فیصلہ

تحریر عبدالواث ساجد
سلطنت بنگال کا سلطان غیاث الدین بن سکندر شاہ ایک روز تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا کہ اتفاق سے ایک تیر کسی بیوہ کے بیٹے کو جا لگا اور وہ جاں بحق ہو گیا۔ بیوہ نے قاضی وقت مولانا سراج الدین کی عدالت میں سلطان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا۔ قاضی نے سلطان کے خلاف سمن جاری کر دئیے۔ سمن وصول کرتے ہی سلطان اٹھا اور بغل میں ایک چھوٹی سی تلوار چھپائے عدالت میں حاضر ہوا۔ قاضی سراج الدین نے سلطان کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور اس کو بیوہ کے برابر کھڑا ہونے کا حکم دیا۔



جرم ثابت ہونے پر قاضی صاحب نے شریعت کے مطابق فیصلہ کرتے ہوئے جان کے بدلے جان کاشرعی فیصلہ سنا دیا۔ سلطان نے فیصلے کے سامنے سر جھکاتے ہوئے عدالت کی اجازت سے مدعیہ بیوہ کے سامنے درخواست کرتے ہوئے کہا: آپ چاہیں تو خون بہا لے کر مجھے معاف کر دیں۔ ورنہ میری جان حاضر ہے ضعیف بیوہ اسلامی انصاف سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اس نے خون بہا لے کر سلطان کو معاف کر دیا۔ اس ساری کارروائی کے بعد قاضی سراج الدین اٹھے اور بادشاہ کو اپنی مسند پر بٹھا دیا، سلطان نے بغل سے تلوار نکالی اور قاضی صاحب سے کہااگر آپ اسلام کے خلاف فیصلہ کرتے تو اس تلوار سے آپ کی گردن کاٹ دیتا۔
یہ سنتے ہی قاضی صاحب نے اپنی مسند کے نیچے سے ایک درہ نکالا اور کہا: سلطان اگر آج آپ شریعت کی حدود سے انحراف کرتے تو اللہ کی قسم! میں اس درے سے آپ کی کھال ادھیڑ دیتا۔
(ریاض سلاطین ص ۱۷۰)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*