*صحرا جیسی میری ذات

*صحرا جیسی میری ذات
چھوڑ دے ساجن میرا ہات

جن پھولوں کو سینچا میں نے
ان کو کھٹکے میری ذات

کاٹ رہے ہیں میرا رستہ
جن کی خاطر کھائی مات

بادل ان کے آنگن برسے
میری آنکھ میں جل تھل رات

سورج کو آنگن میں دیکھا
ڈر کر اوڑھی میں نے رات

بھول گئی سب رشتے ناطے
تنہائی ہے میرے سات

چندن چہرے چہرے والی لڑکی
قسمت بھی ہے تیرے سات؟

عینی زا سید*




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*