عام انتخابات اور تیاریاں

(تحریر۔محسن علی ساجد)
وطن عزیز ہمارے پاس پُرکھوں کی امانت ہے جن کی قربانیوں کے باعث آج ہم ایک آزاد وطن میں سانس لے رہے ہیں۔یہ وطن ،یہ خطہ فردوس بریں،یہ نور کا مسکن ہمیں بڑی قربانیوں کے بعد ملا ہے ۔آج ہمیں جو آزادی اور

Mohsin Ali Sajid

آسائشیں میسر ہیں اِس کے پیچھے لاکھوں شہادتیں ہیں ،وطن عزیزپاکستان جب معرض وجود میں آرہا تھا تو لاکھوں مُسلمان اپنے گھر بار ،کاروبار،زمینیں ،جائیدادیں چھوڑ کر بھارت کی جانب سے پاکستان کی جانب ہجرت کررہے تھے اور اُن کی زباں پر ایک ہی نعرہ تھا لے کے رہیں گے پاکستان ،بن کے رہے گا پاکستان۔وطن عزیز میں جمہوریت کے کئی ادوار آئے اور کبھی آمریت نے قدم جمائے یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے جمہوریت کا پودا بھرپور نشونما پارہا ہے جمہوری حکومتوں کے دوادوار مکمل ہوچکے ہیں اور تیسرے مرحلے کے لیے اقدامات جاری ہیں عنقریب یہ مرحلہ بھی احسن طریقہ سے مکمل ہوگا۔عام انتخابات کے قریب آتے ہی دہشتگردی کی لہر نے زور پکڑلیا،پشاور،بنوں،مستونگ میں پے درپے واقعات نے حالات کو یکسر تبدیل کیالیکن اس کے باوجود نگران حکومت عام انتخابات کو مقررہ وقت پر کرانے کیلئے مکمل کوششیں بروئے کار لارہی ہے۔اِس عمل میں پاکستان کی چٹان صفت مسلح افواج بھی اپنا کرداراداکررہی ہیں۔گزشتہ روز چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر)سردار محمد رضا خان کی زیر صدارت ان کے چیمبر میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال ،انتخابی امیدواروں کو سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔



اجلاس میں نیکٹا کوارڈینٹر ڈاکٹر محمد سلیمان خان نے الیکشن کمیشن کو سیکیورٹی خدشات اور ملک میں سیکیورٹی کی مجموعی صورت حال پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں ملک میں تازہ دہشت گرد حملوں کی پرزور مذمت کی گئی اورمستونگ کے متاثرہ خاندانوں کیساتھ اظہار افسوس کیا گیا ۔اس موقع پر ملک میں مختلف سیاسی شخصیات اور مقامات پر سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔نیکٹا کوارڈنیٹر کی جانب سے تفصیلی بریفنگ کے بعد الیکشن کمیشن نے متفقہ طور پراس عزم کا اظہار کیا کہ انتخابی عمل ہر حال میں جاری رہے گا۔ اس سلسلے میں عوام کو کسی بھی مایوسی سے نکلنا چاہیے۔الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کے اس قومی فریضے کواحسن طریقے سے سرانجام دینے کیلئے تمام اداروں کو باہمی روابط اور تعاون بڑھانے پر زور دیا اور اداروں کو مل کرکام کرنے کا مشورہ دیا۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیاں آپس میں روابط اور مقامی سطح پر انتظامیہ کے ساتھ کوارڈنیشن اور معلومات کا تبادلہ فوری اور بہتر بنائیں۔الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایات جاری کیں کہ اداروں کیساتھ مل کر سیکیورٹی صورتحال کا باریکی سے جائزہ لے کر لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔ انتخابات کو پرامن بنانے کیلئے تمام عوام اور سیاسی پارٹیاں آپس میں تعاون جاری رکھیں۔ نیکٹا کو بھی ہدایت کی گئی کہ الیکشن کمیشن کو تازہ ترین تجزیوں سے مسلسل آگاہ رکھیں۔ اس موقع پر نیکٹا کوآرڈنیٹر ڈاکٹر سلیمان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات 2018 کو کوئی سنجیدہ خطرہ نہیں ، انتخابات 25 جولائی کو ہی ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کو پرامن بنانے کیلئے کوششیں کررہے ہیں، سیکیورٹی خدشات سے متعلق الرٹس باقاعدہ صوبائی حکومتوں کو بھجوائے جاتے ہیں۔ ملکی اداروں کی جانب سے عام انتخابات کیلئے تیاریاں قابل تحسین ہیں ،نگران حکومت بھی اداروں سے مسلسل تعاون جاری رکھے ہوئے ہے،تمام سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ اپنی انتخابی مہم کیساتھ ساتھ غیراخلاقی زبان سے گریز کیا جائے ،تنقید ضرور کرنی چاہیے لیکن اخلاقی دائرہ کے اندر اندر کیونکہ اب ووٹ تو اُسے ہی ملے گا جس نے عوام کیلئے کچھ کیا ہوگا کیونکہ دو جمہوری ادوار کے بعد اب عوام میں بھی باشعور ہے اور اِسے ادراک ہے کہ کسے ووٹ دینا ہوگا اور کِسے نہیں۔دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار انتخابی عملے سے حلف لینے کا فیصلہ کیا ہے۔الیکشن کمیشن نے پولنگ عملے کیلئے ہدایات جاری کردیں ہیں جس کے مطابق پولنگ شروع ہونے سے قبل پریزائیڈنگ افسران ہر ضلع کے ریٹرنگ افسر سے عہدے کا حلف لیا جائے گا۔پریزائیڈنگ آفیسر پولنگ کے باقی عملہ سے حلف لیں گے۔ پولنگ عملے کو امیدوار کی جانب سے مالی معاونت یا تحفے کو رشوت تصور کیا جائے گا جب کہ پولنگ عملے پر فرائض کی ادائیگی کے دوران سیاسی رائے کے اظہار پر بھی پابندی ہوگی۔پولنگ اسٹیشنز پر موبائل فون لے جانے پربھی پابندی عائد ہوگی۔الیکشن کمیشن کے مطابق موبائل فون کی پابندی کا مراسلہ صوبائی الیکشن کمشنر ز کو بھیج دیا گیا ہے۔اُمید ہے جمہوریت کا یہ مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے مکمل ہوگا۔اب ضرورت ہے تو اتحاد کی اتفاق کی کیونکہ یہ وطن ہے تو ہم ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*