منشور

تحریر عبدالجبار خان دریشک

ملک میں سیاسی موسم بھی گرمیوں کے سیزن کی بارشجیسا بنا ہوا ہے ‘گرمیوں کی بارش بھی ہر طرف ایک جیسی نہیں برستی بارش گر ہوتی بھی ہے تو شہر کے ایک حصے میں ، دوسرے حصے کو پتہ بھی نہیں ہوتا، ایسے ہی سیاست دانوں نے ترقیاتی کام اپنے حلقوں میں کرائے ہیں ، جن کو منصفانہ انداز میں نہیں کیا گیا ، جبکہ گرمیوں کے موسم میں تیز ہوائیں آندھی طوفان چلتے ہیں اور ایسے موسم میں بارش برسانے والے بادل کم اور گرجنے والے خالی بادل زیادہ ہوتے ہیں بس یہ بادل گرج گرج کر چلے جاتے ہیں، ایسے ہی نہ برسنے والے بادل آج کل سیاسی جلسوں میں گرج رہے ہیں۔
گرمی کے موسم میں چلنے والی تیز آندھیوں سے نقصانات بہت ہوتے ہیں، اکثر بڑے پرانے درخت زمین بوس ہو جاتے ہیں جو کئی سالوں سے زمین کی سطح پر مضبوطی سے سینہ تانے کھڑے ہوتے ہیں ، تیز ہوا کی لہر جب چلتی ہے تو ایسے ہی ہوتا ہے لہر جس طرف رخ کرے ہر چیز کا جھکاؤ بھی اس جانب ہوتا ہے ساتھ ہی یہ طوفانی آندھی جس رخ کو چلتی ہے تو راستے میں آنے والا سارا گند اور کچرا بھی اپنے ساتھ اٹھا لاتی ہے ، اکثر ہم نے دیکھا ہے گرد آلود ہواؤں میں ناکارہ اشیاء کچراو استعمال شدہ شاپر بھی اڑ رہے ہوتے ہیں جن کو استعمال کے بعد اکثر لوگ پھینک دیا کرتے ہیں بعض شاپر کچھ عرصہ جھاڑیوں میں خود اٹکے رہتے ہیں ، اور یہ ہلکی ہوا چلنے پر کبھی شمالی تو کبھی جنوبی طرف رخ کر کے پھر پھر کرتے رہتے ہیں اور اڑان نہیں بھرتے ، یہ پھٹ جاتے ہیں اور ان میں کئی کئی سوراخ ہو جاتے ہیں لیکن ایسے شاپر کسی کام کے نہیں رہتے حتی کہ ان میں ان کے جیسا کچرا بھی نہیں ڈالا جاسکتا ، پھر اچانک جب بڑا طوفان آتا ہے تو ایسے پھٹے شاپر باقی کچرے کے ساتھ اڑ کر دوسری جگہ شفٹ ہو جاتے ہیں، ایسا گند اور کچرا ہمیشہ طوفانوں کا فائدہ اٹھاتا ہے ، سیاسی جوڑ توڑ کی صورت حال بھی تیز ہواؤں اور طوفانوں جیسی ہوچکی ہے جو آ رہا ہے سب قبول ہے



یہ تو صورت حال تھی موسم گرما کے رنگ بدلتے موسم کی جو کبھی ایک جیسا نہیں ہوتا ہے ، جوں جوں الیکشن نزدیک آ رہا ہے سیاسی پارٹیوں میں جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے ، کہیں سیاست دان عوام کو خیالی پلاؤ پر رضا کر رہے ہیں تو کہیں سیاست دانوں سے زیادہ چالاک لوگ انہی سیاست دانوں سے سیاست ، سیاست کھیل رہے ہیں ، مقامی سطح کی سیاست کی یہ صورت حال ہیکہ ایک گھر میں دو تین بھائی ہیں تو ان میں سے ہر ایک بھائی کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ ہے ، اور ایسے لوگ ہر دور میں فائدے اٹھاتے ہیں، کچھ لوگ الیکشن قریب آتے ہی سیاسی وفا داریاں تبدیل کر لیتے ہیں اور وہ بھی منفرد ڈرامائی انداز میں دوست احباب کے لیے کھانے اور دعوت کا بندوبست کر کے دو تین دیگیں پکا کر غربا کو احباب کے ساتھ جمع کر کے سیاسی طاقت کا مظاہر کیا جاتا ہے



