ابن آدم تماشوں میں مگن ہے

نور بصیرت
مقصوداحمدضیائی

محمد کی غلامی دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
خالق کائنات نے انسان کی تخلیق اپنی عبادت و بندگی کے لیے فرمائی ہے تاہم اس دنیا میں انسان کے ساتھ حق جل مجدہ نے بہت سی ضرورتیں بھی لگادی ہیں لیکن مقصد زندگی پروردگارعالم کی بندگی اور مقصد حیات حق تعالٰی کی یاد ہی ہے سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر تا قیامت آنے والے تمام انسانوں کا روز قیامت حساب لیا جائے گا عبادت اور ضرورت پر صرف کیے گئے اوقات پر باز پرس نہ ہوگی جب کہ بیکار کاموں میں صرف کیے گئے زندگی کے قیمتی لمحات کے بارے میں باز پرس کے ساتھ ساتھ مواخذہ اور سزا بھی ہوگی آج عالم اسلام پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو امت کی حالت زار دیکھ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم ۴۱/ صدیاں قبل جب کہ ایک کامل و مکمل شریعت اور دستورحیات دے کر گئے تھے اور جب آپ دنیا سے پردہ فرما رہے تھے تو انسانوں کی ایک جماعت پورے طور پر اس پر عمل پیرا تھی مگر آج امت کا عموم بالکل عملی اعتبار سے دین سے دور ہو چکا ہے جو کہ نہایت ہی دکھ کی بات ہے اور بیکار کاموں تفریحات و لغویات اور تعیشات میں منہمک ہے جو خدائے تعالٰی کی ناراضی کی نشانی ہے بلکہ آج جس عہد میں ہم جی رہے ہیں یہ دور بیکار کاموں میں انہماک کا گہوارہ بن چکا ہے بالخصوص ہماری نئی نسل لغویات میں منہمک ہے اور تباہی کے آخری دہانے پر پہنچ چکی ہے مبائل فون پر لامحدود وقت تک گیموں کا کھیلتے رہنا اور ٹیلی ویڑن پر فلموں کے دیکھنے کا لایعنی مشغلہ انٹرنیٹ اور یوٹیوب وغیرہ پر برہنہ تصاویر دیکھنا مبائل فون پر لمبی لمبی فضول گفتگو جو کہ نہ معلوم کتنے فتنوں کو جنم دے کر جاتی ہے حد تو یہ ہے کہ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ بھی صحت مند تنقیدی پہلو کو ایک طرف رکھ کر واٹس اپ یا فیس بک پر ایسے نامناسب کمنٹس کرتے ہیں جس میں دل شکنی تضحیک طنز اور معرکہ آرائی شامل ہوتی ہے



کاش ! اس پر ہماری نظر جاتی کہ ہم سے پہلے اس فانی دنیا میں جن لوگوں نے جنم لیا تھا اچھے برے سب جاچکے ہیں ہم کو بھی ایک روز یہاں سے کوچ کرنا ہے اور جو ہمارے بعد آئیں گے وہ بھی چلے جائیں گے جب اس صداقت سے نہ ہی کسی کو مجال انکار ہے اور نہ ہی مجال فرار تو پھر ہم اچھے برے کا خیال کیوں نہیں رکھ کر جیتے ؟ بڑا ہی نصیبہ ور ہے وہ انسان کہ جو مرنے سے قبل ہی توشہ آخرت کی تیاری میں لگ جائے یہ سائنسی اور تکنیکی چیزیں جو ہمیں میسر ہیں وہ تو خدا کی نعمتیں ہیں ریڈیو ٹیلی ویڑن انٹرنیٹ موبائل فون کمپیوٹر اور لیب ٹاپ وغیرہ یہ تمام ہماری روز مرہ کی ضروریات میں شامل ہے مسلہ ان کے جائز و ناجائز استعمال کا ہے اس کو ایک مثال کے ساتھ یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ہمارے پاس ایک چھری ہے اس سے اگر ہم سبزی یا فروٹ کاٹتے ہیں یہ تو اس کا جائز استعمال ہے اور اگر اسی چھری سے ہم اپنا ناک کان یا گلا کاٹنے لگیں تو یہ اس کا ناجائز استعمال ہے ہمارے غلط اور برے کاموں کے جب خراب نتائج ہمارے سامنے آتے ہیں تو ہم انہیں مقدر کا نام دے کر جان چھڑا جاتے ہیں اور اپنے دل اور نفس کو جھوٹی تسلی دیتے ہیں مقدر کو الزام دے کر اپنا دامن بچا لیتے ہیں اور لغویات و تعیشات و تفریحات میں لگے رہتے ہیں قدرت کی طرف سے انسان کو یہ وارننگ ہے کہ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے! اور یہ کتنی جمود توڑ صداقت ہے لیکن اس کے باوجود ابن آدم کی بے فکری دنیا طلبی اور نفس پرستی کا عالم یہ ہے کہ تمام خباثتوں کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے ہیں غرضیکہ اس طرح امت کا بڑا طبقہ بیکار امور میں منہمک ہوکر اپنی زندگی کی قیمتی ساعتوں کو رائیگاں کرکے اپنے اوپر خدائے عزوجل کے عذاب کو لازم کرنے کے لیے بے تاب نظر آرہا ہے بلکہ صورت حال کچھ ایسی ہے کہ ہماری نئی نسل تو ایسے امور کو گناہ ہی نہیں سمجھتی ہے صاف بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ قرآن و حدیث سے دوری کی ہی وجہ معلوم ہوتی ہے اور صورت حال یہ ہے کہ جب کوئی بندہ خدا اصلاح کی کوشش کرتا بھی ہے تو ہر ایک کی زبان پر ایک ہی بات ہوتی ہےتعجب کی بات یہ ہے کہ یہ الفاظ بالکل فرصت وقت کے بھی زباں زد ہوگئے ہیں

