بلوچستان لہو لہو

(تحریر۔محسن علی ساجد)
دِل خون کے آنسو رورہا ہے ۔آنکھیں نَم ہیں ،ایک ہی سوال دِل میں اُبھررہا ہے کہ سانحہ مستونگ میں شہید

Mohsin Ali Sajid

ہونیوالوں کا کیا قصور تھا؟

کہ وہ مُسلمان ،غیور بلوچ اور محب وطن پاکستانی تھے ،صبح کی نماز میں گڑگڑا کر اپنے رب کے حضور دُعا کی کہ اے میرے مالک سانحہ مستونگ میں شہید ہونیوالوں کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرما ۔

آج ہر پاکستانی کی آنکھیں نم اور دِل دُکھی ہے کیونکہ شہید ہونیوالے محب وطن بلوچ ہر مشکل میں پاکستان کیساتھ کھڑے تھے ،نوابزادہ شہید سراج رائیسانی ایک شیر نوجوان جو غیور بلوچ ہونے کیساتھ ساتھ ایک سچا محب وطن تھا جس نے ہر موقع پر دُشمن کو باور کرایا کہ وُہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ اُٹھانیوالوں کو نیست ونابود کردے گا۔نوابزادہ شہید سراج رائیسانی وُہ شیر جوان تھا جس کا باپ شہید،بھائی شہید،بیٹا شہید اور آج خود بھی وطن پر قربان ہوگیا۔شہید کی اکثر سوشل میڈیا پر ویڈیوز دیکھنے کو ملتیں جس میں وُہ ہمیشہ پاکستان اور چٹان صفت مسلح افواج کو خراج عقیدت پیش کرتا ۔شاید دُشمن کو شہید کی یہی محبت برداشت نہ ہوئی اور اُس نے بزدلانہ طریقہ واردات سے نوابزادہ سراج رائیسانی کو شہید کردیا۔لیکن اِے دُشمن سُن لے پوری پاکستانی قوم آج اپنے اِن شہید بلوچوں پر فخرکررہی ہے اور اِن کے لواحقین کیساتھ کھڑی ہے دُشمن کی کوئی چال وطن عزیز کے باسیوں میں دراڑ نہیں ڈال سکتی کیوں کہ ہم مسلمان،پاکستانی پہلے اور بعد میں سندھی ،بلوچی،پنجابی اور پختون ہیں اور ہم سب اِس مادر وطن کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔نوابزادہ سراج رائیسانی شہید کا بڑا فرزند ارجمند نوابزادہ حقمل خان رائیسانی 2011ء میں ایک بم دھماکے میں شہید ہوگیا تھا لیکن اِس شیر دِل بلوچ نوجوان نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور وُہ اپنے فرزند کی شہادت پر ہمیشہ فخر کیا کرتا تھااُس کی نس نس میں پاکستان سے محبت بھری ہوئی تھی۔

سانحہ مستونگ میں 129افراد شہید ہوئے دھماکہ پاکستان کی تاریخ میں ایک بڑا سانحہ تھاجس نے پوری قوم کو غم میں مبتلا کردیا۔سانحہ کئی گھروں کو ویران کر گیا، ایک ہی خاندان کے 13 افراد کی شہادت پر کہرام، دوسرے خاندان کے 7بیٹے منوں مٹی تلے سو گئے۔مستونگ میں قیامت صغریٰ نے کئی گھر اجاڑ دیئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جیتے جاگتے انسان لاشوں میں تبدیل ہوگئے، اندوہناک واقعے نے درجنوں گھروں کے چراغ گل کردیے۔لیکن سلام ہے اِن محب وطن بلوچوں کو جنہوں نے اپنے جوانوں کے جنازے اُٹھانے کے باوجود دُشمن کو پیغام دیا کہ ہم اپنے وطن عزیز پاکستان کیلئے ہر بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار ہیں۔نماز جنازہ کیلئے شہید نوابزاداہ سراج رائیسانی



کی میت کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر موسی اسٹیڈیم لایا گیا جہاں پاک فوج کے دستے نے شہید کی میت کو سلامی پیش کی ۔نماز جناز میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،نگران وزیراعلی ،کمانڈر سدر کمانڈ،صوبائی وزراء سمیت اعلی شخصیات نے شرکت کی ۔شہید نوابزادہ سراج رائیسانی کو شہداء قبرستان کانک میں ان کے والد نواب غوث بخش رئیسانی شہید ،ان کے بڑے بھائی میر اسماعیل رئیسانی شہید اور ان کے بیٹے میر حقمل رئیسانی شہید کے پہلو میں آہو ں اور سسکیوں کیساتھ ہزاروں سوگوران کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نماز جنازہ کے بعدشہید سراج رئیسانی کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور سی ایم ایچ کوئٹہ میں مستونگ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت بھی کی۔آرمی چیف نے سراج رئیسانی کو ’پاکستان کا سپاہی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہید سراج رئیسانی پاکستان کے وہ سپاہی تھے جن کی شہادت سے ہم نے بہادر اور محب وطن پاکستانی کو کھو دیا ہے جسے ہمیشہ پاکستان کے لیے خدمات کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔سپہ سالار نے سراج رئیسانی کے خاندان کی تین نسلوں کی قربانیوں کو بھی تسلیم کیا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہم نے ابھی تک امن کی منزل حاصل نہیں کی لیکن ہم کامیابی سے اپنی منزل کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت قوم ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کے چیلنجز کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ہر صورت میں دشمن قوتوں کو شکست دینگے۔شہداء مستونگ کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور ایک دِن پاکستان چند چُھپے دُشمنوں کو بھی نیست ونابود کردے گا۔آخر میں ایک شعر شہداء مستونگ کے نام
ہمارا خوں بھی شامل ہے تزئین ِ گلستان میں
ہمیں بھی یاد رکھنا چمن میں جب بہار آئے




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*