نواب زادہ میر سراج خان ریئسانی

محمد طیب طاہر
4 اپریل 1963ء کا دن نواب غوث بخش رئیسانی پر خوشی کا پیام بر بن کر اُترا۔ خُدا نے اُن کا چاند صورت نعمت سے نوازا۔ مراد پوری ہو گی۔ فرت مسرت سے سرشار علاقہ بھر میں میٹھائی تقسیم کی گئی۔ بچہ کا نام” سراج خان”  تجویز کیا گیا۔مہر گڑھ ڈسٹرکٹ کراچی میں جنم لینا والا یہ فرذند قسمت کا دھنی نکلا۔
پورا نام” نواب زادہ میر سراج خان رئیسانی” تھا۔ اعلی تعلیم یافتہ یہ نوجوان رہن سہن میں سادگی پسند اورجذبہ حب الوطنی سے سرشار تھا۔ خاندانی رئیس ہونے کے باوجود تکبر سے کوسوں دور، پیسے کو ہاتھ کی میل گردانتا تھا۔ آنکھوں میں ایک ہی سپنا بلوچستان کو متحد رکھتے ہوئے اُس رسی میں پروئے رکھنا ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ اِسی خواب کو آنکھوں میں سجائے دل و جان سے اِس کو پورا کرنے میں جُت گیا۔ وطن سے محبت اور دشمن دیس سے نفرت رگوں میں خون بن کر دوڑتی تھی۔ اندرون سندھ و بلوچستان کے عام سیاسی لیڈروں کے برعکس نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ دیکھنا چاہتا تھا۔ جہاں تک ممکن ہوتا بستی بستی قریہ قریہ جا کر بچوں کو اِس زیور سے آراستہ کرنے کی ترغیب دیتا۔ اُس کے نزدیک پڑھا لکھا نوجوان ہی صحیح معنوں میں ملک و قوم کی خدمت کر سکتا ہے۔ اُس خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکتا ہے جو قائد اعظم اور علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔ جس کے لیے دس لاکھ لوگوں نے اپنی جان کا نذرانہ دیا تھا۔




باپ اور بیٹا پر ایک ہی دُھن سوار تھی۔بلوچستان کو متحد کر کے پاکستان کی وحدت کو سالم رکھا جائے۔ دُشمن کے ارادوں کا اچھی طرح استدراک تھا۔ دُشمن کے مضموم مقاصد کو روکنے کے لیے ضروری تھا۔۔ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے جہاں سب بلوچ پارٹیوں کے رہنما شریک ہوں ۔۔اِس عزم کو لیے 1970ء میں بلوچستان متحدہ محاذ کی بنیاد ڈال کر بلوچ عوام کو ایک پلیٹ فارم متحد کرنےکا آغاذ کیا گیا۔ باپ کے چلے جانے کے بعد اِس ذمہ داری کو نواب سراج خان نے بحسن و خوش اسلوبی سے نبھایا۔ یہی وجہ تھی کہ دشمن کی آنکھ میں ڈلی چِھلتر بن کر چبھن کا سامان چھبن پیدا کرتے رہے۔ جولائی 2011ء میں ایک جگہ سے واپسی پر گرینیڈ کی مدد سے جان لیوا حملہ کیا گیا۔ جس کے اندر نوجوان بیٹا حکمل رئیسانی باپ کا ساتھ چھوڑ کر دارِ فانی سے دارِ بقا کو کوچ کر گیا۔
جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے بچے کا داغ مفارقت باپ کے قدموں میں لغزش نا پیدا کر سکا۔ عزم و اراداہ اور مضبوط ہو گیا۔بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے اپنی پارٹی بنا کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ 5 فٹ دس انچ کا یہ وجیہہ صورت انسان دیکھتے ہی دیکھتے عوام کے دلوں پر راج کرنے لگا۔ عوام جوق در جوق بات سننے کو آنے لگے۔ لوگ مسائل لے کر آتے اور یہ خندہ پیشانی سے نا صرف بات سنتے بلکہ مسئلہ کرنے کی حتی المقدور کوشش کرتے۔ بڑائی اللہ پاک کی ذات کو زیب دیتی ہے۔ گاڑیاں موجود ہونے کے باوجود موٹر سائیکل پر سوار جہاں کوئی مسئلہ ہوتا پہنچ جاتے۔ بلوچستان کی گرم ریتیلی زمین پر چادر بچھائے گھنٹہ بھر لوگوں کے مسائل سنتے رہتے۔ اِسی طرح کے ایک عوامی جلسہ میں عوام کی جلو میں خودکش حملے میں زخمی ہو گئے۔ تشویش ناک حالت میں ہاسپٹل لاتے ہوئے بلوچ عوام کے ہر دلعزیز رہنما ملک رہ عدم ہو گیا۔ لیڈر نے جیتے جی عوام کا ساتھ نا چھوڑا، تو عوام نے بھی مرتے وقت اپنے لیڈر کو تنہاء نہیں چھوڑا۔ 189 بندے جام شہادت نوش کر گئے۔
نیشنل کاونٹر ٹیراریزم اتھارٹی( NACTA) نے 6 نام اداروں کو بھیجوائے تھے جن پر حملہ کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اُن میں سے ایک نام میر سراج خان رئیسانی کا بھی تھا۔ حملے کے بعد سرچ آپریشن میں 2 مشکوک افراد پکڑئے گئے۔ جن سے تفشیش کے بعد یہ عقدہ کھلا اِس دراندازی کے دندانے افغانستان سے ملے ہوئے ہیں۔ خودکش بمبار افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوا اور دو دن چاغی میں رہا۔ حملہ کی ذمہ داری اسلامک سٹیٹ آف عراق اینڈ دی لیونٹ نے قبول کر لی۔ اِن کی نیوز ایجنسی “عماق”  پر باقاعدہ خودکش بمبار کی تصاویر جاری کی گئی۔ جس کو ابوبکر الباکستانی کا فرضی نام دیا گیا۔
ذمہ داری کوئی بھی قبول کرئے۔جانے والے چلے گئے۔ ہم نے بہت قیمتی شخص اپنے ہاتھوں گنوا دیا۔ مجوزہ حملہ کی رپورٹ مل جانے کے باوجود ہمارے ادارے مجرمانہ غفلت کا شکار رہے۔ سب سے گندا و بھیانک کردار میڈیا والوں نے ادا کیا۔ ایک سزا یافتہ مجرم کی کوریج سارا دن کرتے رہے۔ فرض کفایہ کے طور پر چند مرتبہ اِس خونکچاں حملہ کا تذکرہ کر کے اپنے آپ کو بری الذمہ کر لیا۔
وہ ایک محب وطن لیڈر نا بھی ہوتا۔ بلوچستان جیسے علاقہ میں سیاسی کرئیر شروع کرنا ہی کسیی ہمالیہ کو سر کرنے سے کم نہیں تھا۔ بحثیت قوم ہمیں اپنے گریبان جھانکنے ہوں گِے۔ ہم کیا کر رہے ہیں ۔ ۔ ؟؟ کیا کرنا چاہیے تھا ۔ ۔ ؟؟ ایسا نا ہو کہ زبانی جمع خرچ والوں اپنا لیڈر تسلیم کر کے بعد میں ہاتھ ملتے رہ جائیں۔ پھر کوئی ہم سے کہے ۔ ۔ “اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئی کھیت۔ “




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*