خلیفہ اور عالم

تحریر عبدالواث ساجد
ہشام خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کا بھائی تھا۔ ایک بار حج کے موقعہ پر وہ مکہ آیا۔ حج کے ایام میں مکہ شہر میں بہت رش تھا۔ ہر طرف سے لوگ حج بیت اللہ کے لیے مکہ آئے ہوئے تھے۔
ہشام بن عبدالملک بھی حج کرنے ہی مکہ آیا تھا۔ اس کی مکہ آمد کی وجہ سے گورنرِ مکہ نے ہشام کے لیے خصوصی انتظام کررکھا تھا۔ حفاظتی دستہ اور خدمت گار ہروقت ہشام بن عبدالملک کے ساتھ رہتے تھے۔
جس طرف بھی ہشام جاتا تھا اسے خصوصی پروٹوکول دیا جاتا تھا۔ حفاظتی دستہ اس کی سیکورٹی کے پیش نظر عام لوگوں کو رستے سے ہٹادیتا تھا۔
ایک روز ہشام بیت اللہ کا طواف کررہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ ذرا آگے ایک آدمی نہایت ہی عاجزی سے اپنا جوتا ہاتھ میں اٹھائے طواف میں مصروف ہے۔ ہشام بن عبدالملک نے ذرا آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ سالم بن عبداللہ تھے۔
سالم سیدنا عبداللہ بن عمرt کے بیٹے اور خلیفہ ثانی سیدنا عمرفاروقt کے پوتے تھے۔ نہایت ہی متقی اور پرہیز گار تھے اور اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے۔ وہ ہشام بن عبدالملک سے بے خبر طوافِ کعبہ میں مصروف تھے۔ ان کے بعد پر ایک کپڑا اور ایک عمامہ تھا۔ جو بہت مہنگا بھی ہوا تو تیرہ درہم سے زیادہ نہ تھا۔
دوسری طرف ہشام بن عبدالملک کے بدن پر قیمتی احرام تھا اس کے حفاظتی دستہ، خدمت گار اور جاہ و جلال اپنی جگہ تھا۔
ہشام بیت اللہ کے اندر ہی سالم بن عبداللہ کے قریب ہوا اور بولا:
’’کوئی حاجت ہو تو بتائیے؟‘‘



سالم بن عبداللہt نے کہا:
’’مجھے اللہ سے شرم آرہی ہے کہ میں اس کے گھر میں ہوتے ہوئے کسی اور کے سامنے دستِ سوال دراز کروں۔‘‘
یہ سننا تھا کہ خلیفہ کے چہرے کا رنگ سرخ ہونے لگا۔ اس نے سالم بن عبداللہ کے جواب میں اپنی سبکی محسوس کی۔ جب سالم بن عبداللہ حرم شریف سے باہر نکلے تو وہ بھی ان کے پیچھے ہی حرم سے نکل پڑا اور راستے میں ان کے سامنے آکر کہنے لگا:
’’اب تو آپ بیت اللہ شریف سے باہر نکل چکے ہیں، کوئی حاجت ہو تو فرمائیں (بندہ حاضر ہے۔)‘‘
سالم بن عبداللہ گویا ہوئے:
’’آپ کی مراد دنیاوی حاجت سے ہے یا اُخروی حاجت سے؟!‘‘
خلیفہ ہشام: اخروی حاجت کو پورا کرنا تو میرے بس میں نہیں، البتہ دنیاوی ضرورت پوری کرسکتا ہوں، فرمائیں۔
سالم بن عبداللہ کہنے لگے:
’’میں نے دنیا تو اس سے بھی نہیں مانگی ہے جس کی یہ ملکیت ہے۔ پھر بھلا میں اس شخص سے دنیا کیوں کر طلب کرسکتا ہوں جس کا وہ خود مالک نہیں؟!‘‘
یہ کہہ کر اپنے گھر کی طرف چل دیے اور ہشام بن عبدالملک اپنا سا منہ لے کر وہ گیا۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*