انتخابات۔۔۔اور حساب

تحریر ملک فیصل رمضان اعون
عرصہ پانچ سال تک جو اقتدار کے مزے لوٹتے رھے اور یہ سمجھتے رھے کہ حالات جوں کے توں رھیں گے یہ وقت کبھی نہیں بدلے گا اور یہ کہ زمانے کے آثار میں کوئی تبدیلی رونما نھیں ھوگی لیکن جب خواب پورا ھوا اور آنکھ کھلی تو پتا چلا کہ وقت تو مکمل طور پر بدل چکا ھے اور بہت بڑی تبدیلی آچکی ھے اقتدار کے ایوانوں میں جہاں مجبور و بے کس عوام کی سسکیاں تو کیا چیخیں تک نہ پہنچ پاتی تھیں اور جہاں سے انصاف کے ملنے کا کوئی تصور تک نہ تھا لیکن جب ایوان کی گھڑیوں نے اپنے گھنٹے پورے کر لئے تو خود کو حصاروں میں مقید سمجھنے والے آہنی دیواروں سے باھر نکلے جہاں پانچ سال سے لوگ ان کے انتظار میں بیٹھے تھے شدت سے انتظار کرنے والے لوگ اسی دن کا انتظار کر رھے تھے انہیں معلوم تھا کہ یہی وقت لمحہ اور دن ھوگا جب اپنی مایوسیوں محرومیوں اور اپنے ناکردہ گناہوں کا بخوبی حساب لیا جائے گا ابھی اس حساب کا پہلا مرحلہ شروع ھو چکا ھے اپنے اپنے حلقوں میں نکلنے والے سیاستدانوں سے لوگ پوچھ رھے ھیں کہ جناب پانچ سال سے آپ کہاں تھے آپ نے دیدار تک نہیں کروایا آپ کہاں اتنی دور نکل گئے تھے کہ واپس ھونے تک اتنا عرصہ بیت گیا یا راستے میں اتنی رکاوٹیں تھیں جنہوں نے یہاں آنے اور ھماری فریاد سننے میں اتنی دیر کر دی اب چونکہ سوشل میڈیا کا دور دورہ ھے اسلئے لوگ  امیدوار کو بہت ھزیمت ھوتی ھے اور لوگ امیدوار پر اپنے غم وغصے کا اظہار کرتے ھیں وہ صرف متعلقہ گلی محلے یا حلقے تک محدود نہیں رھتا بلکہ آنا فانا پورے ملک میں پھیل جاتا ھے




اب تو نامی گرامی سیاستدانوں کا بھی گھروں سے نکلنا مشکل ھو چکا ھے وہ اپنے ساتھ مسلح گارڈ اور محافظوں کے نظرو کرم پر ھیں یہ سب کچھ ان کے لئے باعث عبرت ھے
سوال یہ پیدا ھوتا ھے یہاں عوام اپنے گلی محلوں میں آنے والے سیاستدانوں پر قہر بن کر کیونکر ٹوٹ رھے ھیں الیکشن کے روز اپنے ھاتھوں سے مہریں لگا کر اپنی محرومی اور مایوسی کا بدلہ کیوں نہیں لیتے اور یہ کہ ان نامی گرامی سیاستدانوں کے ساتھ ھی ایسا کیوں ھو رھا ھے اصل چیز محض ان کو شکست سے دو چار نہیں کرنا ھے بلکہ متعلقہ امیدوار کو یہ باور کرانا بھی ھوتا ھے کہ پانچ سال پہلے تم نے کون سے تیر مارے ھیں جواب بے وقوف بنانے آگئے ھو اب یہ عوام بے وقوف نہیں رھی اب انہیں عقل اور سمجھ آچکی ھے انہیں معلوم ھو چکا ھے کہ ووٹر کی اھمیت اور حیثیت کیا ھے اور وہ اپنے ووٹ کی پرچیاں سے کیا کام لے سکتے ھیں اس پرچیاں کے استعمال سے قبل یہی ووٹر جو دکھا رھے ھیں یہ ایک اشارہ ھے کہ دوسرے لوگ دوسر ے امیدواروں کے لئے تاکہ وہ عبرت پکڑیں
حقیقت یہ ھے کہ جو ایک دفعہ اقتدار کے ایوانوں میں داخل ھوتا ھے وہ بھول جاتا ھے کہ جس شان وشوکت سے وہ اس دیوان میں داخل ھوئے ھیں وہ بے دخل بھی ھو سکتے ھیں کائنات میں کسی بھی چیز کو دوام حاصل نہیں ھے بہرحال اس دفعہ ایسے لوگوں کے لئے گندے انڈے ،ڈنڈے اور ھار بھی یقینی ھوگی ،اللہ آپ کا حامی وناصر ھو




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*