نوبت بایں جا رسید کہ دنیا میں مسلمان قوم اپنی زندگی کے قیمتی لمحات جتنی بے دردی کے ساتھ ضائع کر رہی ہے شاید ہی کوئی اور قوم ایسے کرتی ہو جوکہ قابل توجہ بات ہے قرآن کریم انسانوں کے لیے دستور حیات ہے جس میں قیامت تک کے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے اور ان تمام امور سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے جو انسان کے لئے خسارہ کا باعث ہوں یا بے سود ہوں حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ لغویات میں انہماک خدائے تعالیٰ کی بندے سے ناراضی کی علامت ہے اللہم احفظ دور حاضر کا ایک بڑا فتنہ میوزک سے دلچسپی بھی ہے جو کہ نفاق کی طرف پیش رفت ہے ہماری آج کی نئی نسل دشمنوں کی سازشوں کی وجہ سے لغویات کی دلدل میں بری طرح پھنس چکی ہے اور اپنے مقصد تخلیق کو بالکل بھول چکی ہے اگر امت کا باہوش طبقہ اس طوفان بلاخیز و بلاریز کے مقابلہ کے لیے میدان عمل میں بروقت نہ اترا اور اپنا ایمانی فریضہ ادا نہ کیا تو وہ وقت دور نہیں کہ پوری ملت اسلامیہ اس طوفان کی زد میں آ جائے گی حدیث پاک میں ہے کہ ” ہر پیدا ہونے والا فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے ” خیر اور بھلائی سلامتء فکر اور اسلام ابن آدم کی پیدائشی میراث ہے بایں وجہ ہر انسان خیر و صداقت کو اچھا سمجھتا ہے اور فطری طور پر اس کی اہمیت کا قائل ہو جاتا ہے اور جب بدی کا ارتکاب دیکھتا یا کبھی کرتا ہے تو اسے ضمیر کی ملامت مدتوں ستاتی ہے بیکار کاموں میں منہمک ہوجانے کی بنا پر قوم کا سب سے عظیم نقصان یہ ہوتا ہے کہ زندگی کا رخ سنجیدہ اور حقیقی امور کے بجائے لغویات کی طرف مڑ جاتا ہے ہدایت کی جگہ ضلالت قوت کی جگہ ضعف لے لیتے ہیں لغویات میں انہماک کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ قوموں کی علم و عمل کی گرانمایہ صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں چنانچہ جن قوموں کے افراد میں لغویات کا انہماک کا عنصر راسخ ہوجاتا ہے تو اس قوم کی صنعت تجارت زراعت اقتصادیت معاشرت معیشت اور عسکریت سب کچھ کمزور ہوجاتا ہے اور اس قوم کی قوت و شوکت خدائے تعالٰی کی لعنت اور پھٹکار کی وجہ سے ختم ہو جاتی ہے چونکہ جب دل خدائے عزوجل کی نشانیوں اس کی آیات اور حکمتوں سے غافل ہوجائیں اور خواہشات کی پیروی کرنے لگیں تو ان میں لازما بزدلی اور کمزوری پیدا ہوگی اس کو علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے اس شعر میں بیان فرمایا ہے کہ
آتجھ کو بتاؤں میں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر سناں اول طاؤس و رباب آخر




