پروفیسر یوسف حسن سے یوسف حسن تک

ڈاکٹر فرحت عباس

بہاولپور سے راولپنڈی میری پیشہ ورانہ تعیناتی ہوئی تو ادب کے طالب اور طالب ِعلم کے طور پر دبستانِ راولپنڈی سے تعارف کا سلسلہ شروع ہوا۔ جن احباب سے اور معتبر ادبی شخصیات سے ملا،ان کی مجلسی اور علمی زندگی کو  دیکھا، قریب سے دیکھنے،سمجھنے اور اٹھنے بیٹھنے کا موقع ملا، ان میں محترم یوسف حسن( جنہیں میں خوابیدہ یوسف حسن کہتا ہوں) پیش پیش ہیں ۔ان سے عمومی رفاقت تو بیس برس پر محیط ہے



لیکن گذشتہ تین برسوں سے وہ میرے اس قدر قریب ہوۓ کہ ان میں مجھے ایک شفیق استاد،ایک رفیق ِ کار اور  دکھ درد بانٹنے والا رنجیدہ انسان نظر آیا جو بالآخر سڑک کے عین وسطی فٹ پاتھ کی روشنیوں میں گھنٹوں بیٹھا اپنی آئیندہ نسل کے بارے میں سوچتا اپنے استاد ِ محترم اقبال کوثر کی شاعری کو مرتب کرنے کی فکر میں غلطاں علم و ادب کو عملی وانقلابی خطوط پر شعوری تحریک دینے کی ہنر آشنا کاوشیں کرتا ہوا چل بسا۔۔۔۔ یہی پروفیسر یوسف حسن جسے اج کی دنیا انقلابی یوسف حسن کا نام دیتی ہے میرے پاس روزانہ سات آٹھ گھنٹے بیٹھتے،اٹھتے،چلتے پھرتے درسِ حیات اور نوید انقلاب دیتا نظر آیا۔ مجھے اعتراف ہے اور اعزاز و ادراک بھی کہ وہ اکثر غزل کہہ کر مجھے سناتے اور راۓ لینے می کوئی تامّل نہ کرتے۔۔۔۔ اور اگر کوئی مشورہ سازی ہو جاتی تو دوبرہ تحریر کرتے،دکھاتے اور ایک عدد فوٹو کاپی مجھے تھما دیتے کہ سنبھال رکھوں۔۔۔۔ سو اب تک ستر کے لگ بھگ ان کی قلمی فوٹو کاپیاں میرے پاس موجود ہیں جن میں سے اکثر لاہور،کراچی اور راولپنڈی کے بزرگ ہم عصر شعراء کرام کو براۓ مضمون ارسال بھی کی ہیں۔۔۔۔ مجھے فرماتے کہ مطالعہ کیا کروں اور یہ بھی کہتے کہ یوں غزل کہتے ہیں جیسے احمد ندیم قاسمی،خالد احمد اقبال کوثر اور ان کا شاگرد یوسف حسن۔   احمد ندیم قاسمی اور خالد کے مداح، اقبال فیض ساخر صدیقی،عرش صدیقی،نقوی احمدپوری،حزیں صدیقی،عارف عبدالمتین،ظہور نظر،احمد فراز اور بیدل حیدری کے معترف اور اپنے عہد کی شعری نسل سے شاکی۔۔۔۔ بس یہی کہتے ہوئے رخصت ہو گئے :کہ یہ مطالعہ کریں، مطالعہ کیوں نہیں کرتے،اساتذہ کو کیوں نہیں پڑھتے،ہم عصر شاعرانہ روش کیوں نہیں دیکھتے، افتخار عارف،احسان اکبر،توصیف تبسّم،سحر انصاری،اسلم انصاری،ممتاز اطہر،جلیل عالی اقبال شمیم جمیل یوسف، رفیق سندھیلوی کے ذاکر اور حلیم قریشی،سلطان رشک اور نسیمِ سحر کی کارفرمائیوں کے راوی محترم یوسف حسن ہماری اکیسویں صدی کے ایک ایسے دانشور ہیں جو۔ بہت تیزی اور خاموشی سے زندگی گزارتے گزارتے  خود بھی گزر گئے ہیں۔ میں ان کا دوست، رازداں اور ان کا معالج بھی ہوں،وہ بے کراں وسعتوں میں انسان کی موجود اور لاموجود حقیقت سے اشنائی رکھتے ہوئے انسان کی بے خبریت پر بے چین ہی رہے۔میں ان کی شخصیت سے مانوس،نظریاتی معتوب اور علمی وادبی قد سے مرعوب ہوں اور ہونا بھی چاہیے۔۔۔وہ ایک حلیم الطبع بے ضرر اور نحیف جان کے لطیف انسان تھے ۔ مجھے ان کے مارکسسٹ رویوں سے اختلاف نہیں مگ ہر جا مارکسسٹی حوالہ ان کی پہچان بنا رہا اور بنا رہے گا۔ ان کا شاعرانہ جوہر،عالمانہ گفت و شنید اور انقلابی تحریر و تقریر ہمیشہ ہمیشہ مرعوب کرتی آئی ہے۔بے شک وہ ایک سچا انسان،سچا محبِ وطن،اپنی ماں آور ماں دھرتی کو محبوب رکھنے والا ظلم و ستم دیکھ کر رونے اور رلانےوالا ایسا ادیب اور دانشور ہے جو نظریاتی ہونے کے ساتھ ساتھ خالص انسانی جذبوں سے سرشار طبقاتی جلال کو غیر طبقاتی جمال میں دیکھنے کا تمنائی ہے  وہ جانتا تھا کہ انسانی ذات کا جوہر سماجی رشتوں کا مرہونِ منت ہے ۔ وہ آفاقی معیارات کے ساتھ ساتھ مقامیت اور علاقیت کی اہمیت سے آگاہ ہے اور اپنی مٹی سے اپنی خوشبو بکھیرنے اور اپنے ادب میں داخل کرنے کی آگاہی رکھتا ہے اور اسے اس بات کا ادراک ہے کہ اس کی سوچ ابلاغ پاتے ہوۓ انقلاب کی نوید سنائے گی
آوارہ بھی ہم ہوۓ تو یوسف
اک سمتِ سفر رہی ہے دل میں
عشق اپنا سوال ہو رہا ہے
تر خوں میں جمال ہو رہا ہے

اور پھر غربت سماجی رشتوں کے حوالے سے بول اٹھتے ہیں

سبھی رشتے ہمارے بولتے ہیں
مگر جو زر کا رشتہ بولتا ہے




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*