نصیب کا رزق کوئی نہیں چھین سکتا۔۔۔

تحریر: آسیہ پروین
مشہور موئرح ابنِ جریر طبری کہتے ہیںکہ میں سال حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں تھا۔ تو میں نے خراسان سے آئے ہوئے ایک شخص کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا اے مکہ کے رہنے والو میری ایک تھیلی گم ہو گئی ہے جس میں ایک ہزار دینار تھے جو شخص بھی مجھے وہ واپس کردے تو اللہ تعلی اسے بہترین جزا دے اور جہنم سے آزادی عطا کرے۔یہ اعلان سنتے ہی مکہ مکرمہ کے ایک بوڑھے شخص اٹھے اور کہا اے خراسانی بھائی ہمارے شہر کے حالات آج کل بڑے مفلسی لئے ہوئے ہیں۔ہر طرف قحط سالی کا راج ہے مزدوری کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ فقروغربت پھیلا ہوا ہے۔ آپ کے لئے مشورہ ہے کہ آپ انعام کا اعلان کریں ممکن ہے وہ مال کسی فقیر محتاج کے ہاتھ لگا ہو تو جب ہو انعام کا سنے تو آپ کو آپ کا مال واپس کردے۔ تاکہ اسے حلال طریقے سے کچھ حاصل ہو جائے۔ اسے آپ کے مال لوٹانے کا رنج بھی نہ رہے۔ خراسانی نے بوڑھے شخص سے پوچھا انعام کی کتنی رقم ہونی چاہیے۔ تو بوڑھے شخص نے کہا ایک ہزار دینار کے انعام کے سو دینار تو ہونے چاہیے۔لیکن خراسانی اِس پر راضی نہ ہوا اور کہنے لگا میں اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں۔ اَب مجھے اپنا مال نہ ملا تو روزِ قیامت مل جائے گا۔ ابنِ جریر طبری کہتے ہیں میں یہ ساری گفتگو سن رہا تھا اور میں سمجھ گیا یہ یہی بوڑھا شخص ہے اور مال اسی کو ہی ملا ہے۔ اِس لئے انعام کا حوالہ دے رہا ہے۔لیکن بضیر کسی حلال انعام کے واپس نہیں کرنا چاہتا تھا۔شائد یہ بہت محتاج ہو میں نے اپنے شک کویقین میں بدلنے کے لئے اور اصل صورت حال جاننے کے لئے اِس کا پیچھا کیا۔کہ یہ کہاں جاتا ہے۔وہ بوڑھا شخص اٹھا اور مکہ مکرمہ کے ایک پرانے محلے کے ایک کچے گھر میں داخل ہوا۔ ابنِ جریر طبری باہر کان لگا کر سن رہے تھے۔اندر گھر سے آواز آئی بوڑھا شخص اپنی اہلیہ کوکہہ رہا تھا۔دیناروں کا مالک مل چکا ہے اور اَب ہمیں دینار واپس کرنے ہی پڑیں گے۔میں نے اسے کچھ انعام دینے کا کہا مگر وہ اس سے بھی انکاری ہے۔کئی دنوں کی ستائی ہوئی اہلیہ نے کہا۔میں پچاس سال سے آپ کے ساتھ غربت کی زندگی گزار رہی ہوں مگر



حرفِ شکائت کھبی بھی اپنی زبان پر نہیں لائی۔لیکن اَب تو کئی دنوں سے فاقہ ہے گھر میں آپ کی چار بیٹیاں آپ کی دو بہنیں اور آپ کی والدہ بھی ہے۔بڑا صبر کر لیا یہ مال جیسا بھی ہے اسے خرچ کر لیں۔بوڑھے شخص نے اپنی لرزتی ہوئی آواز میں کہا اَب اِس عمر میں حرام کھانا شروع کردوں۔یہ سب جان کرابنِ جریر طبری بہت حیران ہوئے اور واپس چلے گئے۔اگلے دن پھر خراسانی اعلان کرتا ہوا اس بوڑھے شخص کو ملا۔بوڑھے شخص نے کہا خراسانی کل میں نے تجھے ایک سو دینار انعام کا کہا تھا چلو سو نہیں تو دس دینار کے انعام کا اعلان کر دو شائد کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری ہو جائے۔مگر خراسانی باضد کے میں اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں۔ادھر بوڑھے شخص کے گھر فاقوں کی نوبت بڑھتی جا رہی تھی۔اِس طرح دو دن بیت گئے۔معاملہ جوں کا توں رہا۔تیسرے دن بوڑھے شخص نے ایک دینار کے انعام کی تجویز دی کہ کیا پتہ کسی غریب کے گھر فاقہ ہو اور وہ ایک دینار سے اپنے اہلے خانہ کے لئے کھانے پینے کا بندوبست کر سکے۔اِس پر بھی خراسانی نے انکار کر دیا۔اور کہنے لگا اپنا مال لوں گا تو پورا لوں گاورنہ روزِ قیامت ہی فیصلہ ہو گا۔جب بوڑھے شخص نے یہ سنا تو اِس کے صببر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔اور اِس خراسانی کا دامن اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا میرے ساتھ آو میں تمھارامال واپس کودوں میں ایک پل سکون کی نیند نہیں سو سکا ہوں۔ابنِ جریر کہتے ہیں میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا۔ بابا جی اپنے گھر داخل ہوئے اور باہر نکل کر وہ سارے دینارخراسانی کو واپس کر دیے۔اور کہا اپنے فضل سے اللہ ہمیں رزق عطا کرے گا۔ باباجی کے گھر سے رونے اور سسکیوں کی آواز گونجنے لگی۔ خراسانی نے اپنے دینار گنے اور چل پڑا ابھی وہ تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ اچانک مڑا اور بوڑھے شخص کا آواز دیتے ہوئے بولا میرے والد کا جب انتقال ہوا انھوں نے اپنی میراث میں تین ہزار دینار چھوڑے تھے۔اور کہا تھا کہ شرعی طریقے سے تیسرا حصہ مساکین میں خرچ کر دینا میں مکہ میں اِس لئے ہی آیا تھا اور مجھے تم سر زیادہ حق دار اور کوئی نہیں لگا یہ لو یہ دینار تم رکھ لو۔یہ سن کر بوڑھے شخص کی آنکھیں آنسوﺅں سے بھر گئیں اور اس نے اس خراسانی کا شکریہ ادا کیا۔
اِس سے ہم سب کو یہ درس ملتا ہے کہ کسی کے نصیب کا رزق کوئی بھی نہیں چھین سکتا ہے۔بوڑھے آدمی کے صبر استقامت نے مالِ کو حلال کر وا لیا۔ بس اس کا امتحان تھا اور اس میں پورا اتر کے وہ گناہ سے بچ گیا۔ ہم سب بھی اگر حوصلے صبر ثابت قدمی سے کام لیں تو ہم اپنی زندگیوں کو مشکلات میں گھڑنے سے بچا سکتے ہیں۔غلط طریقوں سے حاصل کیا ہوا بھی اگر نصیب میں نہیں ہے تو نہیں مل سکتا تو کیوں ہم اپنی زندگیوں کو ایندھن میں جھونکیں۔اللہ ہم سب کو حلال رزق کھانے حاصل کرنے کی توفیق دے آمین۔ بات صرف سوچ کی ہے جوغوروفکر کرتے ہیں وہ نجات پا جاتے ہیں۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*