میاں صاحب بیٹیاں تو پھر سب بیٹیاں ہیں

تحریر فرحان منہاج

نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف احتساب عدالت میں جاری مقدمات میں پراسیکیوشن کی کاروائی اور گواہان کے مکمل ہونے کے بعد ملزمان کی جانب سے دفاع کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے. جس میں میاں محمد نوازشریف نے پہلے احتساب عدالت کے دیے گئے سوالنامے کا جواباب روسٹرم پر کھڑے ہوکر دیے اب ان کی بیٹی جو کہ مقدمے میں نامزد ہیں کی باری ہے اور وہ کٹہرے میں اپنی صفائی میں احتساب عدالت کی جانب سے دیے گئے سوالنامے کے جوابات ریکارڈ کروارہی ہے.
جب مریم نواز کو روسٹرم پر بیان ریکارڈ کرانے کے لیے بلایا گیا تو یہ منظر دیکھ کر نوازشریف کے اندر باپ کی غیرت و محبت جاگ گئی اور کورٹ روم میں موجود صحافیوں کے مطابق نوازشریف کے چہرے پر غم اور غصہ بالکل عیاں تھا نوازشریف میڈیا کے سامنے اس پر برہم بھی ہوگئے. انکا کہنا تھا یہ نئی روایت ڈالی گئی ہے جس میں باپ کے ساتھ اسکی بیٹی مقدمات بھگت رہی ہے انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں بھی کہا کہ اس کے نتائج سب کو بھگتنے ہونگے.




نوازشریف صاحب کو اپنی بیٹی کو روسٹرم پر کھڑے ہوتادیکھ کر اپنی عزت اور غیرت کا خیال آگیا .لیکن اسی نوازشریف کوسن 88 میں تب بیٹی کا خیال نہیں آیا جب یہ علماء سے اسلام میں عورت کی حکمرانی حرام ہے فتوے دلوایا کرتے تھے. اور بے نظیر کے حق حکمرانی کو اسلام دشمنی کہتے تھے. جناب اسی محترم نوازشریف صاحب کو بیٹی اور عورت کی عزت کا خیال کبھی نہیں آیا کہ جب90 کی دہائی میں انہوں نے بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو پر قابل اعتراض الزامات لگاتے اور تو اور انکی جعلی قابل اعتراض تصاویر ہیلی کاپٹر کے ذریعے نیچے پھینکوا کر انکی کردار کشی کی . جناب تب آپ کی زبان پر کوئی لفظ اور ماتھے پر شکن نہیں آتا تھا جب آپ کے سامنے شیخ رشید بے نظیر بھٹو کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے. جب میاں صاحب آپکا احساس نہیں جاگا جب آپ نے بے نظیر بھٹو کے خلاف لاتعداد مقدمات بنائے اور بے نظیر بھٹو اپنے شیر خوار بچوں کو گود لیے مقدمات بھگتیں تھیں تو آپ خوش ہوا کرتے تھے؟
بات بے نظیر پر ختم نہیں ہوئی آپ نے عمران خان کو سیاست کے میدان میں زیر کرنے کے لیے ان کی پہلی بیوی جمائمہ خان کے خلاف انتہائی نازیبا مہم چلائی آپ نے جمائمہ.کے خلاف مقدمات قائم کیے. جمائمہ کو اتنا زچ کیا کہ عمران خان اور جمائمہ خان کو علیحدہ ہونا پڑا ـ
زیادہ دور نہیں جاتے آپ کو بیٹیوں اور عورت کی توقیر اور مقام کا اتنا خیال ہے کہ ماڈل ٹاؤن میں پنجاب پولیس نے تجاوزات کے نام پر جھوٹے آپریشن میں آپ کے مخالفین کو سبق سیکھانے کے لیے آپریشن کیا. اور اس آپریشن میں دو خواتین جن میں ایک حاملہ تھی کو قتل کرڈالا لیکن آج تک آپ کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلا. کیونکہ اس قتل عام کا کھرا آپ.کے گھر کی طرف جاتا ہے؟ عائشہ احد کے لیے آپ.کے اندر کبھی ہمدردی نہیں جاگی جو آپ کے بھتیجے سے حق زوجیت مانگتی رہی؟
میاں صاحب بیٹیاں تو بیٹیاں ہوتیں ہیں جب آپ نے کسی کی بیٹی کے لیے پھول نہیں بچھائے تو آپ کیسے سمجھ گئے کہ آپ کی بیٹی کے سامنے کانٹے نہیں آئیں گے. یہ آپ کے کیے ہوئے جرم کی سزا ہے ہی مگر ان بیٹیوں کی آسمان چرتی آہوں کا بدلہ بھی ہے




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*