افسانہ ۔۔۔ غیب سے امداد

غیب سے امداد
محمدزبیرمظہرپنوار

میلے کچیلے کالے سے گنگھریالے بالوں والے (رکھو )نے اپنی منجھلی بہن کو بازو سے پکڑ کے جھنجھوڑتے ھوۓ کہا اٹھ صبح ھو گئی ھے.. کچھ ٹکر پانی کا انتظام کر نزیراں۔۔۔۔ کہہ کر وہ بڑبڑانے بیٹھ گیا۔۔۔
نہ جانے دنیا میں ہم کیا کرنے آۓ ھیں.. نہ گھر ھے نہ گھاٹ ہے۔۔ در در ہے اور ہم ھیں۔۔خدا ھے بارش ھے طوفان ھے اور ھماری کٹیا ھے جو کبھی بھاگتی ہے تو کبھی بھیگتی ہے یا پھر اڑتی ہی رھتی ہے ۔۔
اوپر سے لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ منہ اٹھا کر دعا کرتے رہتے ھیں۔۔ اللہ پاک مینہ برسا رحمت کر باران رحمت بھیج۔۔۔۔ھاھاھا
(رکھو ) نے ھنسنے کے انداز میں روتے روتے اچانک سے آسمان کی طرف منہ اٹھایا اور بولنے لگا ” خاک باران رحمت ھے جو ھمارے منہ پہ بارہ بجا کر الٹا زحمت بنے جاتی ھے۔۔۔ پھر آسمان سے برستی بارش کا ہمیں حکم ہوتا ہے اٹھو اور پناہ ڈھونڈو ۔۔۔۔



جگہہ جگہہ تھاں تھاں پناہ ڈھونڈنی پڑتی ہے ۔۔ کبھی کسی امیر کی ٹھڑی تو کبھی کوئی سرکاری عمارت وغیرہ۔۔
آسمانوں کا خدا ھے کہ سنتا دیکھتا بھی انکی ہے “جو بے آسرا نہیں ۔۔۔ پکی کوٹھیوں کے مالک ہیں ۔۔۔ کم از کم ہماری دعا ہی قبول کر لے۔۔ مگر نہیں ” ہم سے تو اسکو ایسا بیر ہے “جیسے ہم کسی اور خدائی نظام سے جان بوجھ کر یہاں آ ٹپکے ہوں ۔۔۔ پتہ نہیں ھمارا تعلق بھی خدا سے ہے کہ نہیں۔۔۔
پیدا ھوۓ تو جھونپڑی میں تھےآج بھی جھونپڑی میں ھیں ۔۔اور مرتے دم تک شائد جھونپڑی ہی رہ جاۓ گی ہمارے ساتھ۔۔
میرے وڈے بھی مر گئے۔۔ ایسے ھی در بہ در شہر شہر پھرتے پھرتے ۔۔ یقینا میں بھی جھونپڑی اٹھاتے بھگاتے مر جاؤں گا کسی دن۔۔۔جیسے اپنے پرکھوں کو میں دفن کر کے چل دیا واپس کبھی قبر پہ نہ لوٹا انکی ۔۔ تو اسی طرح میرے بال بچے بھی مجھے کہیں دفنا کے چلے جائیں گے۔۔
پھر لوٹ کہ ہم کتھے مڑتے ھیں ۔۔ ھماری تو قبروں کے نام و نشان نہیں رھنے دیتے۔۔۔ ھمیں کسی چھوت کی بیماری کی طرح سمجھا جاتا ہے کہ لوگ ہمارے پاس بھی نہیں بھٹکتے۔۔ ھر کوئی ہم سے کنی کترا کہ منہ پھیرے جاتا ہے ۔۔۔ جب کسی کا دل کرتا ہے بھگائے جاتا ہے ۔۔۔
آخر تو ہمارا کوئی قصور ہو گا کہ لوگ اور خدا ہماری نہ سنتے ہیں نہ ہمیں توجہ کے لائق سمجھتے ہیں۔۔۔
اور یہ عجیب مصیبت آن پڑتی ھے ھم پہ “اس نہ مکنڑ (ختم) والے کھلے آسمان کے تھلے۔۔ آسمان کو حکم ملتا ھے مینہ وسا” تے آسمان بھی منہ اٹھا کہ برسنا ھی شروع کر دیتا ھے۔۔۔ ھمیں کوئی سنیا (پیغام) ھی بھجوا دو کہ بندوبست کر لو اپنا رکھو صاحب” پر نہیں ؟ھم تو کچھ لگتے ھی نہیں رب سائیں کے ۔۔ شائد خدا نے یہ کھلا آسمان ھم سے بیر پالنے کو بنایا ھے ۔۔۔ نہ آسمان مکتا (ختم) ہے ۔۔ نہ ہماری دوڑ ختم ہوتی ہے ۔۔۔پھر جب ہم اپنی کوشش اور محنت سے بھاگ دوڑ کر کے پناہ گاہ لبھ (ڈھونڈ) لیتے ھیں۔۔۔ بمشکل رات پوری گزرتی ھے۔۔۔ نیندر (نیند) ہے اسکو بھی ھم سے اگ لگی ھوئی ھے کہ آتی ھی نہیں۔۔۔ جے (اگر) کدی بھول بھولیکھے آ وی جاوۓ نیندر ان فضول اکھیاں (آنکھوں کو) نوں تو سویرے جب اکھ (آنکھ) کھلتی ھے۔۔ تو سر پہ کھڑا ھویا زمینی خدا نمودار ھوتا ھے.سویر تے نور ویلے گالیاں نفرت سے گلاں سنا کے بھگا دیتا ھے۔۔۔۔
پوری رات آسمان دا خدا بھگاتا ھے۔۔۔



سویر نال زمین پہ چلنے پھرنے والا خدا بھگاتا ھے۔۔۔ سمجھ نہیں آتی کہ ھمارے نصیب کا فیصلہ کیوں سبھی خدا رل مل (مل جل) کر بار بار ایک ھی کرتے ہیں۔۔ کہ دھکے کھاؤ ۔ ذلت اٹھاؤ ۔۔۔
بارش کے بعد ھر طرف پانی پانی کھڑا تھا۔۔۔ پوری رات طوفانی بارش ھوتی رھی تھی۔۔۔ بہت مشکل سے رکھو اور اسکی بہنوں نے اپنی کٹیا کا ساز و سامان اٹھاکر پاس میں موجود پرائمری سکول کے برآمدے میں رکھا اور پناہ لی تھی۔۔۔ آج قدرتی طور پر سکول کا چپڑاسی نہیں تھا۔۔۔ لحاظہ بھگاۓ جانے کا خوف اور ڈر نہیں تھا۔۔۔ مون سون کا موسم تھا۔۔۔۔ ہر جگہہ کیچڑ ہی کیچڑ تھا۔۔۔
وے رکھو بھائی تینوں کتنی واری سمجھایا ھے کہ اے گلاں نہ کیتا کر۔۔۔ (یہ باتیں نہ کیا کر) ۔۔۔۔ بس آپاں لوکاں دا (ہم لوگوں کا) نصیب مقدر ایہو (یہی) ھے۔۔۔۔ مقدر جدنڑ ونڈے (جب بانٹے ) جا رھے سی ھم اس ویلے وی اتھے نہ ھاسے(ہم اس وقت بھی وہاں نہ تھے) ۔۔۔۔در بہ در ھاسے۔۔۔ (تب بھی در بہ در تھے) ۔۔۔ تو کیا گلہ کرنا مقدر نصیب سے ۔۔۔۔ خیر جا زیادہ نہ سوچ جا لکڑیاں چگ (اٹھا) کے لے آؤ ۔۔۔ تینوں تے باقیاں نوں ٹکر پانی دوں ۔۔۔۔
وڈی (بڑی) بہن بیمار ھے۔۔۔ جا کر اس کی دوائی کا بندوبست کر۔۔۔۔
دنیا سے بے خبر اور بے نیاز ھو کر بچے مٹی اور کیچڑ میں لت پت ہوئے کھیلے جا رہے تھے ۔۔۔ ایک اڑھائی سال کا تو ایک چار سال کا.ساتھ میں پڑی بشیری جو رکھو کی بڑی بہن تھی۔۔۔
اچانک کراھتے ھوۓ اپنے چار سال کے بیٹے کو کہتی ھے اوۓ جیرے آ ماسی نوں سد چا (جیرے اپنی خالہ کو بلا) ۔۔۔۔ اج میں مر جاساں تے کریمو کولوں لگی جاساں۔۔۔
آج میں مر جاؤں گی اور کریمو کے پاس چلی جاونگی)۔۔۔
کریمو بشیری کا خاوند تھا جسے ٹی بی Tb ھو گئی تھی بے تحاشہ حقہ اور سگریٹ پینے کیوجہ سے ۔۔۔۔ وہ بیماری سے لڑ نہ سکا ” اور لڑتا بھی کیسے ۔۔۔۔۔ وسائل انکے پاس موجود نہ تھے یہ خانہ بدوش پھر پڑھے ہوئے بھی نہیں ہوتے ۔۔۔ جو تھوڑی سی ہی معلومات رکھتے ہوں کہ سرکاری ھسپتال جا کر علاج کی سہولتوں سے کچھ نہ کچھ فائدہ تو اٹھا سکیں ۔۔۔ آخر کار کریمو بیماری سے لڑتے لڑتے مر گیا۔۔۔۔
