الیکشن رنجشیں یا اتحاد

کوئی بھی تحریک منصوبہ یا حکمت عملی اس لئے اختیار کی جاتی ہے کہ اس کے مثبت اثرات سب پر پڑیں۔یہ نہیں کہ الگ الگ راستے ہو جائیں مفاد الگ الگ ہو جائیں۔نقطہ نظر سب کا ایک ہونا چاہئے پھر جو بھی مقصد ہو گا پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے ۔الیکشن میں سب سے زیادہ اتحاد کی ضرورت ہے ۔کہ ہم سب ایک ہو کر ملک کی بہتری اچھائی کے لئے ایسے فیصلے کریں کہ جو ملک اور عوام کے لئے خوشحالی امن کے موعجب بن سکیں ۔مگر مختلف پارٹیاں گروہ نظریے عوام میں انتشار کا باعث بنتے ہیں ۔ایک پارٹی کے کارکن دوسری کے خلاف نعرے بازی لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔ہر ایک کو اپنا نقطہ نظر ہر لحاظ سے ہر عوامل سے بہترین لگتا ہے ۔اس بات کو موضوع بنا کر اپنے کاکنوں کو اس حد تک جذباتی کر دیتے ہیں کہ وہ ایسے ایک دوسرے کے لئے عملی طور پر اظہار کرتے ہیں جیسے ان کی آپس میں دشمنیاں ہوں ۔ہر لیڈر ہر پارٹی اپنے نظریات کے لئے اپنے کارکنوں کو استعمال کرتا ہے ۔یہ بات ہم سب کی سمجھ میں تب آتی ہے جب ہم استعمال ہو چکے ہوتے ہیں ۔تب تک ہم ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہوتے ہیں۔ساتھ دینا چاہیے صرف ان کا جن کا نصب العین ملک کا مفاد ہو جو عوام کو اپنا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھے ان کے لئے اپنی زندگی کو صرف کرے ملک کی ترقی اور بہتری سے بڑھ کر کوئی اور مقصد اس کے لئے اہمیت نہ رکھتا ہو ۔جو اتحاد کا باعث بنے ۔اب ہمیں جاگ جانا چاہیے کیوں لڑیں ہم کیوں آپس میں رنجشیں پالیںاُن سب لے لئے جن کو سرف ہمارا استعمال اپنے ووٹ لینے تک کرنا ہے اب ہمارے ملک کو ہمارے اتحاد کی بہت ضرورت ہے ۔کب تک ہم اجازت دیں سب کو ہم سے کھیلیں۔اور پھر ناکارہ چیز کی طرح کونے میں رکھ دیں پھر جب ضرورت پڑے تو استعمال کر لیں۔بہت ہو چکا ہمارے ساتھ ہمارے وطن کے ساتھ ہمیں ایک دوسرے کا مخالف بننے کی بجائے اپنے وطن اپنے لوگوں کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے الیکشن آتے ہیں گزر جاتے ہیں لیکن ہماری آپس کی ناراضگیاں رنجشیں سالوں پر محیط ہو جاتی ہیں۔جس کا فائدہ ہر پانچ سال بعد اٹھا لیا جاتا ہے ۔اپنی اپنی پارٹیوں کے لئے شدت میں کارکن اتنا آگے چلے جاتے ہیں کہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے ۔پارٹی بیس پہ دوست احباب ایک دوسرے سے کنارا کر لیتے ہیں۔ووٹ ایک فرض ہے ایک زمہ داری ہے اس کو آنکھیں بند کر کے صرف زاتی تعلق کی بنا پر استعمال کرنا جرم ہے ۔کیونکہ



ووٹ امانت ہے اور امانت میں خیانت سے کبھی بھی پر امن مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے ہیں ۔یہ بس اس وقت ممکن ہے کہ ہم آپس میںنہ اتفاقی نہ پیدا ہونے دیں ۔ہمیشہ اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے ہی برائیاں جنم لیتی ہیں ۔جب نااتفاقی پیدا کر کے اتحاد کو توڑا جاتا ہے تو پھر مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔اور ہم ان سازشوں کو سمجھنے کی بجائے ان کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔بہت بڑی بڑی تبدیلیاں عوام کے اتحاد سے رونما ہوئی ہیں۔پھر کوئی بھی طاقت ان کے آگے ٹھر نہیں سکی ہے ۔ہمیں بھی ایسے اتحاد کی ضرورت ہے کے کوئی بھی ہمیں اپنے مزوم مقاصد میں استعمال نہ کر سکے ۔ووٹ ڈالیں صرف حق اور فرض کے لئے اپنے اور اپنے لوگوں کے درمیان رنجشیں پالنے کے لئے نہیں۔جب ہم اس نقطہ کو اس حق کو اس فرض کو جان لیں گے سمجھ لیں گے تو کوئی ہمیں کٹھ پتلی نہیں بنا سکے گا ۔ہمارے ارد گرد جو ہیں وہ ہمارے اپنے ہیں ۔ان کے ساتھ ہی ھماری خوشیاں دکھ سکھ ہیں ہم اپنوں کو کیوں دور کریں صرف اور صرف پارٹی فائدہ کے لئے ۔اچھائی کی بنیاد اپنی زات سے شروع ہوتی ہے اگر ہم سب اپنی اپنی اصلاح کر لیں تو نہ ختم ہونے والی برائیوں سے بھی چھٹکارا پایا جاسکتا ہے ۔اپنی سوچ کو اپنے شعور کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔پھر صحیح معنوں میں تبدیلی آئے گی پھر بنے گا روشن پاکستان اور مثال بنے گا سارے عالم کے لئے گہوارہ بنے گا امن کا کوئی بھی اندرونی بیرونی سازشیں کامیاب نہیں ہو سکیں گی ۔وطن سے ہم ہیںاس کی سلامتی ہماری سلامتی ہے ۔ہمارا اتحاد دونوں کی سلامتی ہے ۔ہمارا وطن ہمیشہ سلامت رہے ۔آمین۔ پاکستان زندہ باد ۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*