غرضیکہ اگر آج کی دنیا میں مسلمانوں میں پائے جانے والے عام بے دینی مذہب سے بیزاری اور قساوت قلبی کے اسباب کو تلاش کیا جائے تو ان میں سر فہرست لغویات اور تفریحات و تعیشات میں انہماک ہی ہے بطور خاص مسلمانوں کے موجودہ زوال اور ان کی موجودہ حالت زار ہر طرف غفلت بے عملی اور بے دینی کا پایا جانا روحانی طاقت کے نہ نظر آنے میں سب سے زیادہ ہاتھ لغویات میں انہماک کا ہی نتیجہ ہے ماہ صیام کی آمد آمد ہے چند دنوں کے بعد رحمتوں برکتوں کا یہ ماہ مقدس تجلیات ربانی کے ساتھ سایہ فگن ہونے والا ہے مذہب اسلام رحمتوں کا مجموعہ ہے سو سال کا کافر بھی اگر صدق دل سے کلمہ طیبہ پڑھ لیتا ہے تو وہ بھی خدائے جواد و کریم کا پیارا بندہ بن جاتا ہے اور ہر کلمہ گو پر اس کا اکرام لازم ہوجاتا ہے اس آفاقی مذہب کے ماننے والوں کو زندگی میں وہ ماہ مقدس کہ جس میں ایمان و یقین کے روح پرور جھونکے مشام جاں کو معطر کرتے ہیں چمنستان عالم میں رحمتوں کی بہار کی آمد ہوتی ہے پورا مہینہ جودوسخا و رحمتوں کی بارش کا موسم بہار ہوتا ہے بلکہ رحمتوں کی گھٹائیں جھوم جھوم کر برستیں اور جاں بلب انسانیت کو آب حیات سے ملاتی ہیں جس سے انسانیت کی سوکھی ہوئی کھیتی کھل اٹھتی ہے روحانیت کے اس موسم بہار میں دلوں پر سکینت طاری ہوجاتی ہے ایمان میں تازگی اور شگفتگی اور نیکی کے کاموں میں نشاط کی لہر دوڑ جاتی ہے مساجد ذکر و تسبیح اور عبادت سے بھر جاتی ہیں اور ادھر حق تعالٰی کی طرف سے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین جھکڑ دئیے جاتے ہیں پھر بندہ ان اعمال خیر اور روزہ کی برکت سے اپنے خالق و مالک سے اتنا قرب حاصل کر لیتا ہے کہ حق تعالٰی اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور اپنی خاص رحمت نازل فرماتے ہیں خطائیں معاف اور دعائیں قبول فرماتے ہیں نیز رحمت و مغفرت اور آگ سے نجات کا فیصلہ فرما دیتے ہیں حدیث پاک میں ہے کہ جس نے ایمان کیساتھ خدائے تعالٰی سے اجر و ثواب کی امید پر ماہ صیام کے روزے رکھے تو اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دئیے گئے



آئیے !: آج ہم صدق دل سے یہ نیت کریں کہ آج سے ہم معروفات کی اشاعت اور منکرات کے سدباب کیلئے تن من دھن سے تیار ہیں بالخصوص ہمارے وہ ایمان والے بھائی جوکہ لغویات و منکرات اور تعیشات کی دلدل میں پھنس چکے ہیں ان کو اس تباہی اور بربادی سے بچانے کی مطلوب فکریں لیں گے ہم اور ہماری نسلیں خدا کی اس سرزمین پر اذانوں نمازوں مسجدوں مدرسوں مکتبوں خانقاہوں کیساتھ زندہ رہیں گے ہم لغویات تفریحات و تعیشات سے کلیتہ اجتناب کریں گے فرائض کے ساتھ نوافل اشراق چاشت اوابین تہجد تحیتہ الوضو تحیتہ المسجد صلوہ التسبیح وغیرہ کا بھی خوب اہتمام کریں گے قرآن کریم کی تلاوت ہمارا روزانہ کا معمول ہوگا خدا کی زمیں پر ہدایت کا پرچم لیے جینا مرنا ہمارا مشن ہوگا چونکہ ہمارا اس پر ایمان ہے کہ
محمد کے طریقے سے قدم جو بھی ہٹائے گا
کوئی راستہ نہ پائے گا کوئی منزل نہ پائے گا
دعا ہے کہ خدائے تعالیٰ پوری امت مسلمہ کی جان مال عزت وقار اور ایمان کی حفاظت فرمائے۔آمین ثم آمین یارب العالمین
E.mail ahmedmaqsood645@gmil.com
جموں و کشمیر الہند



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*