پھر نئی جگہ وفاداریاں دیکھا کر ذاتی مفادات حاصل کیے جاتے ہیں ، ایسے لوگوں کے پیچے ووٹ بنک نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ، اگر دو چار غریب ان کے ساتھ ہوں بھی تو ان تو بچاروں کو پورے پانچ سال نیکیاں یاد کروائی جاتی ہیں ، آپ کا شناختی کارڈ بنوایا تھا ، گردے کی پتھری کے آپریشن کے لیے سرکاری ہسپتال میں سفارش کی تھی یا تھانے میں بند موٹر سائیکل چھوڑوا دیا تھا، خود ایسے لوگ سرکاری زمینوں پر قابض ہوتے ہیں ، بس اڈوں کی سے بھتہ وصولی کرتے ہیں ، اپنے بچوں کے لیے بڑی نوکریاں حاصل کر کے فائدے حاصل کرتے ہیں
سیاسی پارٹیاں بدلنے والے نظریاتی اور وفادار نہیں ہوتے ان کے ویڑن قومی اور علاقائی مفاد میں نہیں ہوتا بلکہ ذاتی مفاد کے ساتھ چند افراد کے لئے انفرادی فوائد ان کا ویڑن ہوتا ہے ، اگر کسی ایک سیاسی جماعت کا اپنا منشور ہے جس میں وہ ان کا آئندہ کا لائحہ عمل ملکی نوعیت کا ہوتا ہے ، ایسے ہی ایک مقامی سیاست دان کا اپنا ایک منشور پارٹی کے علاوہ مقامی مسائل کے حل کے حوالے سے بھی ہوتا ہے ، لیکن نہایت ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے اکثر سیاست دانوں کو اپنے مقامی حلقے اصل مسائل کا پتہ بھی نہیں ہوتا۔
ایک مقامی سیاست دان کو صرف اتنا پتہ ہوتا ہے کہ اس کے حلقے میں ووٹر کتنے ہیں میرے ساتھ کتنی برادریاں ہیں اور میرے مخالف کون کون ہیں ان کو مات کیسے دینی ہے وغیرہ وغیرہ ، لیکن ایسے سیاست دان کو اپنے حلقے کی آبادی جن میں مرد خواتین اور بچوں کی تعداد تک کا علم نہیں ہوتا ، سکول کتنے ہیں اور سکولز میں کتنے بچے زیر تعلیم ہیں اور سکولز سے باہر کتنے بچے ہیں ، آبادی کے مطابق ہسپتال کتنے ہیں اور کیا کیا سہولیات دستیاب ہیں اور کیا سہولیات دستیاب نہیں ہیں ، نوجوانوں کے لیے حلقے میں کتنے روز گار کے مواقعے دستیاب ہیں ،نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے کتنے ادارے حلقے میں قائم ہیں، زرعی و صنعتی پیداوار علاقے کی کتنی ہے، علاقے میں کارخانے ، کاروباری مراکز اور نہریں کتنی ہیں ان میں پانی کی کیا صورت حال کیسی ہے ایسی بہت ساری باتیں جن کا علم ایک سیاست دان کو اپنے حلقے کے بارے میں ہونا چاہیے وہ ان سے لاعلم ہوتے ہیں ، الیکشن سر پر ہیں لیکن حلقہ کے حساب سے کسی سیاست دان کا میں مقامی نوعیت کا منشور نہیں دیکھا ، اب آپ خود اندازہ لگائیں ایسے لوگ اسمبلیوں کیسے اپنے علاقائی مسائل کی بات کریں گے جن کو اپنے حلقے اعداد و شمار اور مسائل تک کا پتہ نہیں



جب کاغذات نامزدگی جمع کیے جاتے ہیں تو امیدواروں سے چند سوالات کیے جاتے ہیں آپ اقتدار میں آکر کیا تبدیلی لائیں گے کوئی آیات سنا دیں دعا قنوعت سنائیں لیکن ان سے حلقے کی آبادی سکولوں کی تعداد ہسپتالوں کی تعداد ڈاکٹر اور عملے کے فگر نہیں پوچھے جاتے ہیں۔ اگر ایسے سوالات پوچھے جائیں تو سیاست دان بھی اس بہانے علاقائی مسائل سے واقفیت حاصل کر لیں گے، اور ان مسائل پر اپنا منشور تیار کر اس کو پایا تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں گے ، لیکن اس کی ضرورت آج کے سیاست دانوں کو نہیں بس انہیں خوشماندی، چمچے اور پھٹے شاپروں کی ضرورت ہے




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*