اصلاح معاشرہ کیسے ممکن

تحریر: رقیہ فاروقی، راولپنڈی
اللہ تعالیٰ نے کائنات ہستی کو وجود دیا۔ ہر قسم کے جاندار اور بے جان مخلوقات پیدا کی گئی، پھر اشرف المخلوقات انسان کو بنایا گیا تھا۔ تخلیق انسانی کے وقت نورانی مخلوق نے سوال کیا تھا کہ کہیں یہ انسان زمین وآسمان کے درمیان خلا کو دنگا وفساد سے آلودہ نہ کر دے۔ یہی انسان علم کے علم کو تھام کر اوج ثریا تک پرواز کرے گا۔ اسی نسل انسانی میں خدائے وحدہ لا شریک کے پیغمبر تشریف لائیں گے۔ جو اصلاح عالم کے لیے کوشاں رہیں گے۔ ہر پیغمبر کی محنت کا میدان جدا ہوگا۔ معاشرتی بگاڑ قوموں کو لپیٹ میں لے لے گا۔ ساڑھے نو سو سال کی طویل محنت گنے چنے لوگوں پر اثر انداز ہوگی،لیکن ہدایت کے رہنماو ¿ں کا قافلہ نہیں رکے گا۔
ایک کے بعد ایک ہادی آتا رہے گا۔ پیغمبروں کا قافلہ انسانیت کی رہنمائی کے لئے کوشاں رہے گا لیکن اس فانی دنیا میں بقاءصرف خدائے وحدہ لاشریک کو حاصل ہے۔ جہاں انسانیت کی آزمائش کا وقت آیا۔ ہادی دنیا سے رخصت ہوا، وہیں ازلی دشمن نے اپنا کاری وار کر لیا۔ ہر گناہ، ہر نافرمانی معاشرے میں رواج پا گئی اور کرہ ارض فساد کی آماج گاہ بن گیا۔ قتل وخون ریزی نے سارے انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس سارے فساد کی جڑ معاشرے کی خرابی بنتی ہے۔
معاشرہ انسانوں کے میل جول کا نام ہے: گویا انسانیت کے اجتماع سے معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے۔ پھر انسانوں کے مزاج کا اختلاف معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ معاشرتی بگاڑ کے ذمے دار بھی درحقیقت ہم ہی ہوتے ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص اصلاح معاشرہ کا خواہاں ہوتا ہے، لیکن اپنی ذات کی اصلاح سے یکسر غافل ہوتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل پورا عرب معاشرتی اعتبار سے نزع کے عالم میں تھا۔ بدی کا سورج




اپنے عروج پر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر رحم فرمایا اور اسلام جیسا نور ہدایت عطا فرمایا۔معاشرے کی اصلاح کے لیے پہلا قانون مقرر کیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوا ”اے ایمان والو! اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاو ¿“۔
سب سے پہلے انسان کے لئے اپنی ذات کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی اصلاح کی فکر کرے۔ انقلاب کے لیے ایک انسان ہی کافی ہوتا ہے۔ گزرے وقتوں میں کسی بادشاہ نے اپنی رعایا کے اخلاق کا امتحان لینا چاہا۔ ایک حوض کھدوایا گیا اور رعایا میں اعلان کروا دیا گیا کہ ہر کوئی رات کو اس میں دودھ ڈال کر جائے۔ ہر کوئی اس بھروسے پر پانی ڈالتا رہا کہ سب دودھ ڈالیں گے۔ میرے پانی ڈالنے سے کیا فرق پڑے گا۔ صبح سارا حوض پانی سے بھرا ہوا تھا۔ ہماری مثال بھی کچھ اسی طرح ہے۔ کہ اپنا آئینہ صاف کرنے کے بجائے معاشرے کی گندگی کو دوش دیتے ہیں۔ پھر میڈیا ہو یا نجی محافل، ہر کوئی اپنی ذات میں پارسا بن کر دوسروں پر کیچڑ اچھالتا ہے۔
ایسی صورت حال میں ہم کبھی بھی برائیوں کو نہیں مٹا سکتے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب ہدایت میں یہ ضابطہ بیان فرمایا ہے کہ اگر برائی کو مٹانا ہو تو اچھائی کو عام کردو۔ اسی صورت میں اصلاح معاشرہ ممکن ہو سکتی ہے۔ آئیے! ہم سب اپنے حصے کا کام کریں اور اپنی ذات کو بنیاد بنا کر ایک بہترین معاشرے کی داغ بیل ڈال دیں۔ اگرچہ اپنی خامیوں کی اصلاح بڑا کٹھن مرحلہ ہے۔ ہمت مرداں۔۔۔۔ مدد خدا




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*