عمل کی ضرورت

تحریر عبدالواث ساجد

پیارے بچو!
السلام علیکم!
کسی نے کیا خوب کہا ہے:
’’دلوں کو فتح کرنے کے لئے تلوار کی نہیں عمل کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔
انسان کی عادتیں اور اس کی زبان، ایسی چیزیں ہیں جو سخت سے سخت دل انسان کو بھی نرم کر دیتی ہیں ،کیونکہ جس انسان کی عادتیں اچھی ہوتی ہیں، وہ ہر ایک کو قائل کر سکتے ہیں، جن کی زبان میٹھی ہوتی ہے، وہ ہر کسی کو اپنا گرویدہ کر لیتا ہے۔ زبان میں مٹھاس ہر کسی کو پسند ہے۔ یہ عادت بہت سی برائیوں کو بھی دور کر دیتی ہے۔ ہمارا ملنا جلنا، ہمارا بات چیت کا انداز، ہمارا رہن سہن، غرض سب کچھ ایسا ہو کہ کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو، اس میں کوئی دکھاوا نہ ہوا، اس میں کوئی جھوٹی شان نہ ہو۔ اس میں کوئی غرور نہ ہو، اس میں ایسی کوئی بات نہ ہو جو کہ اصلیت کو چھپائے، ہمارا دل صاف رہنا چاہئے اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ قول اور عمل میں فرق نہ ہو۔ انسان تو وہی ہے جو کہے سو کرئے اور جو کرئے سو کہے۔ ورنہ لوگ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ جب ہم نے کسی چیز کو اپنے لئے برا سمجھاہے تو اسے دوسروں کے لئے بھی برا خیال کریں۔ انسان کی نیت اچھی ہونا چاہئے۔ کسی بھی انسان کا ارادہ پکا ہو اور اس کا مقصد نیک ہو تو وہ ہر منزل پا لیتا ہے۔ اس سے کسی کو تکلیف نہیں ہوتی، کیونکہ زور زبردستی سے کسی سے کام نہیں لیا جا سکتا۔ رعب، غصہ کسی بات کا حل نہیں ہے۔ سمجھداری کے ساتھ زندگی کے مسائل کو سمجھنا ان کا حل نکالنا ہی سکون بھری زندگی ہے۔ہم آپس کے اختلافات ختم کر کے ہر ایک کا احترام کریں اور اپنا فرض نبھائیں تو پھر دیکھیے زندگی کتنی حسین ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*