پُر خطر انتخابات

ڈی بریفنگ؍شمشاد مانگٹ
چار دن بعد ہونیوالے الیکشن بہت ہی پر خطر قرار دیئے جا رہے ہیں۔ دہشتگرد اب تک تقریباً اڑھائی سو عام آدمیوں کے علاوہ دو اہم ترین سیاسی شخصیات کو کامیابی سے ٹارگٹ کر کے ان انتخابات کو لہو لہو کر چکے ہیں۔ 25جولائی 2018ء کے انتخابات کے پہلے شہید ہارون بلور تھے اور اس کے بعد گزشتہ جمعہ کو پہلے سابق وفاقی وزیر اکرم درانی کو ٹارگٹ کیا گیا لیکن وہ بال بال بچ گئے مگر دہشتگرد بلوچستان میں سراج رئیسانی سمیت تقریباً 150افراد کو شہید کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
ملک و قوم کو کئی بار بتایا گیا ہے کہ دہشتگردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے لیکن پھر اچانک دہشتگرد ایسے خوفناک حملے کرتے ہیں کہ حکومت کی کمر کے ’’مہرے‘‘ ہل جاتے ہیں اور اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ اب دوبارہ دہشتگردوں کی کمر کس طرح توڑی جائے؟
پاکستان میں دہشتگردی بالکل اسی طرح ہے جیسے انگلش فلموں میں ایسی غیر مرئی قوت دکھائی جاتی ہے جسکو نیکی کی علامت ہیرو اپنے تئیں مار دیتا ہے لیکن کچھ ہی دیر بعد اس بدی کی قوت میں دوبارہ ’’بدروح‘‘ اتر آتی ہے اور وہ پھر سے معصوم لوگوں کی زندگی اجیرن کر دیتی ہے ۔ دو اڑھائی گھنٹے کی اس فلم کا قابل اطمینان پہلو یہ ہوتا ہے کہ آخر کار ہیرو اس بدی کی قوت کو جہنم واصل کر کے سینما شائقین اور ’’لٹی پٹی‘‘ ہیروئن سے داد حاصل کر لیتا ہے اور



پھر وہ ہنسی خوشی زندگی گزارنے کا پیغام دیکر پردہ سکرین سے غائب ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کے پردہ سکرین پر دہشت گردی کی خوفناک فلم کی گزشتہ 30سال سے ’’شاندار‘‘ نمائش جاری ہے اور اب دہشتگردی کے ہر’’شو‘‘ میں پہلے سے زیادہ لوگ زندگی کی بازی ہارنے لگے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق ہو یا پھر کوئی جمہوری حکمران ہو اور یا پھر جنرل پرویز مشرف ہوں ہر کوئی یہی کہتا رہا ہے کہ دہشتگردی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے لیکن پھر قوم نے دیکھا کہ معمولی وقفے کے بعد اس عفریت نے دوبارہ طاقت پکڑ لی اور ہزاروں لوگوں کو نگل گیا۔
تقریباً ایک ماہ پہلے قومی سلامتی کے ادارے اور حکومت یہ خبر دے رہے تھے کہ بچے کچھے دہشتگرد بھی مار دیئے گئے ہیں اور افغانستان سے جب ڈرون حملے میں ملا فضل اللہ کے مارے جانے کی اطلاع آئی تو قومی اداروں سمیت عوام نے بھی یہی خیال کیا کہ اب دہشتگرد سر نہیں اٹھا سکیں گے۔ لیکن گزشتہ15دن میں ہونیوالے دہشتگردی کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ دہشتگردوں نے نہ صرف دوبارہ سر اٹھا لیا ہے بلکہ پاکستانی قوم اپنے پیاروں کے سراور لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئی ہے۔
قومی سطح پر سیاستدان دہشتگردی کے حالیہ واقعات کو کلبھوشن نیٹ ورک کا حصہ خیال کرتے ہیں اور عمران خان نے اس پر سوال اٹھایا ہے کہ ہر اس اہم موڑ پر دہشتگردی کے واقعات کیوں شروع ہو جاتے ہیں جب میاں نواز شریف پر مشکل آتی ہے؟




قومی اداروں کو اسکی وجوہات تلاش کرنا چاہیئں۔
تازہ دہشتگردی کے واقعات بارے نیکٹا نے جو سکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے سینئر ترین سیاستدانوںمیں میاں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صٖدر کے سوا باقی سب غیر محفوظ ہیں۔ شریف خاندان کو احتساب عدالت کا مشکو رہونا چاہیئے کہ ایسے لہو رنگ الیکشن کے موقع پر نہ صرف انہیں الیکشن سے محفوظ کر دیا ہے بلکہ اڈیالہ جیل کی چار دیواری میں بھیج کر دہشتگردوں سے چادر اور چار دیواری کا تحفظ بھی یقینی بنا دیا ہے۔ نیکٹا نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، اسد عمر، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سمیت 65اہم سیاستدان دہشتگردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں اور یہ کہ دہشتگرد پولنگ سٹیشنز پر حملے بھی کر سکتے ہیں۔
نیکٹا کے مطابق دہشتگردی کا زیادہ خطرہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور داعش سے ہے۔ نگران حکومت اگرچہ اپنی طبعی عمر پوری کر چکی ہے اور اس نگران حکومت کو تاریخ کی بدترین ’’تھکی‘‘ ہوئی حکومت قرار دیا جا رہا ہے مگر یہ سوال اپنی جگہ زیادہ اہم ہے کہ دہشتگردوں کی نئے سرے سے کمر توڑنے کے لئے قومی سلامتی کے اداروں نے تازہ ترین اقدامات کیا کئے ہیں؟ کیونکہ ہمارے قومی سلامتی کے اداروں کو بھی اب یہ معلوم ہو چکا ہے کہ دہشتگردی کے تمام نیٹ ورکس کو پاکستان کے اندر سے سہولتیں مل رہی ہیں اور ہمارے ادارے کئی سیاسی اور قومی مجبوریوں کے پیش نظر سہولت کاروں کو نامزد کرنے سے بھی ’’کترا ‘‘ رہے ہیں۔
اگر ملک میں امن ہی نہ رہے تو بھوک ، پیاس مٹانے کے نعرے بے معنی ہو جاتے ہیں۔30سال سے جاری دہشتگردی کو ابدی نیند سلانے کے لئے اب ہمارے ہیروز کو اسکو جڑوں سے اکھاڑنا ہو گا وگرنہ اب اس دعوے پر کوئی یقین نہیں کرے گا کہ دہشتگردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*