دوسرا حسین کیوں نہیں ؟ 

خدا اداکاری سے اور ریاکاری سے نہیں اللہ والوں اور اہل علم کی یاری سے ملتا ہے””اسلامی معاشرہ کا تحفظ”” کے موضوع پر ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی اچھوتی تحریر……
.ایک دفعہ ایک مفکر سے کسی نے سوال کیا کہ زمانے میں دوسرا حسین کیوں نہیں آیا تو اس مفکر نے جواب دیا “”کیونکہ دوسری فاطمہ نہیں آءی”” (ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب “”حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنھا کی باتیں”)اسی طرح بغداد کے ایک خلیفہ کو اپنے بیٹے کی شادی کرنا تھی… انہوں نے پورے شہر میں اعلان کروا دیا کہ جس گھر میں جوان لڑکی ہے اور قرآن کی حافظہ ہے… وہ اپنے گھر کی کھڑکی میں رات کو ایک شمع روشن کر دے… اس رات پورے شہر کی کھڑکیوں میں شمعیں روشن تھیں… ان کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا… اگلے دن اعلان کروایا کہ جس گھر میں موجود لڑکی حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ موطا امام مالک کی بھی حافظہ ہے… وہ رات کو اپنے گھر کی کھڑکی میں شمع روشن کرے… اور اس رات بھی آدھے سے زیادہ شہر کی کھڑکیوں پہ شمعیں روشن تھیں… کتنا حسین منظر ہو گا نا… ہر گھر میں کھڑکی پہ روشن شمع صرف روشنی کی نوید نہیں سنا رہی تھیں بلکہ بتا رہی تھیں کہ اسلام کا مستقبل بھی بہت روشن ہے… وہ شمعیں اس بات کی نوید تھیں کہ ایک بہترین نسل کو پروان چڑھانے کے لیے مناسب اور بہترین تعلیم دی جا چکی ہے… ان تمام جلنے والی روشنیوں کے لرزتے شعلوں میں ایک مضبوط اسلامی معاشرے کی جھلک نمایاں ہو رہی تھی…راقم ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم سوچتا ہے کہ  اگرآج ایسا اعلان کر دیا جائے تو بہت کم گھروں میں شمع روشن ہو گی اور



اگر دوسرے اعلان والی شرط ساتھ رکھ دی جائے تو یقینا پورا شہر ہی تاریک پڑا ہو گا… بات سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے پتا ہے ایسا کیوں ہو ہے.آپ بھی غور کریں اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے.میرے نزدیک اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ آج ہمیں فضول اور بے بنیاد تعلیم کے چکروں میں پھنسا دیا گیا ہے . آج کی عورت کو مرد کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے خواب دکھا کر اسے حساب کتاب کے بھنور میں دھنسا دیا گیا ہے.عورت کے حقوق کے نام پر چلنے والی ساری تحریکیں عریانی کا بازار گرم کرنے کا ایک ذریعہ بنی ہوی ہیں .خواتین کو.لباس سے بے لباس اور گھر سے بے گھر کر رہی ہیں. تعلیم کے نام پر بے پردگی کروای جا رہی ہے اور تو اور متضاد معاشرہ تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں عورت یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ خود اپنی جنگ لڑ سکتی ہے مگر پس پردہ وہ سارے حقوق جو اسلام نے دیے وہ بھی چھین لیے جاتے ہیں.محمد بن قاسم کی ماں اور بو علی سینا یا شیخ عبدالقادر یا علامہ اقبال کی ماں کو کدھر تلاش کریں ..کیا عورت کی عزت کا فلسفہ اسلام نے نہیں بتایا .ماں بہن بیٹی بہو ہر روپ میں .ہاں یہ الگ بات ہے اس فلسفہ کا ایک لفظ بھی نا ازبر کروایا نا نصاب کا حصہ ہے .میں متضاد معاشرہ کی کیا کیا مثال دوں .جسم کی عریانی سے تشہیر کرنے والی بھی تو عورت ہی ہے جس کو ماڈرن ہونے کا لیبل اور خواب دیکھا کر ٹی وی والے .فلم والے .کمپنی والے سب اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں.آج کی عورت کو ایک مضبوط کردار کی حامل نسل کی تربیت اور ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد میں اہم کردار ادا کرنے جیسے اہم مقاصد سے بھٹکا دیا گیا ہے…
آج کی عورت کو ٹی وی پہ بیٹھ کے مارننگ شوز میں لایعنی عنوانات پہ مباحث اور فضول اور بےمقصد کاموں کی طرف اپنی ہی جیسی عورتوں کو راغب کرنے پر لگا دیا گیا ہے… آج کی عورت کو انعامی مقابلوں میں چھینا جھپٹی کر کے دو ٹکے کے تحفے حاصل کرنے پر لگا دیا گیا ہے… آج کی عورت نے بھٹکنا پسند کیا تو اسے بھٹکا دیا گیا ہے..بہت سی اداکار خواتین جن کے باقاعدہ ڈانس اور ایسے پروگرام ٹی وی زینت پورا سال بنے رہتے ہیں رمضان شریف میں آپ دیکھیں گے وہ اسلام کی مبلغات کے روپ میں تشریف فرما ہوں گی اور ایسے ایسے مسایل بیان کریں گی جن کو سن کر آپ بھی حیران ہو جایں گے .اپنی خواتین کو اور خود کو ایسے پروگرامز کے دیکھنے سے بچایں ..مستند عالم دین کے پروگرامز دیکھنے کی سننے کی ترغیب دیں . ایسا نا ہو ان کی دی گیی تعلیمات سے آپ کے ہاں خاندان آباد ہونے کی بجاے اجڑنا شروع ہو جاے .جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رح فرمایا کرتے تھے .”” دین کو اتنا نقصان کافروں نے نہیں دیا جتنا غیر تربیت یافتہ مبلغین نے پہنچایا ہے “”جن کی



اپنی تربیت میں شرم و حیا نا ہو ان سے اچھی بات سننے میں بھی ایمان کا خدشہ ہے .اچھی بات جہاں سے بھی ملے لے لیں مگر اچھی بات کرنے والا خود بے عمل ہو تو کان بند رکھنا ہی ایمان بچا سکتا ہے .اسلام کو علماء سے سکھیں اداکاروں سے نہیں .اداکار کا کام اداکاری کرنا ہے وہ آپ کو اداکاری سکھاے گا ہر ماحول اور موسم کی .خدا اداکاری سے اور ریاکاری سے نہیں اللہ والوں اور اہل علم کی یاری سے ملتا ہے.شکریہ.ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی مزید عمدہ تحریریں اور انتخابات پڑھنے کے لیے أپ ڈاکٹر صاحب کے نام سے بنا فیس بک پیج پسند کریں .ہمارا مقصد پہلے اپنی اصلاح کرنا ہے پھر دوسروں کو درستی کی دعوت دینا ہے .. اصلاح خود سے شروع کریں جلد معاشرہ بدل جاے گا .محبت اخوت اور احساس عام ہو گا . اچھی بات اگے پھیلانا بھی صدقہ ہے .. شکریہ … ہمارے پیج کا لنک دستیاب ہے ..

.https://www.facebook.com/Dr.M.AzamRazaTabassum/
ڈاکٹر صاحب کی تحریریں .واٹس ایپ پہ حاصل کرنے کے لیے .ہمیں اپنا نام .شہر کا نام اور جاب لکھ کر اس نمبر پر میسج کریں . 03317640164.
شکریہ .ٹیم نالج فارلرن.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*