رحمتوں برکتوں کا مہینہ ۔ رمضان

تحریر: محسن علی ساجد
رحمتوں برکتوں کامہینہ رمضان ،مسلمانوں میں اتحاد ویگانگت ،غریبوں ،مسکینوں کیساتھ ہمدردی ،اللہ تعالیٰ کی قربت کا درس دیتا ہے ، رمضان المبارک بخشش، سخاوت ،بھائی چارے اور غم خواری کا مہینہ ہے، روزے کا مقصد تقویٰ ہے۔ اس ماہ مبارک میں اخلاق و تقویٰ کے ساتھ ساتھ ہمیں اللہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کرنا چاہیے۔رمضان المبارک خیر و برکت، رحمت و مغفرت، جہنم سے خلاصی کامہینہ ہے، رمضان المبارک میں غربائ، مساکین کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، یہ ماہ مبارک صبر، اخوت، بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ بھلائی کے کام کرنے چاہئیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھنا چاہیے ،اللہ کریم نے رمضان المبارک کی صورت میں مسلمانوں کو ایسا ماہ مقدس عطا کیا ہے جس کے آنے پر زندگیوں میں انقلاب جنم لے لیتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں ایک دوسرے کے دکھ،درد میں شریک ہو کر نیکیاں سمیٹنی چاہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ”اے ایمان والو!روزہ اس طرح تم پر لکھ دیا گیا ہے (فرض کردیا گیا ہے) جس طرح تم سے پہلے والوں پر لکھ دیا گیا تھا۔تاکہ تم پرہیز گار بن جاﺅ“
رمضان المبارک کے اس بابرکت ماہ میں ہمیں چاہیے کہ سحر وافطار میں سادگی اختیار کریں فضول خرچی سے پرہیز کریں، ہمارے نبی آخرالزماں احمد مجتبےٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؓ اطہار نے ہمیشہ سادگی سے روزہ کا اہتمام کیا، جب ایسی ہستیاںبھی صرف کھجور اور پانی پر اکتفا کرسکتی ہیں تو ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟ہم کرسکتے ہیں لیکن یہ دُنیا کے دکھاوے ،دُنیا کی محبت ہمیں دل سے نکالنا ہوگی ،ہمیں سحر وافطار میں غریبوں کو شامل کرنا ہوگا،اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ کئی لوگ سحر وافطار میں اتنا انتظام کرلیتے ہیں کہ دسترخوان سجا دیئے جاتے ہیں یہ نہیں کہ غریبوں کیلئے بلکہ صرف اُن کے اپنے سٹینڈرڈ کے لوگوں کیلئے بعد ازاں آدھے سے زیادہ کھانا کوڑے دانوں کی نظر کردیا جاتا ہے ،اگر یہی کھانا سادگی سے کھایا جائے اور اِتنا دسترخوان سجایاجائے جتنا کہ انسان بآسانی کھاسکے اورباقی کا کسی غریب ،مفلس کو دے دیا جائے تو اس طرح ایک تو اُس غریب کی دادرسی ہوجائے گی دوسرا اللہ تعالیٰ کے ہاں اِس کا اجر بھی ملے گا۔



دوسرا ہم تاجروں سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ خدا کے بندو!کم ازکم رمضان میں تو اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی لاﺅ ۔ رمضان المبارک کے اِس ماہ مقدس میں سبزی،فروٹ ،گوشت کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں،حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ماہ مقدس میں اشیاءخورونوش کی قیمتیں کم ہوں تاکہ ہر مسلمان بآسانی سحر وافطار کیلئے اشیاءخورونوش خرید سکے ،اس لیے تاجر برادری کو بھی چاہیے کہ جہاں پورا سال منافع کماتے ہوخدا کے بندو اِیک ماہ تھوڑا منافع کم سہی۔گزشتہ روز اہلخانہ کے ہمراہ افطار کے سامان کیلئے اتوار بازار جانا ہوا،گاڑی پارکنگ کی اور جس طرف پھل سبزیاں سجیں تھیں اُدھر جانا ہوا،دیکھا کہ ایک خاتون اپنے ملازم کے ہمراہ آئیںاور نہ دام پوچھے نہ سلام کیا بس جی۔ دو کلو سیب کردو،دو کلو آم کردو،گرما پورا ہی تول دواوروہ نکلا تین کلو کا،جب خرید کرچکیں تو سارا سامان ملازم کے حوالے کرکے دکاندار سے مخاطب ہوئیں اور کہا ٹوٹل کردو تو جناب دکاندار نے ٹوٹل کیا رسید تھمائی اور پیسے کاٹ لیے۔ہمیں عجیب سا لگا خیر اُن خاتون سے بات کرنے کا جی چاہا لیکن وہ توابھی مزید خریداری میں مصروف تھیں۔ ہم نے مناسب سمجھا کہ موقع ٹھیک نہیں خاموشی بہتر ہے حالانکہ کسی بھی چیز کے حصول کیلئے سودا طے کرنا تو سنت ہے ،لیکن ہمارے ملک کے یہ اشرافیہ کب سمجھیں گے اِن کے اِسی رویہ کا بوجھ بیچارے غریب آدمی پر پڑتا ہے اورتاجر صاحبان بھی جن داموں ان امیروں کو سامان دیتے ہیںغریبوں کو بھی اِنہی داموں سامان فروخت کیا جاتا ہے۔خیردکاندار سے متوجہ ہوئے پوچھا خان بھائی!یہ خاتون آئیں نہ دام پوچھے نہ سلام کیا بس جی لے دے کر چلتی بنیں،کم ازکم آپ کو تو بتانا چاہیے تھا ،دکاندار کہنے لگا بھائی،ہم کیا بولتے ہمارے کچھ کہنے سے پہلے ہی خاتون نے سامان پیک کروایا اور دام دیے ۔خیر اس میں دکاندار کابھی تو قصور نہیں۔
ہمیں سوچنا چاہیے کہ جہاں ہم پورا دن روزے کیلئے بھوکے پیاسے رہتے ہیں اِس کا درس کیا ہے ،کہ ہم شام کو دسترخوان کوخوب سجائیں اور پیٹ بھر کر کھانا کھائیں بس۔نہیں ہرگز نہیں روزے کا تو درس ہی یہی ہے کہ ہمیں احساس ہو کہ وہ لوگ جن کے پاس دووقت کی روٹی نہیں،پینے کو صاف پانی مہیا نہیں وہ کیسے زندگی گزاررہے ہیں،ہمیں اِیسے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے،اور خاص کر اِس ماہ مقدس میں ہمیں اپنی سحر وافطار میں اُن غریبوں اور مسکینوں کو شامل کرنا چاہیے جو بیچارے دووقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔حکومت کی طرف سے رمضان سستے بازاروں کا انعقاد بھی خوش آئند ہے جہاں کم ازکم غریبوں کو اشیائے خورونوش توارزاں قیمتوں پر میسر ہیں۔ہماری حکومت سے استدعا ہے کہ رمضان المبارک میں غریبوں اور مفلسوں کیلئے مزید ایسے بازار وں کا انعقاد کیا جائے تاکہ ہمارے غریب اور نادار بھائی بھی رمضان المبارک کے اِس بابرکت مہینے میں اللہ کی رحمتیں سمیٹ سکیں۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*