ایمان کی لذت

تحریر: سعدیہ انعم، کراچی
عقل و شعور جس کی بنا پر انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا یہی عقل ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اس دنیا میں کیوں پیچھے گئے ہیں؟ اور ہمارا مقصد حیات کیا ہے؟ بے شک اسلام کا حقیقی تصور عبادت و بندگی ہے۔ عبادت سی مراد خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ رب العزت کی تعظیم کرتے ہوئے اس کی اطاعت و فرماں برداری کرنا ہے۔ یوں تو فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں مگر نفس کے ہوتے ہوئے نفس کو مار کر لگام لگا کر اللہ کے حضور جھکنے کا لطف ہی الگ ہے اور یہ لطف ملائک کے حصے میں نہ آیا بلکہ انسان جسے خلیفہ بنایا گیا نفس سے نوازا گیا اہل نفس ہونے کی بنا پر اسے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا اور پھر اس کے اختیار کرنے والے کے لئے بے پناہ اجرو ثواب کی نوید بھی سنائی گئی۔ اگر تقویٰ کو عبادت کا حسن کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔
تقویٰ کیا ہے ؟ اگر آسان لفظوں میں بیان کیا جائے تو انسان کا اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی سے باز رکھنا تقویٰ ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہر اس عمل سے خود کو روکنا جسے اللہ نے نا پسند فرمایا وہ تقویٰ کہلاتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے ”اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو“۔ (سورة الحشر)
سورة الطلاق میں تقویٰ اختیار کرنے والوںکو بشارت دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ ”جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لئے راستہ پیدا کر دے گا اور اسے وہاں سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا“۔ تقویٰ اختیار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے ظاہر اور باطن میں تضاد نہ ہو۔
عبادت میں اخلاص سے مراد کسی کے اعمال کا ہر طرح کی آمیزش اور ملاوٹ سے پاک ہونا ہے اخلاص کے بغیر عبادت بے جان ہے ۔اخلاص کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نام کی نسبت سے ایک پوری سورت سورة اخلاص کا نزول فرمایا جس سے اخلاص کا واضح ایک مفہوم سمجھ میں آتا ہے کہ ”اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک ٹھہرا کر ملاوٹ نہ کرو “۔اسی طرح سورہ الزمر میں بھی اللہ نے اپنے نبی کی مبارک زبان سے اپنا کلام پڑھواتے ہوئے ہمیں پیغام پہنچایا۔ ”خدا کی عبادت کرو (یعنی) اس کی عبادت کو ( شرک سے) خالص کر کے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ



خلوص دل سے سجدہ ہو تو اس سجدے کا کیا کہنا
وہیں کعبہ سِرک آیا جبیں ہم نے جہاں رکھ دی
اخلاص کا تعلق عقیدے سے ہے اور عقیدہ دل کی نیت کا آئینہ ہوتا ہے۔ جو انسان کی نیت کی عکاسی کرتا ہے۔ خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت کرنا ہی دراصل اخلاص کے ساتھ عبادت کرنا ہے۔ جہاں تقویٰ بندگی کو حس سے نوازتا ہے وہیں عبادت کی لذت خشیت الٰہی سے ہے یہ وہ لذت ہے جس کا مزہ موت کا مزہ چکھنے سے قبل ہی محسوس کیا جا سکتا ہے اس کا لطف تو جنت میں بھی نصیب نہ ہوگا کیونکہ بہشت میں نہ کسی عذاب کا خوف ہوگا نہ کسی جہنم کا ڈر۔ جنتی ہر قسم کے خوف سے آزاد ہوگا۔
خشیت خوف کو کہتے ہیں اور خشیت الٰہی سے مراد اللہ کا خوف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ڈر انسان کے دل میں ایک طرف خلوص کا بیچ بوتا ہے تو دوسری طرف اسی بیچ سے تقویٰ کے شجر کی نشوونما بھی کرتا ہے۔ خشیت الٰہی میں بے شک دل سے گناہوں کے میل کو دھو ڈالتے ہیں۔ خلوت میں کی گئی وہ توبہ جس میں انسان اللہ کے عذاب سے ڈر کر اس کی طرف لوٹ آئے جس میں خوف الٰہی کے باعث انسان آئندہ گناہوں سے کنارہ کشی کرنے کی نیت کر لے ایسی توبہ عبادت کا ایک خاص درجہ رکھتی ہے۔
اللہ کو ایسی توبہ بہت پسند ہے جس طرح دعا ایک عبادت ہے بالکل اسی طرح توبہ بھی ایک عبادت ہے۔ ایسی توبہ جس کی کونپلیں خشیت الٰہی کے بیچ سی پھونٹتی ہوں انسان کی تقدیر کا پانسہ پلٹ سکتی ہیں کیونکہ اللہ نیت، فریاد، دعا اور اعمال کو دیکھتے ہوئے بھی انسان کی تقدیر بدلنے پر قادر ہے۔ جس انسان کو ہمیشہ یہ خوف رہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے وہ خود کو گناہوں سے بچانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور یہی تو متقین کی نشانی ہے کہ وہ خود کو شر سے بچانے کے کوششوں میں لگا رہتا ہے اور یہی مسلسل کوششیں وہ گرہیں ہوتی ہیں جن سے نفس کو لگام ڈالی جاتی ہے اور بیشک اہل تقویٰ کا نفس بے لگام نہیں ہوتا کہ فوراً سے شیطان کے بہکاوے میں آجائے ابلیس خبیث کو بھی اس پر اچھی خاصی محنت کرنی پڑتی ہے۔



