تا



کہ خطے کے عوام کیلئے خوشحالی آ سکے، سینٹرل ایشیاء سے تمام ممالک افغانستان سے گزر کر گوادر پورٹ کو استعمال کر سکیں اور یہ خطہ ترقی کر سکے۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے افغان صدر اشرف غنی کو بھی دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول کرلی۔دوسری جانب پاکستان کے برادر ملک ترکی نے بھی افغان عمل کیلئے افغانستان ،ترکی اور پاکستان کے اجلاس کی تجویز دیدی ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے دورہ افغانستان کے بعد ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے بھی کابل کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی۔ ترکی کے وزیر اعظم جناب بن علی یلدرم کا کہنا تھا کہاکہ پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ کابل کا خیر مقدم کرتے ہیں، افغان امن عمل پر سہ فریقی اجلاس کی میزبانی کیلئے تیار ہیں، طالبان مذاکرات کی پیشکش کا فائدہ اٹھا کر امن عمل میں شامل ہو جائیں،طالبان کو موقع گنوانے کی بجائے مذاکراتی عمل میں حصہ لینا چاہیے۔ترک وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں جنگجوئوں کو امن عمل سپوتاژ کرنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔انھوںنے کہاکہ ترکی افغانستان کے ساتھ اقتصادی اور



سیکورٹی کے حوالے سے تعاون جاری رکھے گا۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ افغانستان سے پاک افغان تعلقات جو تعطل کا شکار تھے اُن میں اہم پیش رفت ثابت ہوئی اور اُمید واثق ہے کہ آئندہ کچھ عرصہ میں پاکستان افغانستان کے تعلقات مزید بہتر ہونگے،اب دُنیا کوبھی باور ہوگیا ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام پاکستان سے جڑا ہے اورپاکستان کے بغیر افغانستان میں ترقی ممکن نہیں اس لیے اب عالمی دُنیا بھی پاکستان کی قربانیوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ پاکستان کوافغان عمل میں شامل کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ افغانستان کا مسئلہ حل ہوسکے،لیکن پاکستان کا روایتی دُشمن بھارت یہ ہرگز نہیں چاہے گا کہ افغانستان میں امن قائم ہو کیونکہ وہ خود افغانستان میں بیٹھ کردہشتگردوں کی پشت پناہی کررہا ہے ،اس لیے عالمی برادری کو بھارت کو بھی باور کرانا چاہیے کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آئے ،گزشتہ روز پاکستان کے قومی سلامتی کمیٹی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کا کہنا تھا کہ بھارت طاقت کے زور پر کشمیر کو جلارہا ہے، بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے کوشش کررہا ہے، بھارت مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کیلئے تیار نہیں ۔ناصر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ بھارت جواب دینے کی بجائے شملہ معاہدہ کے پیچھے چھپ رہا ہے اور مسلسل لائن آ ف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کررہا ہے، عالمی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کررہی ہیں۔ مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ کشمیر کا حل دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان امن کی کنجی بن سکتا ہے، مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ بھارت بھول رہا ہے کشمیر اب فلیش پوائنٹ نہیں رہا۔اب دُنیا کو باور ہوجانا چاہیے کہ خطے کا امن مسئلہ کشمیر اور افغانستان کے امن سے جڑا ہے اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے تاکہ خطے کے عوام امن وخوشحالی کی زندگی گزار سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*