تمھیں ایک راز بتانے لگی ہوں

تمھیں ایک راز بتانے لگی ہوں
من ہی من تمھیں چاہنے لگی ہوں
جوڑ کر نام اپنا تیرے نام سے
میں تھوڑا سا اترانے لگی ہوں
کھو کر تصور میں تیرے
میں خود کو ہی بھول جانے لگی ہوں
کہیں بھی کسی بھی محفل میں بیٹھوں
خیالوں میں تجھے سنگ اپنے لیجانے لگی ہوں
کروں جو کوئی لباس زیبِ تن میں
آئینے میں دیکھ کر خود کو شرمانے لگی ہوں
بسا کر تمہیں اپنے دل میں
میں بے وجہ مسکرانے لگی ہوں
پڑھ لے نا کوئی خمار آنکھوں میں نام تیرا
زمانے سے نظریں چرانے لگی ہوں
کس قدر رکھتی ہوں پاکیزہ تصور کو تیرے
میں سجدوں میں تیرے نام پر گڑگڑانے لگی ہوں

سیدہ زرنین مسعود




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*