جہاں تک بات ہے کہ انسان اپنی عبادت کو کس طرح خالص بنا سکتا ہے؟ کیسے وہ ایمان کی لذت( حلاوت) کا مزہ چکھ سکتا ہے اور کیسے وہ اپنے نفس کو اللہ کے غضب سے ڈرا کر جہاد کر سکتا ہے۔ خلوص سے کی گئی عبادت کی پہلی سیڑھی نیت ہے اور اگر انسان کی نیت ہدایت کے راستے پر چلنے کی ہو اگر کسی بندے کا ارادہ اللہ کی رضا کا حصول ہو۔ اگر کسی مسلمان کی جستجو اللہ کا قرب ہو تو اللہ رب العزت اس پر اپنی رحمتوں کا خاص نزول فرماتا ہے اور اسے ان لوگوں میں چن لیتا ہے جن کی روحیں اس کے ذکر سے سانس لیتی ہیں جن کے اعضا گناہوں کا ارتکاب کرنے سے لرزتے ہیں اور جو اللہ کی ذرا سی ناراضگی سے مضطرب اور بے چین ہو جاتے ہیں پھر اگر ندامت کا ایک بھی آنسو اللہ کی رضا کے حصول کے لیے دل کی کسی گہرائی سے توبہ کی دستک بن کر باہر نکل آتا ہے تو عرش ہلا دیتا ہے اور پھر اللہ اپنی رحمت کے تمام دروازے اپنے اس بندے کے لیے کھول دیتا ہے اور کہتا ہے ”مانگ جو مانگنا ہے کہ مجھے حیا آتی ہے اس بندے کو خالی ہاتھ لوٹاتے کہ جو مجھ پر توکل کرکے میرے پاس کچھ لینے آیا ہو اور میں اسے لوٹا دوں ”عبادت میں اخلاص مومن ہونے کی نشانی ہے جبکہ عبادت میں تقویٰ اور خشیت الٰہی بندے کی اللہ سے محبت کے خاص وہ آئینے ہیں جن میں بندے کی روح کی پاکی اور ریاءسے پاک ہر عمل کی شبیہ واضح دکھائی دیتی ہے اللہ کو ہماری بے پناہ عبادتوں کی ضرورت نہیں اسے بھلا ضرورت ہو بھی کیسے سکتی ہے؟ ضرورت تو ہماری ذات سے جڑی ہے۔
اللہ کو اپنے وہ بندے بہت پسند ہیں جو خود کو اس کی نافرمانیوں سے روک کر اپنی بے جا خواہشات کا گلہ گھونٹ کے اس کی رضا میں اپنا سکون ڈھونڈھتے ہیں، جو کبھی اس کے خوف سے تو کبھی اس کی محبت میں اس کے سامنے جھکتے ہیں، روتے ہیں، گڑ گڑاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے نکلتے خلوص کے موتی ان کی محبت کا ثبوت دیتے ہیں اور بیشک یہی عبادت بہترین اور حقیقی عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ دل کی غلاظت کو دھونا ہے تو خشیت الٰہی سے دھو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے کہ ”اگر کوئی شخص اتنا روئے کہ پانی آنکھ کے اندر ہو اور اس کی مقدار مکھی کے سر کے برابر ہو تو اس کو بھی جہنم کی قید سے آزاد کر دیا جائے گا۔ مسلمانو! ڈرو اللہ سے کیونکہ جو اس ایک (اللہ) سے نہیں ڈرتا وہ ہر ایک سے ڈرتا ہے اور جو صرف اللہ سے ڈرتا ہے وہ پھر کسی سے نہیں ڈرتا۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*