عبدالحکیم فنکاروں کا شہر ہے

تحریر:. ملک شفقت اللہ
عبدالحکیم ملتان کے راستے میں کبیر والا سے پہلے آتا ہے، اور اس سے تلمبہ کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے، تلمبہ ایک تاریخی شہر ہے لیکن ابھی ہم عبد الحکیم کا ذکر کرتے ہیں، اس شہر کا نام یہاں پر موجود صوفی بزرگ ولی اللہ عبدالحکیم کے مزار کی وجہ سے ان کے نام سے منسوب ہے۔صرف دس سال پہلے عبدالحکیم ایک گاؤں کی مانند پسماندہ ہوا کرتا تھا، لیکن اب آہستہ آہستہ بہت ساری ترقی کر چکا ہے، یہاں پر آرمی کا بہت بڑا کیمپ بھی ہے اور ایک قدیم ریلوے اسٹیشن بھی جہاں سے قریب ہر وقت ہی ٹرینوں کا گزر رہتا ہے۔عبدالحکیم کے لوگ بہت محبت کرنے والے اور ملنسار ہیں، اسی علاقے سے نامور گلوکار بھی ہیں جنہوں نے اس وقت پوری دنیا میں پنجابی ثقافت کو نہ صرف ترویج دی ہے بلکہ اس میں جدت کے بھی ذمہ دار ہیں۔سلیم اختر سلیمی صاحب بہت نامور گلوکار گزرے ہیں جنہوں نے دو ہونہار شاگرد چھوڑے ، ان میں نزاکت علی پپو اور واجد بغدادی عالمی شہرت یافتہ گلوکار ہیں جنہیں قومی و بین الاقوامی سطح پر پنجابی گلوکاری کی وجہ سے شہرت حاصل کی ہے اور اس چھوٹے سے قصبے کا نام روشن کئے ہوئے ہیں، ان کے ساتھ سخن و ادب سے محبت کرنے والے دوست بھی ہیں جن میں منظر ڈانگرا، شفیع زخمی، حاجی عمر فاروق، تنہا شاہ، الطاف گگڑانہ، گدا حسین جعفری اور نور صمد سر گانہ مرحوم جو پنجابی ادب لکھتے ہیں جن کو واجد بغدادی نے اور نزاکت علی پپو اپنی آواز میں لوگوں تک پہنچاتے



ہیں ان کے علاوہ عباس پٹھان اور دوسرے شعراء اور گلوکار بھی یہاں مقیم ہیں۔مزاحیہ فنکار منظور حسین کرلو بھی اسی سرزمین سے پھوٹے ہوئے تارہ ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ عبدالحکیم فنکاروں کا شہر ہے تو بے جا نہ ہوگا۔میرا گزشتہ دنوں وہاں جانا ہوا اور لوگوں نے خاص طور پر فنکار طبقے نے بہت عزت سے نوازا جس کیلئے میں ان کا انتہائی ممنون ہوں باالخصوص سماجی و ادبی شخصیت مشتاق بھائی کا جنہوں نے مجھے اس طبقے سے متعارف کروایا۔یہاں پہ لوگ آپس میں بہت محبت سے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں کے عوامی نمائندے بھی ان کا خاص خیال رکھتے ہیں کیونکہ عوام میں آپسی اتفاق ہے اس چھوٹے سے قصبے میں جو ہے تو جنوبی پنجاب کا حصہ لیکن جنوبی پنجاب کے کئی شہروں کے بعد آباد ہوا کی نسبت کافی ترقی یافتہ ہو چکا ہے۔کیونکہ یہاں صحت کی بنیادی سہولت بھرپور انداز میں ایک اچھے ہسپتال کی صورت میں موجود ہے، تعلیم کی سہولت بھی ڈگری کالج اور پنجاب کالج کے علاوہ سرکاری پرائمری اور ہائیر سیکنڈری سکول کی صورت میں عوام کو میسر ہے فاصلہ زیادہ نہیں کیونکہ یہ قصبہ صرف ایک ہی مین روڈ پر مشتمل ہے اور اب یہاں سے موٹروے بھی گزر رہی ہے جس کا فائدہ یہاں کے مکینوں کو آنے والے وقت میں بہت زیادہ ہو گا۔تعلیم کی سہولت، اور صحت کی سہولت کے میسر ہونے کی وجہ سے یہاں شرح خواندگی بھی بہت زیادہ ہے اس ہزارہ بیلٹ کے دیگر شہروں کی نسبت خاص طور پر ان میں عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔زیادہ تر لوگوں کا یہاں پہ ذریعہ معاش زمیندارہ اور سرکاری ملازمت ہے، لیکن عورتوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے اب بھی ملتان کا سفر کرنا پڑتا ہے، ماشاء اللہ تعلیم کے فروغ کیلئے آرمی پبلک سکول بھی یکساں طور پر عملی میدان میں سرگرم ہے، لیکن یہاں پر کوئی یونیورسٹی یا یونیورسٹی کیمپس موجود نہیں ہے۔تھوڑا صفائی کا نظام حکومتی سطح پر درہم برہم سا لگتا ہے لیکن اپنی مدد آپ کے تحت لوگ معاشرے کو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر اس میں تھوڑا حصہ حکومتی سطح پر بھی شامل ہو جائے تو صفائی کا نظام مزید بہتر ہو جائے گا۔واحد سنگل مین روڈ اور اسی پہ مصروف ترین اسٹیشن ہونے کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل



