میں روتی نہیں

میں روتی نہیں
خاموش رہتی ہوں
جتنے بھی ہوں غم
ہنس کے سہتی ہوں
میں ہوں عورت
حوا کی بیٹی ہوں
نکل کر جنت سے آدم
تنہا زمین پر بہت رویا تھا
مٹانے اسکی تنہائی زمین پر
اللہ نے حوا کو بھیجا تھا
پھر چلا سلسلہ معاشرت کا
وجود آیا زمین پر جب عورت کا
رکھی طاقت اللہ نے جو مرد میں زیادہ
برداشت کی قوت سے عورت کو کیا آراستہ
مرد کو محافظ اور کفیل بنایا
عورت کو وفا ایثار کا پیکر بنایا
بنا کر عورت کو شریک سفر
مرد کو گناہوں سے بچایا
تخلیق دنیا کی جب اللہ نے چاہئیے
عورت کو تخلیق کا وسیلہ بنایا
رکھکر دونوں میں ایک دوسرے کی چاہت
قرآن میں اپنے ہونے کی نشانی بتایا
نظام زندگی کو بہتر چلانا مقصود تھا
مرد کو کفیل عورت کو تربیت کا گہوارہ بنایا
زندگی میں
زندگی میں تمام رشتوں کی مالا پروئ
جنت میں پھر رہ جائنگےدوہی
نہیں خون کا دل کا رشتہ ہے گہرا
ازل سے ابد تک کا یہ سفر ہےٹھہرا

سیدہ زرنین مسعود

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*