آرزو…

آج پھر
رات کے پہلو میں
تیری یادوں کا بسیرا ہے
ہر لمحہ طویل ہو رہا ہے
جیسے انتظار ہو رہا ہے
ہجر کے آسیب میں ڈوبی رات کا
تم بتاؤ…
بھلا کب ہوا سویرا ہے
چاند سے محو گفتگو
اک ستارہ ہے
جو ہنستا ہے میری بے بسی پہ
شاید وہی اک ہمارا ہے
چاند کی موجودگی میں بھی
کس قدر چھایا یہ اندھیرا ہے
شاید یادوں کے بادل
چاند کو دھندلا رہے ہیں
اس کی باتوں کی یادیں
میرے کانوں میں رس گھولتی ہیں
اور اس کا نقش جب
تصور میں عیاں ہو جائے
تو مجھے اپنے وجود کا
ادراک ہوتا ہے
اور لگتا ہے کہ وہ
آج بھی میرا ہے
رات کے پہلو میں
اس کی یادوں کا بسیرا ہے

ملک شفقت اللہ




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*