اچھا نذیراں میں بشیری کی دوائی لیکر آتا ھوں۔۔۔ پاس او جیڑا (جو) اللہ سائیں دا گھر ھے۔۔۔ وہاں اچھے نیک لوگ ھوتے ھیں” ان سے امداد لے کر آتا ھوں۔۔۔۔
اسلام علیکم و رحمتہ اللہ” اسلام علیکم و رحمتہ اللہ “پیش نماز نے سلام پھیرا ” تو رکھو نے کھڑا ھو کر کہا” میرے بھراؤ (بھائیوں) میری بہن بیمار ھے۔۔۔ میں مجبور ھوں اور اللہ پاک کے اس گھر میں آپ کے آگے سوال کرتا ھوں۔۔۔ دوائی لینی ھے امداد کرو ھم پکھی واس ھیں۔۔۔ پردیسی ھیں۔۔۔ اس سے پہلے کہ رکھو مزید بولتا “کسی نے زبردستی ھاتھ پکڑ کر بٹھاتے ھوۓ کہا کہ تمھیں شرم نہیں آتی اللہ کی عبادت میں خلل ڈالنے آۓ ھو۔۔۔۔
2
تمھیں پتہ نہیں مسجد میں مانگنا مکروہ ھے۔۔
گناہ ھے۔۔
جاؤ مانگنا ھے تو بازار جا کرو مانگو۔۔۔
مسجد میں میلے کچیلے کپڑے پہنے اور گندی سی صورت لے کر آ گئے ھو۔۔۔۔ دفع ہو جاؤ یا چپ رہو ۔۔۔
پیش نماز نے دعا مانگنا شروع کر دی۔۔۔ یا اللہ پاک ھم پہ رحم کرھماری تنگ دستیاں دور فرما خزانہ غیب سے ھماری امداد فرما۔۔۔ ھم سب میں پیار محبت بڑھا۔۔۔ ھمیں ایک کر دے۔۔۔ یا اللہ ھم تیری مخلوق ھیں۔۔۔۔ ہم پہ کرم کر ۔۔ ہمیں ہدایت دے ۔۔ بے آسراؤں کا سہارا بن ۔۔ بیماروں کو شفاء دے ۔۔ غریبوں کو ایمان اور دولت سے مالا مال کر۔۔۔۔ آمین
مسجد کے چندے والی ٹوکری سب کے آگے باری باری آتی اور سب اس میں پیسے ڈالے جاتے۔۔۔۔ رکھو حیرانی سے سب کچھ تکتا رھا۔۔۔۔ جب رھا نہیں گیا ” تو رکھو نے مولوی صاحب سے پوچھا۔۔۔ کہ ٹوکری میں پیسے کس کے لیۓ جمع کیے جا رھے ھیں۔۔۔۔ مولوی نے کہا” کہ اللہ پاک کے لیۓ ” اللہ پاک کے اس گھر کے لیۓ۔۔۔ اچھا کہہ کر رکھو مسجد سے نکل آیا۔۔۔۔
رستے بھر رکھو مولوی کی دعا کے متعلق سوچتا اور پھر وہی دعا زبان پہ دہراتا ۔۔۔ اللہ ھم تیری مخلوق ھیں ۔۔۔ ھم میں پیار محبت بڑھا۔۔۔ ھماری تنگدستیاں دور فرما پہ آیا تو رکھو ہر بار رک جاتا اور سوچتا ” کہ جب خدا تنگدستیاں دور کرتا ھے۔۔۔۔ تو خدا کی ٹوکری کیوں ؟اچھا اچھا سمجھ گیا اللہ پاک انکو غیب سے سب سے چھپا کر دیتا ھو گا۔۔۔ تبھی یہ لوگ اللہ کو اپنی طرف سے ٹوکری میں پیسے دیتے ھیں۔۔۔ تا کہ اللہ کے گھر میں سنگ مرمر لگے۔۔۔ وہ ٹھنڈی ھوا والی مشین لگے۔۔ ٹھنڈے پانی والے کولر ۔۔ چونے پتھر لوھا لگے۔۔۔ لوگ ان پیسوں سے ٹھیک ٹھاک مضبوط عمارت بار بار گرا کر نئی بناتے ھیں۔۔۔۔ شائد خدا کو ایک ھی نقشے کی عمارت پسند نہیں ۔۔۔۔ ہاں شائد خدا بھی ایک طرح کی عمارت میں رہ رہ کر بور ھو جاتا ھو گا۔۔۔۔ لیٹرین بھی چینی کے پتھر سے سجی ہونی چاہیے۔۔