بہت زیادہ ہیں جس کی طرف حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اگر اس پھاٹک کے پاس سے ایک اوور بریج بنا دیا جائے تو یہ مشکل حل ہو جائے گی اور اس پر زیادہ لاگت بھی درکار نہیں۔عبدالحکیم کو تحصیل کا درجہ ملنے کی خبریں بھی گردش میں ہیں جو کہ ایک اچھا اقدام ہے لیکن اس میں کوٹ اسلام اور عبدالحکیم کے عوامی نمائندوں میں سیاسی کشمکش ہے کہ وہ چاہتے ہیں کوٹ اسلام کو تحصیل کا درجہ دیا جائے اور یہ چاہتے ہیں کہ عبدالحکیم کو ملے ، لیکن عبدالحکیم کے مقابلے کوٹ اسلام آبادی و ترقی کے حساب سے بہت چھوٹا قصبہ ہے جبکہ عبدالحکیم اب شہر کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔ اسی لئے اگر یہ اپنی کشمکش کو بھول کر عوام کے بارے میں اور اپنے علاقے کے بارے میں سوچیں تو عبدالحکیم کے تحصیل بن جانے کے بعد دونوں علاقوں کو برابر فائدہ ہو گا ۔ اور پنجاب حکومت بھی اس کا اعلان جلد کرے ۔اسی طرح جس رفتار سے یہ شہر ترقی کی منازل طے کر رہا ہے یہاں آبادی بھی بڑھ جائے گی جس کیلئے باگڑ پل سے بھامبڑ پل تک کی سڑک کو دو رویہ بنانے کی بھی ضرورت ہے۔اور اگر یونیورسٹی نہیں تو ملتان یا پنجاب یونیورسٹی کا وومن کیمپس ضرور بنایا جائے تاکہ یہاں کی قابلیت سفر اور اخراجات کی وجہ سے ضائع نہ ہو جائے جس کی ہمارے ملک کو مستقبل میں بہت زیادہ ضرورت پڑنے والی ہے۔اگر دربار کی طرف بھی لوکل گورنمنٹ تسلسل کے ساتھ توجہ دے تو عبدالحکیم کا یہ ورثہ سیاحوں کیلئے اور بھی توجہ کا مرکز بن جائے گا۔آخر میں یہاں کے ادبی دوستوں اور تمام ساتھیوں جنہوں نے اتنی محبت سے نوازا کی نذر شاعر عاصم تنہا کا ایک شعر پیش خدمت ہے:
میں نے دیکھا تھا اک نظر تجھ کو
اب بھی آنکھوں میں روشنی ہے دوست

 




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*