برہان وانی کی برسی اور مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال

(تحریر۔محسن علی ساجد)
گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے ممتاز نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع

Mohsin Ali Sajid

پرنہ صرف مقبوضہ وآزاد کشمیر بلکہ پاکستان میں بھی تقاریب کا انعقاد کیا گیا اور شہید کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ بھارتی فوجیوں نے برہا ن مظفر وانی کو 8جولائی 2016کوضلع اسلام آباد کے علاقے ککر ناگ میں دیگر دو ساتھیوںکے ہمراہ ایک جعلی مقابلے میں شہید کر دیاتھا۔برسی کے موقع پر مقبوضہ وادی کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی،دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معطل رہی۔ہڑتال کی کال سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمدیاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی تھی۔مشترکہ قیادت نے شہید برہان وانی کے آبائی علاقے ترال کی طرف مارچ اور وہاں پر ایک عوامی اجتماع کے انعقاد کا بھی اعلان کر رکھا تھا جس کا مقصدشہید نوجوان رہنما اور 8جولائی 2016کو انکی شہادت کے بعد چلنے والی احتجاجی تحریک کے دوران شہید ہونے والے دیگر نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا۔لیکن قابض انتظامیہ نے ترال میں عوامی اجتماع کو ناکام بنانے کیلئے ترال میں کرفیو نافذ کر دیا اور قصبے کے تمام داخلی اور خارجی راستے سیل کر دیئے ترال اور اسکے ارد گرد کے علاقوں میںبھی بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے۔ انتظامیہ نے ترال کی طرف مارچ اور بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کیلئے سرینگر اور دیگر تمام بڑے قصبوں میں بھی پابندیاں لگادیںلیکن مقبوضہ کشمیر کے عظیم سپوتوں نے تمام تر پابندیوں کے باوجود بھرپور احتجاج کیا۔ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے مقبول بٹ شہید سے لیکر برہان وانی شہید اور اس سے لیکر آج تک مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے جانیں نچھاور کرنیوالے عظیم سپوتوں کی قربانیاں لائق تحسین ہیں۔بائیس سالہ کشمیری نوجوان اور حریت پسند برہان مظفر وانی ایک ہونہار طالب علم تھامگر جب اس نے دیکھا کہ بھارتی فوج ظلم وجبر کی تمام حدیں پار کر چکی ہے تو وہ میدان عمل میں آ گیا اور مقبوضہ کشمیر کے اِس سپو ت نے آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد جنم لینے والے احتجاجی مظاہروں کی شدت نے اقوام متحدہ اور عالمی میڈیا کو خاموشی ختم کرنے پر مجبور کردیا، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید رعد الحسین نے سال



2016 سے انسانی حقوق کونسل جنیوا کے ہر اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو اٹھایا اور اب جون 2018 میں اقوام متحدہ کی کشمیر پر پہلی عالمی رپورٹ میں برہان وانی کا نام لیا، رپورٹ سے پانچ دہائیوں میں پہلی مرتبہ کشمیرعالمی ایجنڈے میں سرفہرست آیا، اقوام متحدہ نے برہان وانی کے ساتھ ساتھ کنن پوشپورہ اجتماعی جنسی زیادتی جیسے کئی دبے ہوئے بھارتی مظالم بھی اقوام عالم کے سامنے عیاں کر دیئے ہیں۔ آج برہان وانی کشمیر کی پرامن تحریک آزادی کی علامت بن گیا ہے اورآج اس کا نام اقوام متحدہ کی دستاویزات کا حصہ ہے۔ دوسری جانب کشمیری قوم کو پاکستان اور پاکستانی قوم کا کشمیریوں سے پیار و محبت کا رشتہ ہے۔پاکستان نے ہمیشہ ہر عالمی فورم پر اپنے کشمیری بھائیوں کے حقوق کیلئے آواز اُٹھائی اور ہر عالمی فورم پر واضح کیا کہ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر کی عوام کو حق خودارادیت نہیں دیتا پاکستان کے بھارت سے مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکتے،پاکستان کے مضبوط موقف کی وجہ سے ہی اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم وتشدد کیخلاف نوٹس لینا پڑا،دوسری جانب بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم وتشدد سے توجہ ہٹانے کیلئے ہی آئے روز پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سیز فائر لائن کی خلاف ورزیاں کررہا ہے لیکن پاکستان کی چٹان صفت مسلح افواج اُسے بھرپور جواب دیتی ہیں اُس کے بعد دُشمن کی توپیں ہمیشہ کی طرح خاموش ہوجاتی ہیں لیکن اگر اقوام متحدہ سمیت عالمی قوتوں نے بھارتی اشتعال انگیزی کیخلاف کارروائی نہ کی تو خطہ کو خطرناک مسائل درپیش ہوسکتے ہیں۔خیر بات ہورہی تھی مقبوضہ کشمیر کی تو بر ہان مظفروانی شہید کشمیری قوم کے واقعی حقیقی ہیروہیںاوروہ دِن دور نہیںجب مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنا حق خودارادیت لینے میں کامیاب ہونگے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*