اتنی بڑی مسجد میں بندے بھی بیس پچیس ھیں۔۔۔ وہ بھی آ کر چند منٹوں بعد بھاگ جاتے ھیں۔۔۔ شائد ان لوگوں کے جانے کے بعد خدا یہاں آ کر رھتا ھو گا۔۔۔ اسلیۓ پوری عمارت میں وہ نرم نرم گدا بچھا ھوا ھے۔۔۔۔ بڑی موج کرتا خدا بھی۔۔۔۔ چنگا بھلا کاروبار ہے خدا کا ۔۔۔۔۔ خود تو ٹوکری والا کاروبار کرتا ہے اور ہمیں کاروبار کیا دوائی کے پیسے تک نہیں دیتا ۔۔۔۔سمجھ گیاجب ھمارے مقابلے میں خدا ھے تو ھمیں کس نے پوچھنا۔۔۔۔ پھر آسمان والے خدا پہ تو لوگوں نے احسان کر رکھا ھے” اسلیۓ یہاں زمین کے خداؤں کی زیادہ چلتی ھے۔۔۔.تبھی زمین والے لوگ آسمانوں پہ بسنے والے خدا سے نہیں ڈرتے۔۔۔۔
پھر یہ بھی ھے کہ سب انسانوں نے مل کر خدا کو کتنے گھر گفٹ کر رکھے ھیں۔۔۔ پر سمجھ نہیں آتی خدا کیسے اتنے گھروں میں جاتا ھو گا۔۔۔۔ ھر برادری نے ہر فرقے مسلک نے اپنے نام سے خدا کا گھر بنا رکھا ھے۔۔۔ اسلیۓ ہم جیسے ضرورت مند بندے خدا کے گھر میں امداد بھی نہیں مانگ سکتے ۔۔۔۔
بس دعا کر سکتے ھیں کہ غیب سے مدد کر۔۔۔۔۔ ایسے ہی خیالات اور سوچوں میں گم رکھو اپنی جھگی کی طرف واپس پلٹ رہا تھا ۔۔ کہ اچانک سے وہ رکا ۔۔ سر کھجانے کے بعد چونک کے بولا ۔۔
ھاں سارا کجھ غیب ھی ھے۔۔۔
اوۓ تیری ¡¡¡¡¡ بھاگ رکھو….
رکھو بجلی کی سی تیزی سے مسجد کی طرف پلٹا۔۔۔ پھولی اور چڑھی سانسوں سے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا شروع کر دی۔۔۔
یا خدا ھم تیری مخلوق ھیں ۔۔۔ ھم پہ رحم کر ” دیکھ میں ٹوکری نہیں لایا تا کہ تجھے یہ نہ لگے کہ میں تیرے مقابلہ میں کاروبار کرنے آیا ہوں ۔۔۔
دیکھ تیرے دوسرے نیک نمازی بندے جن کی تو سنتا مانتا ھے. انہوں نے بتایا تیرے گھر میں مانگنا گناہ ھے۔۔۔ مینوں (مجھے) نا عبادت کا طریقہ بھی نہیں آتا۔۔۔ یہ جو ھونٹ ھلا کر پڑھتے ھیں۔۔۔ تو جانتا ھی ھے کہ مجھے پڑھنے لکھنے کا وقت نہیں ملا۔۔۔۔ ھمارا گھر ھوتا ایک جگہہ ٹکتے تو پڑھتے۔۔۔ تیرے کول (پاس) آتے۔۔۔ تجھے سمجھتے۔۔۔۔ بس تو اتنا کر کہ میری غیب سے مدد فرما دے۔۔۔۔
یہ کہہ کر رکھو مسجد سے اس یقین سے باہر نکل آیا کہ غیب سے مدد آنے والی ھے۔۔۔ وہ خوشی سے اٹھلاتا لمبی لمبی پلانگیں پھیلاتا اپنی ہی سوچوں مستیوں خوابوں خواہشوں میں گم کہ اب وہ بھی عام لوگوں جیسا بن کر خدا کو پیسے دیا کرے گا۔
مگر کسی پکھی واس نوں بھگاۓ گا نہیں بس پناہ دے گا۔۔۔ ہر کسی کو گھر لے کر دے گا۔۔۔ اپنے اور اپنے قبیلے کے بچوں کو پڑھائے گا پڑھاۓ۔۔۔۔ تا کہ وہ خدا کی عبادت کر سکیں۔۔۔ لوگوں کے ھمدرد بن سکیں۔۔۔
رکھو اب اپنی جھونپڑی کے پاس پہنچ چکا تھا ” وہاں رونے کی آوازیں آ رہیں تھیں ۔۔۔ جھگی کے اندر جا کر اس نے دیکھا تو اسکی بہن بشیری مر چکی تھی ۔۔۔۔۔۔
آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے رکھو نے کہا” بشیری تو تھوڑا صبر ہی کر لیتی ۔۔۔ پتہ ہے ” غیب سے امداد آنے ہی والی تھی۔۔۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*