درخت جانتا ھے

➖ *گہری بات* ➖

درخت جانتا ھے کہ
اُسے آخِر،
نہ صِرف بے دردی سے کاٹا جائے گا
بلکہ!
بطور اِیندھن جلایا بھی جائے گا۔
لیکن!
پھر بھی وہ،
اِنسان، چَرند و پرند کو فائدہ ھی دیتا ھے،

کبھی سائہ،
کبھی تپتی دھوپ میں ماں جایا،
کبھی خوراک،
کبھی ضرورتِ املاک،
کبھی پَھل،
کبھی پُھول،
کبھی گھر کی تعمیر میں، کام آئے صورتِ شہتیر میں،
کبھی بلندی تک جانے میں مدد،
کبھی دریا پار کرنے میں معاون،
کبھی چھڑی کی صورت، سہارا،
کبھی دَستہ،
کبھی اندھے کے لئے باعِثِ رَستہ،
کبھی پرندوں کی پناہ گاہ،
کبھی منزل تک نِشانِ راہ،

تَو اے اِنسان!
جب ھم بھی جانتے ھیں کہ آخِر فنا ھے،
تو کیوں اپنی ذات سے،
اوروں کے لئے زحمت کا باعِث بنتے ھیں؟

اگر ھم کِسی کے لئے فائدہ مند نہیں بَن سکتے،
تَو نُقصان دہ کیوں؟

*اِقبال اَحمد پَسوال*




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*