کیا ہم اپنا قومی حق ادا کر رہے ہیں

پاکستان اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔یہ وطن جیسے حاصل کیا گیا ہے ۔جو جو قربانیاں دی گئیں ہیںاُن سے پورا عالم واقف ہے ۔کتنی دہائیوں سے اِس وطن کا کیا ہم حق ادا کر سکے ہیں۔کیا ہم سب نے اپنے وطن کے مفاد کے لئے سوچا ہے کیا ہم نے کھبی اس کے شہری ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔عوام بہت بڑی طاقت ہوتے ہیں۔اگر یہ پر عزم ہو جائے تو ملکوں کی تقدیر بدل کے رکھ دیتی ہے ۔اِس کے لئے شعور کا بیدار ہونا ضروری ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیںکیوں کر رہے ہیںاگر ہمیں یہی شعور ہو جائے کہ آزاد خودمختار زندگی کا دارومداروطن کی بقا اور سلامتی پر ہے تو ہم اپنے تمام تر زاتی مفادات کو بھول کر وطن کی بہتری بقا سلامتی کے لئے یکجاں ہو جا ئیں ۔پھر اندرونی کیا بیرونی سازشیں بھی ناکام ہو جائیں ۔اس سب کے لئے ہم سب کو متحد ہونا پڑے گا ۔تاکہ ہمارے اُپر کئی ایسے حکمران مسلط نہ ہوں کہ ہمیں مہروں کی طرح استمال کیا جائے ۔ملک کی سلامتی ہماری سلامتی ہے ۔یہ وطن ہمارا ہے یہ ہمارا حق ہے کہ ہم ایسے لوگوں کو چنیں جو ذاتی مفاد کو نہیں ملکی مفاد کو اپنا فرض سمجھے ۔عوام اپنی طاقت استمال کر کے اس گمراہی سے نجات حاصل کر سکتی ہے جو کئی دہائیوں سے رائج ہے ۔اس کی بنادی وجہ ہے کہ ہم لکیر کے فقیر ہو گئے ہیں ۔شروع سے جن کو چن رہے ہیں وہی لگاتار ہمارے لئے بہترین ہیں ۔چاہے اُس سب کا خمیازہ وطن کو بھگتا نہ پڑے ۔بہت ہو گیا بہت خمیازہ بھگت لیا اب تو ہمیں اس وطن کا حق ادا کرنا چاہیے اُن سب قربانیوں کا جو ہمارے ابائو اجداد نے دی کہ اُن کی آنے والی نسلیں آزاد اور خودمختار زندگیاں گزار سکیںہم کیا کر رہے ہیں ہم اپنے وطن کو خود اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار کر رہے ہیں۔ہمارے آپس کا اتفاق نہ ہونے کی وجہ جو ہمارے وطن کے دشمن ہیں جو پاکستان کے بننے کے خلاف تھے وہ سب جو ہم اپنے اوپر حکمران مسلط کرتے ہیں اُن کو آلہ کار بنا کر ہمارے وطن کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔ووٹ ایک قومی حق ہے ایک ایسا فریضہ جو ہمارے پاس امانت ہوتا ہے ۔اگر خیانت کی جائے تو اپنا مشکلوں مصیبتوں کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے ۔ووٹ کے زرئیے ہم



اپنے وطن کے لئے بہترین لوگوں کو چن سکتے ہیںجو ہم سمجھتے ہیں ہمارے لئے ہمارے ملک کے لئے ایسے کام کریں جو ہمارے لئے بہتر ہو ۔لیکن جب سے پاکستان بنا ہے جو خاندان جس سیاسی جماعت سے وابستہ ہے اسی کے ساتھ ہی چلا آرہا ہے چاہے کوئی غلط ہے یا سہی لیکن جن سے جُڑ گئے ہیں انہیں کسی حال میںنہیں چھوڑنا یہی ملک کی ترقی فلاح بہود کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہیں جب ابتدا ہی تززل کا شکار ہو گی تو کیسے منزل تک پہنچا جا سکتا ہے ۔اپنے شعور کا بیدار کرنا ہو گا اپنے ضمیر کی آواز کو سننا پڑے گا ۔مثبت فیصلے پر عمل کرنا ہو گا ۔زات برادریوں خاندانی روائیتوں سے با لا تر ہو کے اپنے اپنے ملک کی بہتری اچھائی کے لئے ووٹ ڈالنا ہو گا ۔ہم سب کیسے فراموش کر سکتے ہیں اُن عظیم رہنمائوں کو اُن کی قربانیوں کو اُن مصیبتوں تکلیفوں کو جو انھوں نے آنے والی نسلوں کے لئے جھیلیں۔ہم سب کیا کر رہے ہیں زات برادریوں میں پھنس کے رہ گئے ہیںجو سلسلے خاندان سے چلتے آرہے ہیں اُن کی تقلید میں گم ہو کر رہ گئے ہیں ۔کیا ہم حق ادا کر رہے ہیں اپنی آزادی کا جو ہمیں ملی ہوئی ہے غلط ہو رہا ہے یا ٹھیک ہم سب آنکھیں بند کر کے اپنی اپنی راہ پر چلی جا رہے ہیں ۔پاکستان ہے تو ہم ہیں آزادی کی قدر کیا جو غلام ہیں وہ ہی بہتر جانتے ہیں۔آزادی کو برقرار رکھنے کے لئے اپنے ملک کی سا لمیئت کے لئے ہمیں اپنے ملک کے لئے بہتر قیادت کو منتحب کرنا ہو گا ۔ہمیں بھی اپنی آنے والی نسلوں کے لئے اپنی سوچوں کر اپنے فیصلوں کو بدلنا ہو گا ۔دشمنوں کو اُن کے ناپاک عزائم سے روکنا ہو گا ۔پاکستا ن سے محبت کا عملی ثبوت دینا ہو گا ۔عہد کرنا ہو گا ووٹ جو امانت ہے اس کا غلط استمال نہیں کریں گے ۔اپنے اس حق کو استمال کرتے ہوئے ملکی مفاد کو پیش نظر رکھیں گے ۔پاکستان ہمیشہ رہے زندہ باد ۔آمین۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*