تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی

حماداللہ بہلوی
Email: hbehlvi@gmail.com

تاریخِ اسلام کا کتنا عبرت ناک منظر تھا کہ جب عباسی خلیفہ معتصم آھنی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان کے سامنے کھڑا تھا..!۔کھانے کا وقت آیا تو ہلاکو خان نے خود سادہ برتن میں کھانا کھایا اورخلیفہ کے سامنے سونے کی طشتریوں میں ہیرے،جواھرات رکھ دیئے …!
پھر معتصم سے کہا!
جو سونا، چاندی تم جمع کرتے تھے اْسے ہی کھاؤ،…..!
بغداد کا تاج دار بے چارگی و بے بسی کی تصویر بنا کھڑا تھا بولا! میں سونا کیسے کھاؤں…؟ہلاکو نے فوراً کہا۔
پھر تم نے یہ سونا اور چاندی جمع کیوں کیا تھا…؟
وہ مسلمان جسے اْسکا دین ہتھیار بنانے اور گھوڑے پالنے کیلئے ترغیب دیتا تھا کچھ جواب نہ دے سکا۔
ہلاکو خان نے نظریں گھماکر محل کی جالیاں اور مضبوط دروازے دیکھے اور سوال کیا کہ تم نے اِن جالیوں کو پگھلا کر آھنی تیر کیوں نہ بنائے؟
تم نے یہ جواھرات جمع کرنیکی بجائے اپنے سپاھیوں کو رقم کیوں نہ دی تاکہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری افواج کا مقابلہ کرتے؟
خلیفہ نے تاسف سے جواب دیا
اللہ کی یہی مرضی تھی۔
ھلاکو نے کڑک دار لہجے میں کہا کہ پھر جو تمہارے ساتھ ھونے والا ہے وہ بھی خدا ہی کی مرضی ھو گی
پھر ھلاکو خان نے معتصم باللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا اور بغداد کو قبرستان بنا ڈالا.!



ہلاکو نے کہا!
آج میں نے بغداد کو صفحہ ھستی سے مٹا ڈالا ھے اور اب دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکتی۔ اور تاریخ میں ایسا ھی ھوا۔۔!
تاریخ تو فتوحات گنتی ہے محل، لباس، ھیرے جواھرات اور انواع و اقسام کے لذیذ کھانے نہیں..!
تصور کریں جب یورپ کے چپے چپے پر تجربہ گاھیں اور تحقیقی مراکز قائم ھو رھے تھے تب یہاں ایک شہنشاہ دولت کا سہارا لیکر اپنی محبوبہ کی یاد میں “تاج محل” تعمیر کروا رھا تھا اور اسی دوران برطانیہ کا بادشاہ اپنی ملکہ کے دورانِ ڈلیوری فوت ھو جانے پر تحقیق کے لئے برطانیہ میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل اسکول بنوا رھا تھا..!!۔جب مغرب میں علوم و فنون کے بم پھٹ رھے تھے،تب یہاں “تان سین” جیسے گوئیے نت نئے راگ ایجاد کر رھے تھے اور نوخیز خوبصورت و پر کشش رقاصائیں شاھی درباروں کی زینت و شان اور وی.آئی. پیز تھیں..!
جب انگریزوں، فرانسیسیوں اور پرتگالیوں کے بحری بیڑے برصغیر کے دروازوں پر دستک دے رھے تھے تب ھمارے اَربابِ اختیار شراب و کباب اور چنگ و رباب سے مدھوش پڑے تھے..!
تن آسانی، عیش کوشی اور عیش پسندی نے کہیں کا نہیں چھوڑا ہمارا بوسیدہ اور دیمک زدہ نظام پھیلتا چلا گیا..!۔کیونکہ تاریخ کو اِس بات سے کوئی غرض نہیں ھوتی کہ، حکمرانوں کی تجوریاں بھری ھیں یا خالی؟شہنشاھوں کے تاج میں ھیرے جڑے ھیں یا نہیں؟۔

درباروں میں خوشامدیوں، مراثیوں، طبلہ نوازوں طوائفوں، وظیفہ خوار شاعروں اور جی حضوریوں کا جھرمٹ ھے یا نہیں؟۔تاریخ کو صرف کامیابیوں سے غرض ھوتی ھے۔ اور تاریخ کبھی، عذر قبول نہیں کرتی.. !
ہمارے بعض نادان دوست کہتے ہم افواج پر اتنا بجٹ کیوں لگا رہے ہیں.میرے بھائیو یہ قیمت آزادی کے لیے بہت کم ہے ،اگر شک ہے تو روہنگیا،کشمیر،افغانستان، چیچنیا،بوسنیا، لیبیا، سیریااور فلسطین کے محکوم مسلمانوں سے پوچھ لو..؟




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*