روشنیوں کا شہر کراچی۔ کل اور آج!!

تحریر: محسن علی ساجد
کہتے ہیں کہ روشنیوں کا شہرکراچی گزشتہ عرصہ قبل غریب کی ماں کا درجہ رکھتا تھا ،اسی شہرسے بڑی بڑی نامور شخصیات نے جنم لیا اور دُنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا،قائد اعظم محمد علی جناح ؒکا شہر بھی کراچی ہی ہے اور آپ کی آخری آرام گاہ بھی کراچی میں ہی ہے ،گزشتہ روزاہلخانہ کے ہمراہ بازار جانا پڑا ،شہر اقتدار کے اتوار بازار جاکر گاڑی کی بریک لگائی۔اہلخانہ خریداری میں مصروف ہوگئے سو میں بازار کے ایک نُکڑ پر جا کر بیٹھ گیا۔ساتھ ہی ایک بزرگ لیمو پانی کا ٹھیلا لگائے کھڑے تھے ،ہلکی گرمی کی شدت نے مجبور کیا کہ بابا جی سے ایک گلاس لیموںپانی ہی پی لیں سو بابا جی سے لیمو ںپانی کا گلاس بنوایا باتوں باتوں میں بابا جی سے پوچھا بابا جی آپ اِس عمر میں تلاش معاش کیلئے سرگرداں ہیں،بابا جی کہنے لگے بیٹا ایک بیگم اور ایک بیٹا ہے بیٹا بھی اِسی بازار میں ٹھیلا لگاتا ہے ،بیگم بیمار ہے اور ہم دونوں باپ بیٹا دِن کو جو کماتے ہیں شام کو آرام سے کھانے کا بھی اہتمام ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی بیگم کی ادویات کیلئے بھی پیسے بن جاتے ہیں۔بابا جی کہنے لگے بیٹا آج سے قریباً25تیس سال پہلے میں کراچی میں تھا ،یقین کرو دِن کو کماتا رات کو کسی پارک میں ہی سوجاتا،نہ کسی سے ڈرتھا نہ خوف کہ کوئی سوتے ہوئے جیب نہ کاٹ لے ۔ایک پرامن شہر تھا اور روزی روٹی کمانا کوئی مشکل نہ تھا ۔بابا جی سرد آہ بھر کر کہنے لگے بیٹا ”کراچی کسی دور میں غریب کی ماں تھا“لیکن آج حالات دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے ،میں نے کہا بابا جی آپ بجا فرمارہے ہیں لیکن اب تو کراچی میں روشنیاں لوٹ آئی ہیں ،شہر میں امن بحال ہوچکا ہے ،اِکا دُکا واقعات تو ہوتے رہتے ہیں۔بابا جی فرمانے لگے بیٹا یہ بھی موجودہ جمہوری حکومت اور پاک فوج اور سیکورٹی اداروں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج کراچی میں امن لوٹ رہاہے ۔بابا جی کہنے لگے
اِس سے پہلے کیوں نہ امن قائم ہوا۔جب جذبے سچے ہوں تو منز ل آسان ہوجاتی ہے۔بابا جی کی باتوں میں وزن تو ہے اور کہتے ہیں کہ بزرگ جو کہتے ہیں صحیح کہتے ہیں۔



گزشتہ ہی روز مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کراچی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بہادرآباد میں ایم کیو ایم کے عارضی مرکزی دفتر میں ایم کیو ایم کے رہنماﺅں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، عامر خان، محترمہ نسرین جلیل، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن، میئر کراچی وسیم اختر اور ایم کیو ایم کے دیگر رہنماﺅں سے تقریبا ایک گھنٹہ ملاقات کی اس موقع پر گورنر سندھ محمد زبیر، مسلم لیگ ن سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ، سندھ کے سیکریٹری جنرل سنیٹر سلیم ضیااور دیگر مسلم لیگی رہنما بھی موجود تھے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ کراچی شہر ایک ماں کی طرح سے ہے اس نے پورے ملک کے لوگوں کو گود لیا ہوا ہے، یہاں تمام قومیتوں کے لوگ آباد ہیں جن میں پنجابی، سندھی ، بلوچی ، کشمیری، پختون، مہاجر اور دیگر قومیتوں کے لوگ ہیں، ہم ایم کیو ایم کے ساتھ ملکر ان سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں اس شہر کی روشنیاں جو کہ مدھم ہوچکی ہیں وہ پھر سے بحال ہوں۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جب 2013میں مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو اس شہر کی امن و امان کے حوالے سے صورتحال انتہائی خراب تھی حکومت نے اس شہر میں امن کے قیام کا فیصلہ کیااور رینجرز کو اس سلسلے میں خصوصی ٹاسک دیا گیا۔ رینجرز نے اس سلسلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ کراچی میں ایشیا ءکی سب سے بڑی یونیورسٹی قائم کریں گے۔ ڈیڑھ انچ کی مسجد علیحدہ بنانے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا ۔اور ہم اس شہر کو جنوبی ایشیا کانیویارک بنائیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وفاقی حکومت اور سیکورٹی اداروں نے کراچی میں امن وامان قائم کرنے کیلئے مثبت اقدام کیے جس کی بدولت آج شہر پرامن ہوچکا ہے ۔اُمید ہے آئندہ بھی شہر قائد، پاکستان کے روشنیوں کے شہر،غریبوں کی ماں کا درجہ رکھنے والے اس شہر کی بہتری کیلئے اقدامات کیے جاتے رہیں گے اور وہ دِن دور نہیں جب کراچی دُنیا میں عظیم ترین شہر بن کر اُبھرے گا۔

Email: mohsinalisajid92@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*