سنو

اب کے جو تم ملنے آؤ گے
بہت سی باتیں کرنی ہیں
کچھ اپنی کہانی کہنی ہے
کچھ قصے تمھارے سننے ہیں
اس بار جو ملنے آؤ تو
پھر لوٹ کے تنہا مت جانا
کچھ شعر ہمارے لے جانا
کچھ نغمے اپنے دے جانا
دسمبر کی سرد شاموں میں
لمبی کالی راتوں میں
جب یاد تمھاری ستائے گی
اور نیند ہمیں نہیں آئے گی
ہم ان نغموں سے اپنا دل بہلایں گے
اک بات کہوں جانا
ہم تم کو بھی یاد بہت آئین گے
زرنین مسعود




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*